راولپنڈی (سب نیوز)پاکستان کے سینیئر سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ ریاست کو آزاد کشمیر میں احتجاجی دھرنے ختم کروانے کے لیے کوئی جلدی نہیں ہے، بیرونی اشارے پر امن تباہ کرنے والوں کا فیصلہ عوام خود کریں گے۔
منگل کے روز سینیئر صحافیوں اور اینکرز کو دی گئی ایک بیک گراونڈ بریفنگ میں سیکیورٹی حکام نے کہاکہ پاکستانی ریاست کا ہمیشہ پہلا آپشن ڈائیلاگ ہوتا ہے اور جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے ساتھ بھی ہر سطح پر مذاکرات کیے گئے لیکن انہوں نے سڑکوں پر جانے اور سیکیورٹی فورسز پر حملوں کا راستہ چنا۔انہوں نے کہاکہ ریاست اب بھی صبرو تحمل اور پیار، محبت کا مظاہرہ کررہی ہے لیکن یہ حقیقت ہے کہ ہمیں ایسے گروہوں سے بخوبی نمٹنا آتا ہے اور اس سے پہلے بھی اس طرح کے کئی گروہوں سے نمٹ چکے ہیں۔
حکام نے کہاکہ انڈیا 10 لاکھ فوج، بھاری رقوم اور مراعات کے باوجود مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں کو زیر تسلط نہیں لا سکا اس لیے اب وہ آزاد کشمیر میں آگ لگا رہا ہے لیکن ہمیں پہلے سے ان کارروائیوں کا اندازہ تھا۔سیکیورٹی حکام نے کہاکہ جب سے جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی کارروائیاں شروع ہوئی ہیں انہیں پتا تھا کہ اس کے پیچھے کون ہے اور بدامنی پھیلانے کے کیا مقاصد ہیں لیکن وہ چاہتے تھے کہ ان کا چہرہ عوام خود دیکھیں۔حکام نے کہاکہ سڑکوں پر ناکے سیکیورٹی فورسز نے نہیں بلکہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے لگا رکھے ہیں اور انہوں نے عوام کی زندگی اجیرن کر رکھی ہے۔ انہوں نے نہ صرف سی ایم ایچ اسپتال راولاکوٹ پر حملہ کر کے مریضوں کو تشدد کا نشانہ بنایا بلکہ عوامی اجتماعات کی آڑ میں سیکیورٹی فورسز اور نہتے افراد پر فائرنگ بھی کی۔سی ایم ایچ پر حملے کے وقت جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے اراکین عمر نذیر، خواجہ مہران اور سردار امان وہاں موجود تھے۔
حکام نے کہاکہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی والے اگر دھرنے پر بیٹھے ہیں تو بیٹھے رہیں، آزاد کشمیر کے لوگ خود ظاہر کررہے ہیں کہ وہ ان سے مستقبل میں کیسے نمٹیں گے۔ آگے انتخابات آ رہے ہیں اور ان انتخابات میں عوام اپنا فیصلہ خود کریں گے۔سیکیورٹی حکام نے کہاکہ انڈیا کے پاس کشمیر کو زیر تسلط رکھنے کے لیے عسکری، ڈیموگرافک، قانونی اور معاشی حل موجود نہیں ہیں اس لیے اس نے فیصلہ کیاکہ آزاد کشمیر میں آگ لگائی جائے، اور یہاں پر حقوق کی تحریک کے نام پر بدامنی کی کوشش کی گئی لیکن ہمیں اس کا پہلے سے پتا تھا۔انہوں نے کہاکہ جب ایکشن کمیٹی والے نکلے تھے تو وہ یہ ظاہر کر رہے تھے کہ دما دم مست قلندر ہو گا اور پتا نہیں کیا کر لیں گے لیکن کچھ بھی نہیں کر سکے، بلکہ ان کے طفیلی اور سرپرست بے نقاب ہو گئے ہیں۔حکام نے کہاکہ انہیں پتا ہونا چاہیے کہ پاکستان کی ریاست پہلے ماں بنتی ہے اور پھر باپ کا طرز عمل اختیار کرتی ہے۔
سیکیورٹی حکام نے کہاکہ آزاد کشمیر تقسیم کا نامکمل ایجنڈا ہے اور پاکستانی فوج نے اس کے لیے 5 جنگیں لڑی ہیں۔ پاکستان کی پہلی جنگ بھی کشمیر کے لیے ہوئی تھی اور پہلا اعلی فوجی اعزاز نشان حیدر بھی 1948 میں کشمیر کی لڑائی میں شہید ہونے والے فوجی کو ملا تھا۔ اس وقت بھی پاکستانی فوج میں آبادی کے لحاظ سے سب سے زیادہ نمائندگی کشمیر کی ہے، کشمیر اور کشمیریوں سے محبت پاکستانی فوج کے خون میں شامل ہے۔ایک اور سوال کے جواب میں حکام نے کہاکہ سندھ طاس معاہدے پر پاکستان کی سیکیورٹی کونسل کے احکامات واضح ہیں اور پاکستان کو اپنے پانی کے تحفظ کے لیے سفارتی، سیاسی اور عسکری جو بھی اقدامات کرنا پڑے پاکستان کرے گا۔تاہم انہوں نے کہاکہ پاکستان کو خود بھی اپنے پانی کے ذخائر بہتر کرنے اور مون سون میں آنے والے پانی کو ذخیرہ کرنے اور بہتر طریقے سے استعمال کرنے کے لیے ایک نظام وضع کرنے کی ضرورت ہے۔ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ 9 مئی کے واقعات کے مقدمات آگے بڑھ رہے ہیں اور یہ واقعات کرنے والوں اور کروانے والوں کو کیفر کردار تک پہنچائے بغیر پاکستان میں انصاف قائم نہیں ہو سکتا۔
آزاد کشمیر میں دھرنا ختم کروانے کیلئے ریاست کو جلدی نہیں، عوام خود ان کا فیصلہ کرینگے، سیکیورٹی حکام
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

