ہومتازہ تریناسلام آباد میں ازبکستان اور پاکستان کی دوستی کے رنگ بکھر گئے، ’’میلوڈیز آف فرینڈشپ اینڈ برادرہڈ‘‘ کنسرٹ کا انعقاد

اسلام آباد میں ازبکستان اور پاکستان کی دوستی کے رنگ بکھر گئے، ’’میلوڈیز آف فرینڈشپ اینڈ برادرہڈ‘‘ کنسرٹ کا انعقاد

اسلام آباد، : ازبکستان کے 35ویں یومِ آزادی کی تقریبات کے سلسلے میں ازبکستان کے سفارتخانے کے زیر اہتمام پاکستان نیشنل کونسل آف دی آرٹس (پی این سی اے) اسلام آباد میں ’’ازبکستان۔پاکستان: دوستی اور برادری کی دھنیں‘‘ کے عنوان سے شاندار موسیقی کی شام کا انعقاد کیا گیا۔

یہ تقریب پاکستان کے دارالحکومت میں جاری ازبکستان ٹورازم ڈیز کا بھی اہم حصہ تھی، جس میں حکومت پاکستان، پارلیمان، سفارتی برادری، کاروباری و تعلیمی حلقوں، میڈیا اور ثقافتی شعبے سے وابستہ شخصیات سمیت 300 سے زائد افراد نے شرکت کی۔

وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کھچی نے تقریب میں بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔

تقریب کا آغاز ازبکستان اور پاکستان کے قومی ترانوں سے ہوا۔ اس موقع پر مقررین نے اس امر کو اجاگر کیا کہ ازبک اور پاکستانی عوام کے درمیان تعلقات صدیوں پر محیط مشترکہ تاریخ، ثقافت، روحانی اقدار، علمی ورثے اور باہمی احترام کی مضبوط بنیادوں پر استوار ہیں۔

تقریب میں کہا گیا کہ ازبکستان کے صدر شوکت مرزیایوف اور پاکستان کے وزیر اعظم محمد شہباز شریف کی مضبوط سیاسی قیادت اور اسٹریٹجک وژن کے باعث دونوں برادر ممالک کے درمیان تاریخی قربت کو جدید اسٹریٹجک شراکت داری کی صورت میں نئی جہت مل رہی ہے۔

ازبک صدر شوکت مرزیایوف کا رواں سال 5 اور 6 فروری کو پاکستان کا تاریخی سرکاری دورہ بھی دونوں ممالک کے باہمی تعلقات میں ایک اہم سنگِ میل قرار دیا گیا، جس نے دوطرفہ تعاون کے ایک نئے باب کی بنیاد رکھی۔

مہمانِ خصوصی وفاقی وزیر اورنگزیب خان کھچی نے ازبکستان میں جاری وسیع پیمانے پر اصلاحات اور ترقیاتی عمل کو سراہتے ہوئے اپنے حالیہ دورہ ازبکستان کا حوالہ دیا۔ انہوں نے خاص طور پر تاشقند میں سینٹر آف اسلامک سولائزیشن اور سمرقند کے قریب امام بخاری کمپلیکس کی تزئین و بحالی کو متاثر کن قرار دیا۔

وفاقی وزیر نے ازبکستان کی جانب سے اپنے منفرد تاریخی، ثقافتی اور علمی ورثے کے تحفظ، تحقیق اور اسے دنیا کے سامنے اجاگر کرنے کے لیے کیے جانے والے اقدامات کو بھی سراہا۔

تقریب کا سب سے نمایاں حصہ ازبکستان کے معروف فنکاروں کی شاندار پرفارمنسز تھیں، جنہوں نے روایتی ازبک دھنیں، گیت اور دلکش قومی رقص پیش کیے۔ پاکستانی شائقین نے فنکاروں کی پرفارمنس کو بھرپور پذیرائی دی اور زبردست تالیاں بجا کر فنکاروں کی حوصلہ افزائی کی۔

موسیقی کی اس خوبصورت شام نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ ثقافت اور فنون کی کوئی سرحد نہیں ہوتی اور مشترکہ تاریخ، باہمی احترام اور عوامی روابط دو قوموں کو مزید قریب لانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

تقریب میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ تاشقند اور سمرقند سے اسلام آباد اور لاہور تک دوستی کے یہ پل مزید مضبوط کیے جائیں گے اور پاکستان اور ازبکستان کے درمیان دیرینہ برادرانہ تعلقات کو مستقبل میں مزید وسعت دی جائے گی۔

پاکستان اور ازبکستان کے عوام کی دیرپا دوستی اور برادرانہ تعلقات زندہ باد۔ 🇺🇿🤝🇵🇰

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔