اسلام آباد: رومانیہ کی وزیرِ خارجہ اوآنا تسویو نے کہا ہے کہ پاکستان مشرقِ وسطیٰ میں جاری سفارتی کوششوں اور ثالثی کے عمل میں اہم کردار ادا کر رہا ہے، جس کی بدولت آبنائے ہرمز کی بحالی، امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدے اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کی راہ ہموار ہوئی ہے۔
اپنے بیان میں رومانیہ کی وزیرِ خارجہ نے بتایا کہ ان کی پاکستان کے نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار سے ٹیلیفونک گفتگو ہوئی، جس میں مشرقِ وسطیٰ کی تازہ صورتحال، آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی کوششوں، امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والے اہم معاہدے اور اس کے مجوزہ دستخطی شیڈول پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
اوآنا تسویو نے ثالثی کے عمل میں پاکستان کے مؤثر کردار کو سراہتے ہوئے اسحاق ڈار کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب، قطر، ترکیہ، مصر، اقوامِ متحدہ اور یورپی یونین سمیت مختلف علاقائی و بین الاقوامی شراکت دار بھی کشیدگی کے خاتمے اور امن کے فروغ کے لیے اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ رومانیہ اور پاکستان کے درمیان مضبوط دوطرفہ تعلقات اور مسلسل سفارتی رابطوں کی روایت دونوں ممالک کے باہمی اعتماد کا مظہر ہے۔ وزیرِ خارجہ کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدے کی سرکاری دستخطی تقریب 19 جون کو منعقد ہونے کا امکان ہے، جس کے بعد جوہری پروگرام سے متعلق تکنیکی معاملات سمیت مزید مذاکرات کا مرحلہ شروع ہوگا۔
رومانیہ کی وزیرِ خارجہ نے کہا کہ معاہدے کی کامیابی سے توانائی کی عالمی قیمتوں میں استحکام، زرعی کھادوں کی فراہمی میں بہتری اور عالمی غذائی منڈیوں پر مثبت اثرات مرتب ہونے کی توقع ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ علاقائی استحکام، سفارتی رابطوں کا تسلسل اور مسلح تصادم کی حوصلہ شکنی عالمی برادری کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
اوآنا تسویو نے مزید کہا کہ رومانیہ ان بین الاقوامی اتحادوں کا حصہ ہے جو امریکی محکمۂ خارجہ اور یورپی شراکت داروں کے ساتھ مل کر آبنائے ہرمز کی بحالی اور خطے میں امن و استحکام کے لیے سفارتی کوششوں کی حمایت کر رہے ہیں۔

