اسلام آباد(آئی پی ایس ) اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے قائم مقام صدر طاہر ایوب نے حکومت پر زور دیا ہے کہ ملک میں کاروبار کرنے میں آسانی کو یقینی بنانے کے لیے جامع، جرت مندانہ اور دیرپا ریگولیٹری اصلاحات متعارف کرائی جائیں، کیونکہ مضبوط اور پائیدار معیشت کا انحصار ایک ایسے کاروبار دوست ماحول پر ہے جہاں سرمایہ کاروں کو غیر ضروری سرکاری رکاوٹوں، پیچیدہ قواعد و ضوابط اور طویل بیوروکریٹک مراحل کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
چیمبر ہاس میں مختلف کاروباری وفود سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان بے شمار معاشی مواقع، نوجوان افرادی قوت، اہم جغرافیائی محل وقوع اور متحرک نجی شعبے کا حامل ملک ہے، لیکن غیر ضروری سرکاری ضابطے، مختلف اداروں کی اختیارات میں مداخلت، کاغذی کارروائی کی بھرمار اور منظوریوں میں غیر معمولی تاخیر کاروباری سرگرمیوں، سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کی رفتار کو سست کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر حکومت واقعی سرمایہ کاری، برآمدات، صنعتی پیداوار اور روزگار میں اضافہ چاہتی ہے تو اسے کاروباری سہولت کو اپنی اولین ترجیح بنانا ہوگا۔ وقت آ گیا ہے کہ کاروباری سہولت بیوروکریٹک پیچیدگیوں کی جگہ لے اور ضابطہ جاتی نظام کو عالمی معیار کے مطابق سادہ، شفاف، ڈیجیٹل اور سرمایہ کار دوست بنایا جائے۔
طاہر ایوب نے تجویز دی کہ کاروباری رجسٹریشن، لائسنسنگ، ٹیکس ادائیگی، یوٹیلیٹی کنکشنز، این او سیز اور دیگر تمام سرکاری منظوریوں کے لیے ایک مربوط ون ونڈو ڈیجیٹل نظام قائم کیا جائے تاکہ کاروباری برادری کو ایک ہی پلیٹ فارم پر تمام سہولیات میسر آئیں۔ انہوں نے کہا کہ اس اقدام سے نہ صرف کاروبار کی لاگت میں نمایاں کمی آئے گی بلکہ شفافیت بڑھے گی، انسانی مداخلت کم ہوگی اور غیر ضروری تاخیر و صوابدیدی اختیارات کا خاتمہ بھی ممکن ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ فرسودہ قوانین، غیر ضروری قواعد و ضوابط اور ایک ہی نوعیت کے متعدد ادارہ جاتی تقاضوں کا ازسرنو جائزہ لے تاکہ کاروباری طبقے پر غیر ضروری بوجھ کم کیا جا سکے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ٹیکس اور ریگولیٹری پالیسیوں میں تسلسل اور استحکام سرمایہ کاروں کے اعتماد کے لیے ناگزیر ہے، کیونکہ بار بار کی پالیسی تبدیلیاں کاروباری منصوبہ بندی اور نئی سرمایہ کاری کی راہ میں بڑی رکاوٹ بنتی ہیں۔
آئی سی سی آئی کے نائب صدر محمد عرفان چوہدری نے کہا کہ کاروبار کرنے میں آسانی پیدا کرنا اب محض ایک انتظامی اصلاح نہیں بلکہ قومی معاشی ضرورت بن چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مختلف سرکاری اداروں کی متضاد شرائط اور پیچیدہ طریقہ کار کی وجہ سے کاروباری برادری کا قیمتی وقت اور وسائل ضائع ہوتے ہیں، جس سے پیداواری لاگت میں اضافہ اور کاروباری سرگرمیوں کی رفتار متاثر ہوتی ہے۔
