ادیس ابابا : ایتھوپیا میں قومی مکالمے کا چار سالہ عمل پانچ ہفتوں پر مشتمل قومی کانفرنس کے اختتام کے ساتھ مکمل ہوگیا، جس کا مقصد ملک میں طویل عرصے سے جاری سیاسی تقسیم، تاریخی اختلافات اور ساختی مسائل کے حل کے لیے قومی اتفاقِ رائے اور پائیدار امن کی راہ ہموار کرنا تھا۔
قومی مکالمہ کانفرنس کا باقاعدہ آغاز 15 جولائی 2026 کو دارالحکومت ادیس ابابا میں ہوا، جس میں علاقائی ریاستوں، سیاسی جماعتوں، سول سوسائٹی، مذہبی اداروں، پیشہ ور تنظیموں، روایتی قیادت، نوجوانوں اور خواتین کے نمائندوں سمیت ایتھوپیا کے تارکینِ وطن پر مشتمل تقریباً 4 ہزار مندوبین نے شرکت کی۔
پانچ ہفتوں کی تفصیلی مشاورت اور بحث کے بعد کانفرنس 22 اگست کو اختتام پذیر ہوئی، جس کے دوران ملک کے مستقبل کی حکمرانی، قومی شناخت، سیاسی نظام اور سماجی ہم آہنگی سے متعلق اہم امور پر غور کیا گیا۔
قومی مکالمے کا مقصد ایتھوپیا کو محاذ آرائی اور ’’زیرو سم‘‘ سیاست سے نکال کر پرامن سیاسی رابطے، مفاہمت، سمجھوتے اور قومی اتفاقِ رائے کی جانب لے جانا تھا۔ اس عمل کے تحت تاریخی بیانیوں، آئین، وفاقی نظام، اختیارات کی تقسیم اور حکمرانی سمیت مختلف اہم قومی معاملات پر اختلافات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی گئی۔
ایتھوپین نیشنل ڈائیلاگ کمیشن (ENDC) کو 29 دسمبر 2021 کو قانون نمبر 1265/2021 کے تحت ایک آزاد عوامی ادارے کے طور پر قائم کیا گیا تھا۔ کمیشن کو جامع اور عوامی شمولیت پر مبنی عمل کے ذریعے قومی اتفاقِ رائے، پائیدار امن اور مفاہمت کے فروغ کی ذمہ داری سونپی گئی۔
ایتھوپیا کے قومی مکالمے کو ایک ’’مقامی اور مقامی روایات پر مبنی‘‘ عمل قرار دیا گیا، جس میں ملک کے روایتی اداروں، مقامی علم اور ثقافتی اقدار کو اہمیت دی گئی۔
قومی مکالمے کا ایجنڈا نچلی سطح سے تیار کیا گیا۔ اس عمل کا آغاز مقامی اور ووریدا سطح پر مشاورت سے ہوا، جس کے بعد علاقائی اور تارکینِ وطن سے مشاورت کی گئی اور پھر وفاقی سطح پر قومی ایجنڈا اور مرکزی کانفرنس منعقد ہوئی۔
ملک بھر میں کسانوں، بزرگوں، خواتین، نوجوانوں اور مختلف کمیونٹی گروپس سے آراء حاصل کی گئیں۔ بیرونِ ملک مقیم ایتھوپیائی باشندوں کو بھی عمل کا حصہ بنایا گیا اور امریکا، کینیڈا، برطانیہ، سویڈن اور متحدہ عرب امارات سمیت مختلف ممالک میں مشاورتی اجلاس منعقد کیے گئے۔
مرکزی کانفرنس کے دوران مندوبین کو آٹھ موضوعاتی اسمبلیوں میں تقسیم کیا گیا، جن میں ہر اسمبلی میں تقریباً 500 افراد شامل تھے۔ مزید مؤثر اور بامعنی بحث کے لیے چھوٹے گروپس تشکیل دیے گئے، جہاں مختلف آراء پر تفصیلی غور کے بعد سفارشات مرتب کی گئیں۔
قومی مکالمے کے آٹھ بنیادی موضوعات میں قومی شناخت اور ریاست سازی، حکومتی ڈھانچہ اور وفاقی نظام، اختیارات کی تقسیم، ادیس ابابا اور ڈائرے داوا کی حیثیت و انتظام، مذہبی امور اور بین المذاہب ہم آہنگی، ادارہ سازی، قانون کی حکمرانی اور انسانی حقوق، عبوری انصاف اور سماجی و معاشی معاملات شامل تھے۔
ایتھوپیا کی حکومت نے قومی مکالمے کی سفارشات کا جائزہ لینے اور انہیں عملی جامہ پہنانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ حکومت کے مطابق قومی مکالمہ طویل المدتی امن، استحکام اور قومی اتفاقِ رائے کے قیام کے لیے ایک اہم ترجیح ہے۔
وزیراعظم ڈاکٹر ابی احمد نے کانفرنس کے افتتاح کے موقع پر ایتھوپیائی عوام پر زور دیا تھا کہ وہ سیاسی محاذ آرائی کے بجائے مکالمے اور سمجھوتے کا راستہ اختیار کریں۔ انہوں نے سفارشات کو قانون سازی اور حکومتی پالیسیوں میں شامل کرنے کے عزم کا بھی اظہار کیا۔
اسی دوران سیاسی جماعتوں اور مسلح گروہوں پر بھی زور دیا گیا کہ وہ اپنے مقاصد کے حصول کے لیے مسلح تصادم کے بجائے مذاکرات کا راستہ اختیار کریں، جس کے نتیجے میں متعدد گروہوں کی جانب سے پرامن مذاکرات میں شمولیت کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نائیجیریا کے سابق صدر اولوسیگن اوباسانجو نے ایتھوپیا کی حکومت اور عوام کو مکالمے، باہمی افہام و تفہیم اور قومی اتفاقِ رائے کے فروغ کے لیے کوششوں پر مبارکباد دی۔
قومی مکالمے کو عالمی برادری، بالخصوص یورپی یونین اور ناروے سمیت مختلف ترقیاتی شراکت داروں کی سفارتی حمایت بھی حاصل رہی۔
یورپی یونین کی خارجہ امور اور سکیورٹی پالیسی کی اعلیٰ نمائندہ اور نائب صدر کاجا کالاس نے 15 جولائی کو کانفرنس کے افتتاح کے روز ادیس ابابا کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وزیراعظم ڈاکٹر ابی احمد اور وزیر خارجہ ڈاکٹر گیڈیون تیمتھیوس سے ملاقات کی اور قومی مکالمے کی کارروائی کا مشاہدہ کیا۔
کاجا کالاس نے قومی مکالمے کے نچلی سطح سے شروع کیے جانے والے طریقہ کار کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ یہ عمل امن، مفاہمت اور قومی اتحاد کو مضبوط بنانے کے لیے ٹھوس نتائج برآمد کرے گا۔
چار سالہ قومی مکالمے کے اختتام کو ایتھوپیا میں سیاسی و سماجی اختلافات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی کوششوں میں ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔ اب اصل چیلنج قومی مکالمے کی سفارشات کو مؤثر پالیسیوں، اصلاحات اور ادارہ جاتی اقدامات میں تبدیل کرنا ہے تاکہ ملک میں پائیدار امن اور استحکام کو یقینی بنایا جاسکے۔
