بیجنگ :من آنگ ہلائنگ نے میانمار کے صدر کے طور پر چین کا پہلا سرکاری دورہ کیا۔ چین میں قیام کے دوران چائنا میڈیا گروپ کو ایک خصوصی انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ وہ اس دورے کے ذریعے میانمار اور چین کے دوستانہ تعلقات کو گہرا کرنا، میانمار کی ترقی کو فروغ دینا اور میانمار اور چین کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کو مضبوط کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ چینی کمپنیاں میانمار میں سرمایہ کاری کریں گی ، دوطرفہ تجارت کو بڑھایا جائے گا اور سرحدی علاقوں میں سلامتی، امن اور استحکام کے تحفظ کے لیے مشترکہ کوشش کی جائے گی ۔
من آنگ ہلائنگ نے کہا کہ صدر شی جن پھنگ عوام کی فکر کرنے والے ایک حقیقی رہنما ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ تیرہ مرتبہ چین کا دورہ کرچکے ہیں اور انہوں نے چین کے مختلف علاقوں میں ہونے والی زبردست تبدیلیوں کا خود مشاہدہ کیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ کسی بڑے ملک کو مشترکہ ترقی کی راہ پر لے جانا بہت مشکل کام ہے اور اس کے لیے بہترین قیادت کی ضرورت ہوتی ہے۔
میانمار کے صدر کے مطابق چین کے متعدد دوروں کے دوران انہوں نے دیکھا ہے کہ چین کس طرح جدید ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔ان کا کہنا تھا کہ نئے دور میں چین نے شاندار ترقی حاصل کی ہے اور یہ حقیقت پوری دنیا پر واضح ہے۔انٹرویو میں من آنگ ہلائنگ نے مزید کہا کہ میانمار اور چین کے درمیان تعاون کے مواقع بہت وسیع ہیں، جو صنعت، ٹیکنالوجی، ثقافت، صحت، اور کھیل جیسے متعدد شعبوں کا احاطہ کرتے ہیں ۔ چین نے ہر شعبے میں اچھی ترقی حاصل کی ہے ، اس لیے ہم پوری توجہ کے ساتھ متعدد شعبوں میں عملی تعاون کو فروغ دینے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اس انیشی ایٹو نے میانمار کے لیے ترقی کے مواقع پیدا کیے ہیں جس سے میانمار کی ترقی میں مدد ملی ہے اور یہ منصوبہ ہمیں دنیا سے جوڑتا ہے۔

