Tuesday, June 23, 2026
spot_img
spot_imgspot_img

امن کے معمار

تحریر:محمد محسن اقبال


پاکستان ایک عرص? دراز سے ایک پُرآشوب دنیا میں امن کے چراغ کی حیثیت رکھتا آیا ہے۔ اپنے قیام کے روزِ اول سے اس نے کسی ہمسایہ یا دور دراز ملک کے خلاف جارحانہ عزائم نہیں پالے بلکہ ہمیشہ تحمل، بردباری اور تعمیری روابط کی راہ اختیار کی۔ تاہم جب بھی اس کی خودمختاری کو چیلنج کیا گیا یا اس پر خطرات کے سائے منڈلائے، پاکستان نے فولادی عزم کے ساتھ اپنا دفاع کیا اور دشمن کے ناپاک عزائم کو ناکام بنایا۔ گزشتہ برس مئی میں بھارتی جارحیت کے خلاف پاکستان کا متوازن، دانشمندانہ اور فیصلہ کن ردِعمل آج بھی عالمی برادری کے حافظے میں تازہ ہے۔ لیکن امن کے قیام کے میدان میں مشرقِ وسطیٰ کے لیے پاکستان کی حالیہ خدمات اپنی وسعت، گہرائی اور کامیابی کے اعتبار سے بے مثال قرار دی جا سکتی ہیں۔


رواں سال جب امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی پورے خطے کو ایک کھلی جنگ کی دہلیز تک لے آئی، تو پاکستان نے خاموش تماشائی بننے کے بجائے ایک فعال ثالث کا کردار ادا کیا۔ اس کردار کے پیچھے یہ پختہ یقین کارفرما تھا کہ تباہی پر مکالمے اور تصادم پر مفاہمت کو ترجیح دی جانی چاہیے۔ وزیرِ اعظم شہباز شریف کی مدبرانہ، پُرعزم اور متوازن قیادت میں پاکستان نے سفارتی رابطوں اور پسِ پردہ مذاکرات کی ایک ایسی مہم کا آغاز کیا جس نے بالآخر تاریخ ساز نتائج پیدا کیے۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، جن کی عسکری بصیرت سفارتی فہم و فراست سے ہم آہنگ ہے، اس پورے عمل میں وزیرِ اعظم کے شانہ بشانہ رہے۔ نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار، وزیرِ دفاع خواجہ آصف، وزیرِ داخلہ محسن نقوی اور دیگر اعلیٰ حکومتی شخصیات نے بھی اس قومی کاوش میں بھرپور کردار ادا کیا۔ ان تمام شخصیات کی مشترکہ جدوجہد پاکستانی ریاستی حکمتِ عملی اور سفارتی روایت کی بہترین مثال بن کر سامنے آئی۔
اس عمل کا باقاعدہ آغاز مارچ کے وسط میں ہوا۔ واشنگٹن اور تہران کے درمیان ایسے پیغامات کا تبادلہ شروع ہوا جنہوں نے عشروں سے منقطع رابطوں کے درمیان نئی راہیں کھولیں۔ 23 مارچ کو وزیرِ اعظم شہباز شریف نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے براہِ راست گفتگو کی، جبکہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ رابطہ استوار کیا۔ اس کے بعد آنے والے دنوں میں پاکستان نے اپنی خاموش مگر مؤثر سفارت کاری کو مزید تیز کیا اور دونوں ممالک کے درمیان بالواسطہ رابطوں کو برقرار رکھا، حتیٰ کہ کشیدگی کے بادل گہرے ہونے کے باوجود مکالمے کا سلسلہ منقطع نہ ہونے دیا گیا۔
مارچ کے اختتام تک اسلام آباد نے چین کے تعاون سے ایک پانچ نکاتی امن منصوبہ پیش کیا، جس کا مقصد جنگ بندی کو یقینی بنانا اور بامعنی مذاکرات کے لیے ماحول سازگار بنانا تھا۔
اپریل کے آغاز میں پاکستان نے پینتالیس روزہ، دو مرحلوں پر مشتمل جنگ بندی کی ایک جامع تجویز پیش کی۔ قومی قیادت کی مسلسل اور انتھک کوششوں کے نتیجے میں سات اور آٹھ اپریل کو دو ہفتوں کی جنگ بندی پر اتفاقِ رائے حاصل ہو گیا۔ خود صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس اعلان میں پاکستان کے مرکزی کردار کو تسلیم کیا، جبکہ ایرانی حکام نے بھی اس کی توثیق کی۔ ان نازک اور فیصلہ کن لمحات میں وزیرِ اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی ذاتی کاوشیں کلیدی اہمیت کی حامل ثابت ہوئیں۔
اس پیش رفت سے حوصلہ پا کر واشنگٹن اور تہران نے اعلیٰ سطحی وفود اسلام آباد بھیجنے پر آمادگی ظاہر کی۔ یہ 1979ء کے بعد اپنی نوعیت کا پہلا براہِ راست رابطہ تھا جس نے عالمی سفارت کاری میں ایک نئی امید پیدا کی۔
اپریل کے وسط میں اسلام آباد کے سرینا ہوٹل میں ہونے والے مذاکرات اگرچہ طویل اور بعض اوقات نہایت پیچیدہ ثابت ہوئے، لیکن ان مذاکرات نے ایک نئے دور کا آغاز کیا۔ بیس گھنٹوں سے زائد جاری رہنے والے ان مذاکرات میں اگرچہ فوری طور پر کوئی جامع معاہدہ طے نہ پا سکا، تاہم نمایاں پیش رفت ضرور حاصل ہوئی۔ پاکستان نے اپنی روایتی ثابت قدمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کوششوں کا سلسلہ جاری رکھا۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے تہران کے متعدد دورے کیے، جبکہ وزیرِ اعظم شہباز شریف نے سعودی عرب، قطر اور ترکی سمیت خطے کے اہم ممالک سے مسلسل رابطے استوار رکھے۔ پاکستان کی مسلسل کاوشوں کے نتیجے میں ابتدائی جنگ بندی کو غیر معینہ مدت تک توسیع دی گئی، جس سے فریقین کو سنجیدگی سے غور و فکر کا قیمتی موقع ملا۔ اپریل اور مئی کے دوران مختلف تجاویز پاکستانی سفارتی ذرائع کے ذریعے ایک فریق سے دوسرے فریق تک پہنچتی رہیں۔ تہران اور بیجنگ کے متعدد دوروں اور اہم عالمی دارالحکومتوں میں ہونے والی ملاقاتوں نے اس عمل کی رفتار کو برقرار رکھا۔
بالآخر جون کے وسط میں یہ سفارتی سفر اپنی منزل کے قریب پہنچ گیا۔ 14 جون کو وزیرِ اعظم شہباز شریف نے ’’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت” کی حتمی منظوری کا اعلان کیا، اور تین روز بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور صدر مسعود پزشکیان کے درمیان یہ معاہدہ باضابطہ طور پر طے پا گیا، جس میں پاکستان نے ایک قابلِ اعتماد ثالث کا کردار ادا کیا۔
اس یادداشت میں مستقل جنگ بندی، آبنائے ہرمز کو پُرامن بحری آمدورفت کے لیے دوبارہ کھولنے، بعض اقتصادی پابندیوں میں نرمی، اور جوہری معاملات کے حل کے لیے ساٹھ روزہ فریم ورک جیسے اہم نکات شامل ہیں۔ یہ معاہدہ آج ایک تاریخی کامیابی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جس نے ایک ممکنہ تباہ کن علاقائی جنگ کو روکنے کے ساتھ ساتھ پائیدار استحکام کی نئی راہ بھی ہموار کی ہے۔
اس پورے عمل کے دوران وزیرِ اعظم شہباز شریف نے ایک دور اندیش، متواضع اور ذمہ دار ریاستی رہنما کا کردار ادا کیا۔ انہوں نے ذاتی تشہیر کے بجائے قومی مفاد کو مقدم رکھا اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور مسلح افواج کی قیادت کے کردار کو کھلے دل سے سراہا۔ ایسے دور میں جب بیشتر رہنما شہرت کی روشنی اپنے گرد مرکوز رکھنے کے خواہاں ہوتے ہیں، یہ طرزِ عمل غیر معمولی وقار اور اعلیٰ ظرفی کی علامت ہے۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا کردار اپنی نوعیت میں منفرد رہا ہے۔ انہوں نے نہ صرف پاکستان کے دفاع کو مضبوط ہاتھوں میں رکھا بلکہ عالمی امن کے فروغ کے لیے بھی اپنی توانائیاں وقف کیں۔ تاریخ میں اس کی مثالیں بہت کم ملتی ہیں۔ جارج مارشل وہ واحد پیشہ ور فوجی تھے جنہیں امن کے لیے نوبیل انعام سے نوازا گیا، لیکن انہیں یہ اعزاز فعال عسکری خدمت سے سبکدوش ہونے کے برسوں بعد ان کی سفارتی خدمات کے اعتراف میں ملا تھا۔ اس کے برعکس فیلڈ مارشل عاصم منیر نے یہ کردار اُس وقت ادا کیا جب وہ پاکستان کے دفاعی نظام کی قیادت کر رہے ہیں۔
اگر نوبیل کمیٹی انہیں امن کا نوبیل انعام دینے کا فیصلہ کرتی ہے تو وہ دنیا میں پہلے سپہ سالار ہوں گے جنہیں دوران عسکری ذمہ داری اس اعزاز سے نوازہ جائے گا۔یہ عزاز صرف ایک شخصیت کے لیے نہیں بلکہ پاکستان کی امن پسند قومی سوچ اور ریاستی فلسفے کے لیے بھی ایک موزوں خراجِ تحسین ہوگا۔ اس سے بڑھ کر یہ امر دنیا کے سامنے اس حقیقت کی توثیق کرے گا کہ خلوصِ نیت، صبر اور عزم پر مبنی سفارت کاری آج بھی دنیا کو تباہی کے کنارے سے واپس لا سکتی ہے۔
پاکستان نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ وہ اپنی خودمختاری کے تحفظ کے لیے جرات اور استقامت رکھتا ہے اور عالمی امن و ہم آہنگی کے فروغ کے لیے بھی اسی جذبے کے ساتھ کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔ ایک ایسی دنیا میں جو تقسیم، کشیدگی اور بداعتمادی کا شکار ہے، پاکستان کی یہ آواز نہ صرف سنی جانی چاہیے بلکہ اس پر توجہ بھی دی جانی چاہیے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔