Wednesday, June 17, 2026
spot_img
spot_imgspot_img
ہومپاکستانیو اے ای بی ایل اے کو سپورٹ نہیں کررہا، ہمارا برادر اسلامی ملک ہے، پاکستانی حکام

یو اے ای بی ایل اے کو سپورٹ نہیں کررہا، ہمارا برادر اسلامی ملک ہے، پاکستانی حکام

اسلام آباد (سب نیوز)پاکستان کے سینئر سیکیورٹی حکام نے کہا ہے کہ متحدہ عرب امارات (یو اے ای)کے بارے میں یہ پروپیگنڈہ غلط ہے کہ وہ بلوچستان میں دہشتگردی کو ہوا دینے کے لیے بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے)کو سپورٹ کررہا ہے۔
انہوں نے کہاکہ سوشل میڈیا پر منفی پروپیگنڈے کے باوجود پاکستان اور یو اے ای آج بھی دو برادر مسلم ممالک ہیں جو عقیدے کے بندھن کے ساتھ بندھے ہوئے ہیں۔ایک سوال کے جواب میں سینیئر سکیورٹی آفیشل کا کہنا تھا کہ بی ایل اے کو انڈیا اور کچھ دیگر ایجینسیز مدد فراہم کررہی ہیں لیکن یو اے ای ان میں شامل نہیں ہے۔
سیکیورٹی حکام نے کہاکہ بلوچستان اور پاکستان کے دشمنوں اور کچھ مقامی سرداروں کا ایجنڈا ہے کہ بلوچستان میں ترقی نہ ہونے دی جائے کیونکہ اگر بلوچستان میں ترقی ہوگئی تو اس سے نہ صرف یہ کہ یہ خطہ دنیا کا امیر ترین خطہ بن جائے گا اور پاکستان بھی اوپر چلا جائے گا بلکہ یہاں کا سراداری نظام بھی ختم ہو جائے گا، اس لیے وہ بلوچستان کے قدرتی وسائل، اس کی جغرافیائی حیثیت اور بلیو اکانومی (سمندری معیشت)کو پروان نہیں چڑھنے دینا چاہتے۔انہوں نے کہاکہ بلوچستان میں جرائم پیشہ افراد اور دہشتگردوں کے اتحاد کے باوجود حکومت پاکستان کی اپنائی گئی ترقیاتی منصوبہ بندی کے بہتر نتائج برآمد ہو رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ دہشتگرد کسی دور دراز علاقے میں ایک ٹرک یا جگہ کو نشانہ بنا کر پروپیگنڈہ کرتے ہیں کہ پورے صوبے میں بد امنی ہے تاکہ سرمایہ کار اس خطے میں سرمایہ کاری نہ کریں اور یہاں ترقی نہ ہو۔ پھر اس پروپیگنڈے کو ان کے بین الااقوامی مددگار سوشل میڈیا پر بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں۔ایک سوال کے جواب میں سیکیورٹی حکام کا کہنا تھا کہ مقامی افراد اور قبائیل کو بلوچستان دشمنوں کے خلاف صف آرا ہونا چاہیے۔
ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ پاکستان نے گزشتہ کئی سالوں تک افغان طالبان سے مذاکرات کا راستہ اپنائے رکھا لیکن اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوا اور پھر پاکستان نے دہشتگردی کے خاتمے کے لیے افغانستان کے اندر فوجی حملوں کا فیصلہ کیا جس کی وجہ سے پاکستان میں دہشتگردی میں کمی واقع ہوئی۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں جب بھی افغانستان کا نام آتا ہے تو بدقسمتی سے یہ دہشتگردی سے ہی منسلک ہوتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ رواں سال پاکستان دہشتگردی کے خلاف خفیہ معلومات پر مبنی 32 ہزار سے زیادپ آپریشن کر چکا ہے جن میں ایک ہزار 861 دہشتگرد مارے گئے جن میں سے 862 دہشتگرد افغانستان کے اندر کارروائیوں میں ہلاک ہوئے۔
انہوں نے کہاکہ اس دوران پاکستان میں 2 ہزار 170 دہشتگرد حملے ہوئے جن میں 640 افراد جاں بحق ہوئے اور ان میں 259 سویلینز تھے۔ایک اور سوال کے جواب میں سیکیورٹی حکام کا کہنا تھا کہ پاکستان مستقبل کی ٹیکنالوجی پر بھاری انحصار کرنے والی جنگ کے لیے تیاری کررہا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ اس کو دہشتگردی سے نمٹنے کے لیے بڑی افرادی قوت کی بھی ضرورت ہے اس لیے اس کا فوجی بجٹ ابھی بھی کم ہے۔انہوں نے کہاکہ پاکستان کا 85 فیصد فوجی بجٹ واپس قومی معاشی نظام میں چلا جاتا ہے کیونکہ یہ 7 لاکھ کے قریب فوجیوں کی تنخواہوں کے لیے استعمال ہوتا ہے اور اس سے وہ اپنے تمام اخراجات پورے کرتے ہیں۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔