تحریر:محمد محسن اقبال
اللہ رب العزت نے اپنی بے پایاں رحمت اور حکمت کے تحت ہمارے جدِّ امجد حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت حوّا علیہا السلام کو اس خاکی دنیا میں اتارا، تاکہ نسلِ انسانی کا آغاز ہو اور تہذیب و تمدن کی داستان آگے بڑھے۔ مگر انسان کو کبھی بے راہ و بے سمت نہیں چھوڑا گیا۔ ہر دور میں اللہ تعالیٰ نے اپنی مقدس کتابوں کے ذریعے آسمانی ہدایت نازل فرمائی اور اپنے برگزیدہ پیغمبروں کو مبعوث کیا، تاکہ انسانیت کو صراطِ مستقیم کی طرف رہنمائی ملتی رہے۔ حضرت نوح علیہ السلام سے حضرت ابراہیم علیہ السلام تک، حضرت موسیٰ علیہ السلام سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام تک، تمام انبیائے کرام علیہم السلام نے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور اس کے ابدی سچ کی گواہی دی۔ تاہم جب خاتم النبیین، حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ تشریف لائے تو سلسلۂ نبوت اپنی تکمیل اور کمال کو پہنچ گیا۔
آپ ﷺ پر آخری آسمانی کتاب، قرآنِ مجید نازل فرمائی گئی، جو تمام انسانوں اور تمام زمانوں کے لیے ہدایت کا سرچشمہ ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: “یہ وہ کتاب ہے جس میں کوئی شک نہیں، پرہیزگاروں کے لیے ہدایت ہے۔” (البقرہ: 2) اور ایک دوسرے مقام پر ارشاد ہوتا ہے: “اور ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت ہی بنا کر بھیجا ہے۔” (الانبیاء: 107)
یہ رحمت صرف مسلمانوں تک محدود نہ تھی؛ بلکہ اس کی وسعت ایک ایسے لازوال سمندر کی مانند تھی جس میں تمام مخلوقات سمٹ آتی ہیں—انسان ہو یا حیوان، مومن ہو یا غیر مومن، زمین ہو یا آسمان، سب اس رحمت کے دائرے میں آتے ہیں۔
رسول اکرم ﷺ کا کردار قرآنِ مجید کی جیتی جاگتی تصویر تھا۔ آپ ﷺ کے اقوال و افعال انسانیت کے لیے بہترین نمونہ بن گئے۔ قرآنِ حکیم گواہی دیتا ہے: “بے شک تمہارے لیے رسول اللہ ﷺ کی ذات میں بہترین نمونہ ہے، ہر اس شخص کے لیے جو اللہ اور یومِ آخرت کی امید رکھتا ہے اور اللہ کو کثرت سے یاد کرتا ہے۔” (الاحزاب: 21)
آپ ﷺ کی عاجزی بے مثال تھی، عدل اٹل تھا اور شفقت کی کوئی انتہا نہ تھی۔ خود ارشاد فرمایا: “مجھے صرف اس لیے بھیجا گیا ہے کہ میں مکارمِ اخلاق کی تکمیل کر دوں۔” (مسند احمد)
جزیرۂ عرب کے ریگزاروں سے اٹھنے والی یہ آواز دیکھتے ہی دیکھتے براعظموں تک جا پہنچی اور اس نے تاریخ کے دھارے کا رخ بدل دیا۔ شعراء، اہلِ علم اور مفکرین—خواہ مسلمان ہوں یا غیر مسلم—اس عظیم شخصیت کے ذکر پر قلم اٹھانے پر مجبور ہوئے جس نے اقوام کی تقدیر بدل دی۔ ہر زبان اور ہر عہد میں آپ ﷺ کی مدح و ثنا میں بے شمار کتابیں لکھی گئیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ آپ ﷺ کی عظمت آج بھی قلم کی گرفت اور زبان کی رسائی سے کہیں بلند ہے۔
فرانسیسی شاعر اور سیاست دان الفونس دے لامارتین نے اعتراف کیا کہ فلسفی، خطیب، رسول، قانون ساز، سپہ سالار، فاتحِ افکار، بیس زمینی سلطنتوں اور ایک روحانی سلطنت کے بانی—یہ سب محمد ﷺ کی ذات میں جمع تھے۔ پھر اس نے انسانی عظمت کے تمام پیمانوں کو سامنے رکھتے ہوئے سوال اٹھایا کہ کیا کوئی انسان ان سے بڑھ کر عظیم بھی ہو سکتا ہے؟
اسکاٹ لینڈ کے معروف عالم ولیم مونٹگمری واٹ نے رسول اکرم ﷺ کی راست بازی اور کردار کی عظمت کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ اپنے عقائد کی خاطر اذیتیں برداشت کرنے کی آمادگی، آپ ﷺ پر ایمان لانے والے اصحاب کا بلند اخلاق، ان کا آپ ﷺ کو قائد ماننا، اور آپ ﷺ کی عظیم الشان کامیابی—یہ سب آپ ﷺ کی بنیادی راست بازی اور صداقت کی روشن دلیل ہیں۔
معروف آئرش ادیب جارج برنارڈ شا نے اپنی برجستہ بصیرت کے ساتھ آپ ﷺ کو انسانیت کا نجات دہندہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر آپ ﷺ جیسا شخص جدید دنیا کی قیادت سنبھال لے تو وہ اس کے مسائل حل کرنے اور دنیا میں امن و خوشی لانے میں کامیاب ہو جائے۔
عظیم انگریز مفکر تھامس کارلائل نے حیرت سے لکھا کہ کس طرح ایک تنہا انسان نے محض دو دہائیوں سے بھی کم عرصے میں باہم برسرِ پیکار قبائل اور بدوؤں کو جوڑ کر ایک طاقتور اور مہذب قوم بنا دیا۔ وہ ایک خاموش مگر عظیم روح تھے، ایسی ہستی جو اخلاص اور سنجیدگی کے بغیر رہ ہی نہیں سکتی تھی۔ وہ دنیا کو روشن کرنے کے لیے آئے تھے۔
روسی مفکر لیو ٹالسٹائی نے بھی اعتراف کیا کہ حضرت محمد ﷺ ان عظیم مصلحین میں سے ہیں جنہوں نے معاشرتی نظام پر گہرا اثر ڈالا۔ آپ ﷺ نے ایک پوری قوم کو حقیقت کی روشنی سے آشنا کیا اور اس کے لیے ترقی اور تہذیب کے دروازے وسیع پیمانے پر کھول دیے۔
اگرچہ مہاتما گاندھی کا تعلق ایک مختلف مذہبی روایت سے تھا، تاہم وہ بھی آپ ﷺ کی عظمت سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔ انہوں نے اس حقیقت کی طرف اشارہ کیا کہ اسلام کی کامیابی محض تلوار کی مرہونِ منت نہ تھی؛ بلکہ اس کے پیچھے رسول اکرم ﷺ کی سادگی، بے نفسی، عہد و پیمان کی غیر معمولی پاسداری، اخلاص، بے خوفی، اللہ تعالیٰ پر کامل بھروسا اور اپنے مشن پر غیر متزلزل یقین کارفرما تھا۔
اینی بیسنٹ نے بھی رسول عربی ﷺ کی سیرت کا مطالعہ کرنے کے بعد اعتراف کیا کہ جو شخص عرب کے اس عظیم پیغمبر کی زندگی اور کردار کا گہرا مطالعہ کرے، اس کے دل میں اس عظیم ہستی کے لیے احترام و عقیدت کے سوا کوئی جذبہ باقی نہیں رہ سکتا۔
انگریز مؤرخ ایڈورڈ گبن نے تسلیم کیا کہ محمد ﷺ کی زندگی کی سب سے بڑی کامیابی تلوار کے وار کے بغیر محض اخلاقی قوت کے ذریعے حاصل ہوئی۔ ریورنڈ بوس ورتھ اسمتھ نے آپ ﷺ کو ایک ہی ذات میں قیصر اور پوپ قرار دیا، مگر اس فرق کے ساتھ کہ آپ ﷺ پوپ تھے مگر پوپ کے تکبر و دعووں کے بغیر، اور قیصر تھے مگر قیصر کے لشکروں کے بغیر۔
جرمن نابغۂ روزگار یوہان وولف گانگ فان گوئٹے نے آپ ﷺ کو “انسانیت کا ہیرو” قرار دیا، جن کی زندگی ایک لازوال اور عظیم الشان دریا کی مانند بہتی رہی۔ معروف مستشرق اور عالمہ انّے میری شمل نے لکھا کہ نبی کریم ﷺ ہمیشہ کے لیے ایک “حسین نمونہ” ہیں اور آپ ﷺ کی محبت آپ ﷺ کی امت کی رگوں میں خون کی طرح دوڑتی ہے۔
مائیکل ایچ ہارٹ نے تاریخ کی سب سے زیادہ بااثر شخصیات کی فہرست میں رسول اکرم ﷺ کو پہلے نمبر پر رکھا اور لکھا کہ تاریخ میں آپ ﷺ وہ واحد شخصیت ہیں جو مذہبی اور دنیوی، دونوں میدانوں میں غیر معمولی طور پر کامیاب ہوئیں۔
واشنگٹن ارونگ نے آپ ﷺ میں سادگی، وقار اور متانت کی ایسی تصویر دیکھی جو عام لوگوں کے دلوں میں بے پناہ محبت پیدا کرتی تھی۔ جبکہ سر تھامس آرنلڈ نے آپ ﷺ کے پیغام کو ایسے واضح اور سادہ عقیدے سے تعبیر کیا جو پیچیدگیوں سے پاک تھا اور اسی لیے براہِ راست انسان کے دل میں اتر جاتا تھا۔
یوں وحی کی روشنی ہو یا تاریخ کی گواہی، اولیاء و صلحاء کے تاثرات ہوں یا اہلِ علم کے اعترافات—سب ایک ہی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں: رسول اللہ ﷺ وہ نور تھے جنہوں نے تاریکیوں میں روشنی پھیلائی۔
قرآنِ مجید خود اس حقیقت کا اعلان کرتا ہے:
اے نبی! بے شک ہم نے آپ کو گواہی دینے والا، خوشخبری سنانے والا، ڈرانے والا، اللہ کے حکم سے اس کی طرف بلانے والا اور ایک روشن چراغ بنا کر بھیجا ہے۔
(الاحزاب: 45-46)
آپ ﷺ کے ساتھ نبوت کا سلسلہ مکمل اور مہرِ نبوت ثبت ہو گئی، مگر آپ ﷺ کا نور آج بھی پوری آب و تاب کے ساتھ روشن ہے اور آپ ﷺ کا اسوۂ حسنہ ہمیشہ کے لیے زندہ ہے۔ آپ ﷺ کے نقشِ قدم آج بھی اہلِ ایمان کی دعاؤں میں سنائی دیتے ہیں، میناروں سے بلند ہونے والی اذان میں گونجتے ہیں اور ہر مسلمان کے دل کی دھڑکن میں محسوس ہوتے ہیں۔
آپ ﷺ تھے بھی، ہیں بھی اور قیامت تک رحمت للعالمین رہیں گے۔ کوئی قلم آپ ﷺ کی پوری عظمت کو محیط نہیں ہو سکتا، کوئی زبان آپ ﷺ کی مکمل مدح بیان نہیں کر سکتی۔ محبتِ رسول ﷺ کا یہ چراغ صدیوں سے روشن ہے اور قیامت تک روشن رہے گا۔
اور پھر لامارتین کا وہی سوال تاریخ کے افق پر ایک ابدی صدا بن کر ابھرتا ہے—انسانی عظمت کے ہر پیمانے کو سامنے رکھ کر بتائیے، کیا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ سے بڑھ کر بھی کوئی انسان عظیم ہو سکتا ہے؟
