اسلام آباد(سب نیوز) اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (آئی سی سی آئی)کے زیر اہتمام پاکستان اور نیدرلینڈز کے درمیان دوطرفہ تجارت کے فروغ کے موضوع پر ایک اہم سیمینار منعقد ہوا، جس میں کاروباری رہنماوں اور صنعتکاروں نے دوطرفہ تجارت اور سرمایہ کاری کے بے پناہ مگر غیر استعمال شدہ امکانات سے بھرپور استفادہ کرنے کے لیے جدت، ویلیو ایڈیشن، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور پائیدار اقتصادی تعاون کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔شرکا کا خیرمقدم کرتے ہوئے آئی سی سی آئی کے صدر سردار طاہر محمود نے کہا کہ نیدرلینڈز یورپ میں تجارت، لاجسٹکس، زراعت، جدت، قابلِ تجدید توانائی اور جدید مینوفیکچرنگ کا ایک اہم مرکز ہے، جو پاکستان کے ساتھ باہمی مفاد پر مبنی تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ کے بے شمار مواقع فراہم کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نیدرلینڈز کے ساتھ اپنی دیرینہ دوستانہ تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان موجود اقتصادی تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانے کی بھرپور صلاحیت موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ مشترکہ منصوبوں، ڈچ سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور تجارتی تنوع کے ذریعے دوطرفہ تعاون کو مزید فروغ دیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے پاکستان کے اسٹریٹجک محل وقوع، 24 کروڑ سے زائد آبادی، نوجوان اور ہنرمند افرادی قوت، تیزی سے ترقی کرتی آئی ٹی صنعت، مسابقتی مینوفیکچرنگ اور مضبوط زرعی شعبے کو غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے اہم کشش قرار دیا۔سردار طاہر محمود نے زراعت، ایگری ٹیکنالوجی، باغبانی، ڈیری و لائیوسٹاک، فوڈ پروسیسنگ، ویلیو ایڈڈ ٹیکسٹائل، انفارمیشن ٹیکنالوجی، قابلِ تجدید توانائی، لاجسٹکس، صحت، تعلیم اور آبی وسائل کے انتظام کو دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے لیے انتہائی موزوں شعبے قرار دیا۔سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے نیدرلینڈز کے سفارت خانے کے فرسٹ سیکرٹری برائے اقتصادی امور، الیگزینڈر آکربوم نے کہا کہ پاکستان اور نیدرلینڈز کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری کے مضبوط تعلقات قائم ہیں اور نیدرلینڈز، جرمنی کے بعد یورپی یونین میں پاکستان کا دوسرا بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔ انہوں نے کہا کہ یورپی یونین پاکستان کی سب سے بڑی برآمدی منڈیوں میں شامل ہے جبکہ جی ایس پی پلس کی سہولت نے پاکستانی برآمدات میں نمایاں اضافہ، لاکھوں روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور یورپ میں پاکستانی مصنوعات کی شناخت کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگرچہ دونوں ممالک کے تعلقات مضبوط بنیادوں پر استوار ہیں، تاہم تعاون کے بے شمار مواقع ابھی بھی موجود ہیں۔
انہوں نے پاکستانی صنعتکاروں پر زور دیا کہ وہ خام مال اور نیم تیار مصنوعات کے بجائے ویلیو ایڈڈ ٹیکسٹائل کی برآمدات پر توجہ دیں کیونکہ یورپی منڈیوں میں اعلی معیار کی تیار شدہ مصنوعات کی طلب تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے زراعت، آبی وسائل کے انتظام، موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی اور آئی ٹی کو مستقبل کے اہم شعبے قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسمارٹ بیج، جدید آبپاشی نظام اور واٹر مینجمنٹ میں نیدرلینڈز کی مہارت پاکستان کو موسمیاتی تبدیلی کے چیلنجز سے نمٹنے، زرعی پیداوار بڑھانے اور غذائی تحفظ کو یقینی بنانے میں مدد دے سکتی ہے۔مسٹر آکربوم نے پاکستانی زرعی مصنوعات خصوصا پاکستانی آموں کی بے حد تعریف کرتے ہوئے انہیں دنیا کے بہترین آم قرار دیا۔ انہوں نے پاکستان میں تیار ہونے والے فٹبال کا بھی ذکر کیا اور اسے پاکستان کی اعلی مینوفیکچرنگ صلاحیت اور عالمی معیار کی مصنوعات کا واضح ثبوت قرار دیا۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ مضبوط بزنس ٹو بزنس روابط، جدت، ویلیو ایڈیشن اور مسلسل تعاون کے ذریعے پاکستان اور نیدرلینڈز کے درمیان اقتصادی شراکت داری مزید مستحکم ہوگی، جس سے دونوں ممالک یکساں طور پر مستفید ہوں گے۔آئی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر طاہر ایوب نے سیمینار کی نظامت کرتے ہوئے ڈچ قوم کی محنت، عزم اور ثابت قدمی کو خراجِ تحسین پیش کیا۔سیمینار کے اختتام پر سوال و جواب کی نشست منعقد ہوئی، جس میں شرکا نے دوطرفہ تجارت کے فروغ، سرمایہ کاری کے مواقع، مارکیٹ تک رسائی، تجارتی سہولتوں، ریگولیٹری تعاون اور دونوں ممالک کی کاروباری برادریوں کے درمیان ادارہ جاتی روابط کو مزید مضبوط بنانے کے مختلف پہلوں پر تبادلہ خیال کیا۔تقریب میں آئی سی سی آئی کے نائب صدر محمد عرفان چوہدری، ایگزیکٹو ممبران وسیم چوہدری اور ذوالقرنین عباسی، سابق سینئر نائب صدر خالد چوہدری، سینئر ممبران ساجد اقبال، ملک مدثر، ندیم منصور سمیت کاروباری برادری کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
