ہومپاکستانتوہین مذہب کے مقدمے میں اینکر پرسن ریحان طارق کی ضمانت منظور، رہائی کا حکم

توہین مذہب کے مقدمے میں اینکر پرسن ریحان طارق کی ضمانت منظور، رہائی کا حکم

لاہور (سب نیوز ) سیشن عدالت نے توہین مذہب کے مقدمے میں اینکر پرسن ریحان طارق کی بعد از گرفتاری ضمانت کی درخواست منظور کرتے ہوئے انہیں ایک لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دے دیا۔ عدالت نے فریقین کے تفصیلی دلائل سننے کے بعد فیصلہ سنایا۔
منگل کو لاہور میں ایڈیشنل سیشن جج نصرت علی صدیقی نے اینکرپرسن ریحان طارق کی بعد از گرفتاری ضمانت کی درخواست پر سماعت کی۔ سماعت کے دوران ریحان طارق کی جانب سے ایڈووکیٹ میاں داد پیش ہوئے اور اپنے دلائل عدالت کے سامنے رکھے۔وکیل میاں داد نے موقف اختیار کیا کہ ایف آئی آر کے متن سے کسی بھی وقوعے کا ثابت ہونا ظاہر نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے کسی بھی قانون میں تاریخی مذہبی سوالات پر مبنی کسی شخص کا انٹرویو کرنا قابلِ دست اندازی جرم قرار نہیں دیا گیا۔
وکیل صفائی نے مزید موقف اختیار کیا کہ اس مقدمے میں صحافی کی کوئی الیکٹرانک ڈیوائس استعمال نہیں ہوئی جب کہ تفتیش کے دوران بھی ریحان طارق کے خلاف زیرِ تنازع ویڈیو یا انٹرویو اپ لوڈ کرنے کا ایک بھی ثبوت سامنے نہیں آیا۔انہوں نے عدالت کو بتایا کہ ایف آئی آر میں عائد کی گئی تمام دفعات ضابطہ فوجداری کے تحت غیرممنوعہ نوعیت کی ہیں، جن میں ملزم کو ضمانت دینا اس کا آئینی حق ہے۔دلائل مکمل ہونے کے بعد ایڈیشنل سیشن جج نصرت علی صدیقی نے درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے اینکرپرسن ریحان طارق کی بعد از گرفتاری ضمانت ایک لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض منظور کر لی۔
واضح رہے کہ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے)نے ریحان طارق کے خلاف توہین مذہب کے الزام میں مقدمہ درج کر رکھا ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔