اسلام آباد(سب نیوز)بین الاقوامی ادارہ برائے مہاجرت(آئی او ایم )نے پاکستان کی وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے )کو سرحدی انتظام سے متعلق جدید آلات اور ٹرانسپورٹ گاڑیاں فراہم کر دیں۔ اس حوالے سے تقریب ایف آئی اے ہیڈکوارٹرز اسلام آباد میں منعقد ہوئی، جو حکومتِ جاپان کے مالی تعاون سے گزشتہ چار برسوں سے جاری منصوبے کی تکمیل کا اہم مرحلہ ہے۔ اس منصوبے کا مقصد پاکستان کی سرحدی انتظامی صلاحیت کو مزید موثر بنانا ہے۔تقریب میں پاکستان میں جاپان کے سفیر آکاماتسو شوئیچی، آئی او ایم پاکستان کی چیف آف مشن میو ساتو، ایف آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر عثمان انور، جاپانی سفارت خانے، آئی او ایم اور ایف آئی اے کے نمائندوں نے شرکت کی۔یہ معاونت پاکستان میں ہجرت کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے، محفوظ، منظم اور قانونی نقل مکانی کے فروغ، اور انسانی اسمگلنگ و مہاجرین کی غیر قانونی نقل و حمل کے متاثرین کے تحفظ پر مبنی اقدامات کو بہتر بنانے کے لیے آئی او ایم کے وسیع تر تعاون کا حصہ ہے۔
فراہم کیے گئے آلات میں بایومیٹرک، انفارمیشن ٹیکنالوجی، سیکیورٹی، نگرانی، مواصلاتی اور شمسی توانائی کے نظام شامل ہیں، جو ملک بھر میں ایف آئی اے کے 21 آپریشنل مراکز تک پہنچائے جائیں گے۔ ان میں ایف آئی اے ہیڈکوارٹرز میں قائم نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کے لیے بھی جدید آلات شامل ہیں، جس کا مقصد انسانی اسمگلنگ، مہاجرین کی غیر قانونی نقل و حمل، سائبر کرائم اور دیگر سرحد پار جرائم کے خلاف مربوط اور انٹیلی جنس پر مبنی کارروائیوں کو مثر بنانا ہے۔آئی او ایم نے تین خصوصی ٹرانسپورٹ وینز بھی ایف آئی اے کے حوالے کیں، جو اسلام آباد، کراچی اور لاہور کے بین الاقوامی ہوائی اڈوں پر تعینات کی جائیں گی تاکہ بیرونِ ملک سے واپس آنے والے تارکین وطن کا محفوظ، باوقار اور منظم انداز میں استقبال اور منتقلی یقینی بنائی جا سکے۔
آلات کی فراہمی کے ساتھ ساتھ ادارہ جاتی استعداد میں اضافے کے لیے بھی سرمایہ کاری کی گئی، جس کے تحت مارچ 2026 میں ایف آئی اے ٹریننگ اکیڈمی کی تزئین و آرائش مکمل کی گئی۔ جدید آئی ٹی انفراسٹرکچر، بہتر سیکیورٹی نظام اور جدید تربیتی سہولیات کی بدولت اکیڈمی اب نئے بھرتی ہونے والے اہلکاروں اور حاضر سروس افسران کو جدید معیار کی تربیت فراہم کر رہی ہے۔ چونکہ اکیڈمی ہر سال اوسطا ایک ہزار افسران کو تربیت دیتی ہے، اس لیے یہ بہتری ایف آئی اے کی طویل المدتی استعداد کار کو مزید مضبوط بنائے گی۔منصوبے کے تحت ادارہ جاتی استعداد کار بڑھانے کے لیے مختلف تربیتی سرگرمیاں بھی منعقد کی گئیں۔ 150 سے زائد ایف آئی اے افسران کو حقوقِ انسانی اور صنفی حساسیت پر مبنی سرحدی انتظام، تفتیشی تکنیک، دستاویزات اور بایومیٹرک تصدیق کے شعبوں میں تربیت فراہم کی گئی۔
اس اقدام کے ذریعے خواتین سمیت ایف آئی اے کے ماسٹر ٹرینرز کی ایک مستقل ٹیم بھی تیار کی گئی، جو آئندہ ادارے کے اندر خود تربیتی سرگرمیوں کو جاری رکھنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔اسی منصوبے کے تحت انسانی اسمگلنگ اور مہاجرین کی غیر قانونی نقل و حمل سے نمٹنے کے لیے تحفظ پر مبنی اقدامات کو بھی فروغ دیا گیا، جس کے تحت ایف آئی اے، صوبائی پولیس اور سول سوسائٹی کے 200 سے زائد نمائندوں کو متاثرین کی شناخت، اسکریننگ اور متعلقہ اداروں کو حوالہ کرنے کے طریقہ کار پر تربیت دی گئی، جن میں نصف سے زائد شرکا خواتین تھیں۔ایف آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر عثمان انور نے کہا کہ اس شراکت داری نے یہ ثابت کیا ہے کہ ہجرت اور سرحدی انتظام سے متعلق پیچیدہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مستقل بین الاقوامی تعاون نہایت اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کے لیے فراہم کی گئی معاونت سے سرحد پار جرائم کے خلاف نگرانی اور مربوط کارروائیوں کی صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہوگا۔پاکستان میں جاپان کے سفیر آکاماتسو شوئیچی نے کہا کہ جاپان اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ سیکیورٹی اور انسانی حقوق ایک دوسرے کی مخالف نہیں بلکہ ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں۔
ان کے مطابق مضبوط، باصلاحیت اور انسانی اقدار پر مبنی سرحدی انتظامی ادارے نہ صرف ریاستی سلامتی کو یقینی بناتے ہیں بلکہ افراد کے وقار کا بھی تحفظ کرتے ہیں، اور جاپان مستقبل میں بھی ایسے اقدامات کی حمایت جاری رکھے گا۔آئی او ایم پاکستان کی چیف آف مشن میو ساتو نے کہا کہ آج کے دور میں سرحدی انتظام صرف لوگوں کی آمدورفت تک محدود نہیں بلکہ یہ قومی سلامتی، اقتصادی روابط، علاقائی تعاون اور انسانی وقار کے تحفظ سے بھی جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومتِ جاپان کی فراخدلانہ معاونت سے اس منصوبے کے ذریعے ایسے ادارے اور نظام تشکیل دیے گئے ہیں جو مستقبل میں بھی پاکستان کی سرحدی انتظامی ضروریات کو پورا کرنے میں معاون ثابت ہوں گے۔تقریب کے دوران جاپان کے سفیر آکاماتسو شوئیچی نے ایف آئی اے کے نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹرکا بھی دورہ کیا، جہاں انہیں آپریشنل نگرانی، انٹیلی جنس کوآرڈینیشن اور سرحد پار جرائم کے خلاف اقدامات کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔
اس موقع پر انہوں نے تین خصوصی ٹرانسپورٹ گاڑیوں میں سے ایک گاڑی باضابطہ طور پر ایف آئی اے کے حوالے کی۔ یہ گاڑیاں اسلام آباد، کراچی اور لاہور کے بین الاقوامی ہوائی اڈوں پر واپس آنے والے تارکین وطن کی محفوظ اور باوقار منتقلی کے لیے استعمال کی جائیں گی۔تقریب کے اختتام پر آئی او ایم اور ایف آئی اے نے پاکستان میں ہجرت کے نظم و نسق کے فروغ کے لیے حکومتِ جاپان کی مسلسل معاونت کو سراہا، جبکہ آئی او ایم نے منصوبے کے موثر نفاذ کے دوران ایف آئی اے کی قیادت اور بھرپور تعاون کی بھی تعریف کی۔
جاپان کے تعاون سے جاری منصوبے کے تحت ایف آئی اے اور آئی او ایم کے درمیان شراکت داری کا اہم سنگِ میل، سرحدی انتظام کے لیے جدید آلات اور گاڑیاں ایف آئی اے کے حوالے
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
