اسلام آباد(سب نیوز)چیئرمین سی ڈی اے سہیل اشرف کی ہدایات پر کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے)نے اسلام آباد بھر میں فائر اور لائف سیفٹی کے حفاظتی معیارات پر عملدرآمد مزید موثر بناتے ہوئے واضح کیا ہے کہ قیمتی انسانی جانوں کا تحفظ سی ڈی اے کی اولین ترجیح ہے۔سی ڈی اے نے اہم کارروائی کرتے ہوئے شہیدِ ملت سیکرٹریٹ، اسٹیٹ لائف بلڈنگ اور بلیو ایریا اسلام آباد میں ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان بلڈنگ کو سیل کر دیا ہے۔ مذکورہ عمارات میں سی ڈی اے کے فائر اینڈ ایمرجنسی سروسز ڈائریکٹوریٹ کی جانب سے فائر سیفٹی سے متعلق جاری کردہ آبزرویشنز اور ہدایات پر مقررہ مدت کے باوجود عملدرآمد نہیں کیا گیا تھا۔عمارات کو سیل کرنے کی کارروائی قانون کے مطابق مقررہ حفاظتی تقاضوں کے مطابق عمل میں لائی گئی ہے، جو سی ڈی اے کے اس عزم کا واضح اظہار ہے کہ ملازمین، شہریوں، عمارات میں آنے والے افراد اور عام عوام کی زندگیوں کے تحفظ پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
چیئرمین سی ڈی اے سہیل اشرف نے سی ڈی اے کے متعلقہ شعبہ جات کو ہدایت کی ہے کہ فائر سیفٹی کی خلاف ورزیوں کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اختیار کی جائے اور تمام عمارات میں مقررہ حفاظتی معیارات پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی عمارت، ادارے یا تنظیم کو بنیادی فائر پریوینشن اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے ضروری انتظامات نظرانداز کرتے ہوئے انسانی جانوں اور سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔سی ڈی اے کا فائر اینڈ ایمرجنسی سروسز ڈائریکٹوریٹ مختلف عمارات کے معائنوں کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے، جس کا مقصد فائر سیفٹی کے حوالے سے موجود خامیوں کی نشاندہی کرنا ہے۔ ان معائنوں کے دوران فائر سے بچا کے انتظامات، ایمرجنسی ایگزٹس، فائر فائٹنگ آلات، انخلا کے انتظامات اور دیگر ضروری لائف سیفٹی اقدامات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔سی ڈی اے کے بلڈنگ کنٹرول سیکشن کو بھی ہدایت کی گئی ہے کہ نشاندہی کی گئی خامیوں کو مقررہ مدت میں دور کروانے کے لیے مثر اقدامات یقینی بنائے۔عمارات کو سیل کرنے کی کارروائی اس امر کا واضح ثبوت ہے کہ سی ڈی اے کی فائر سیفٹی مہم محض معائنوں تک محدود نہیں بلکہ قیمتی انسانی جانوں اور املاک کو ممکنہ نقصان سے محفوظ رکھنے کے لیے عملی اور موثر نفاذ کی مہم ہے۔ لازمی حفاظتی تقاضوں پر عملدرآمد نہ کرنے والی عمارات کے خلاف مروجہ قوانین اور قواعد و ضوابط کے تحت کارروائی جاری رکھی جائے گی۔چیئرمین سی ڈی اے سہیل اشرف نے متعلقہ شعبہ جات کو مزید ہدایت کی ہے کہ فائر سیفٹی کے تقاضوں پر عملدرآمد کی مسلسل نگرانی کی جائے اور معائنوں کے دوران سامنے آنے والی خامیوں کو مثر اصلاحی اقدامات کے ذریعے دور کروایا جائے۔
اس اقدام کا مقصد اسلام آباد میں احتیاط، بروقت تیاری، ذمہ داری اور حفاظتی شعور کی مضبوط ثقافت کو فروغ دینا ہے۔سی ڈی اے نے تمام سرکاری محکموں، پبلک سیکٹر اداروں، تجارتی مراکز، نجی عمارات کے مالکان اور انتظامیہ پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے فائر سیفٹی انتظامات کا فوری جائزہ لیتے ہوئے مقررہ حفاظتی معیارات پر مکمل عملدرآمد یقینی بنائیں۔چیئرمین سی ڈی اے نے اس امر کا اعادہ کیا ہے کہ فائر سیفٹی اجتماعی ذمہ داری ہے۔ فائر فائٹنگ آلات کی بروقت تنصیب اور باقاعدہ دیکھ بھال، ایمرجنسی راستوں کی دستیابی، مثر انخلا کے انتظامات اور حفاظتی پروٹوکولز پر عملدرآمد ہنگامی صورتحال میں قیمتی انسانی جانوں کے تحفظ میں فیصلہ کن کردار ادا کر سکتے ہیں۔فائر سیفٹی کے حوالے سے جاری یہ مہم سی ڈی اے کی ان وسیع تر کوششوں کا حصہ ہے جن کا مقصد اسلام آباد کو محفوظ، پرامن، جدید، خوبصورت اور بہترین انتظامی سہولیات سے آراستہ وفاقی دارالحکومت بنانا ہے، جہاں عوامی تحفظ، معیاری انفراسٹرکچر اور مثر گورننس کو بنیادی اہمیت حاصل ہو۔سی ڈی اے نے واضح کیا ہے کہ عمارات کی انتظامیہ کو فائر سیفٹی سے متعلق خامیوں کو دور کرنے کے لیے ہر ممکن موقع اور مقررہ وقت فراہم کیا جائے گا، تاہم فائر اور لائف سیفٹی کے بنیادی تقاضوں پر مسلسل عدم تعمیل کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔قیمتی انسانی جانوں کا تحفظ ہماری اولین ذمہ داری ہے۔ فائر اور لائف سیفٹی کے معاملے پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
