اسلام آباد: اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (آئی سی سی آئی) کے قائم مقام صدر طاہر ایوب نے ایس ایم ایز فوکسڈ اصلاحات کی فوری ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ پائیدار اقتصادی ترقی کے حصول کے لیے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کی بحالی ناگزیر ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ریگولیٹری رکاوٹوں کو کم کرنا، مالیات تک رسائی میں اضافہ، اور طویل مدتی پالیسی میں تسلسل کو یقینی بنانا ایس ایم ایز کو بااختیار بنانے کے لیے اہم اقدامات ہیں تاکہ وہ قومی معیشت کو مضبوط بنانے میں زیادہ موثر کردار ادا کر سکیں۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کو چیمبر ہاؤس میں خواتین تاجروں کے وفد سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ وفد نے خواتین کی زیر قیادت کاروباروں کو درپیش کلیدی چیلنجوں پر روشنی ڈالی، خاص طور پر مالیاتی رکاوٹوں اور ناکافی ادارہ جاتی تعاون بارے ۔
آئی سی سی آئی کے نائب صدر عرفان چوہدری نے کہا کہ خواتین کاروباریوں کو بااختیار بنانا جامع اور مساوی معاشی ترقی کو فروغ دینے کے لیے بہت ضروری ہے۔ انہوں نے صلاحیت سازی کے اقدامات کو وسعت دینے، اور مضبوط نیٹ ورکنگ پلیٹ فارم بنانے کی اہمیت پر زور دیا تاکہ خواتین کی قیادت میں SMEs کو ترقی اور مؤثر طریقے سے مقابلہ کرنے کے قابل بنایا جا سکے۔
آئی سی سی آئی کی ایگزیکٹو ممبر اور انٹرنیشنل ڈائیسپورا اینڈ ہیومن رائٹس کمیٹی کی چیئرپرسن محترمہ شمائلہ صدیقی نے ملک کی معاشی ترقی میں خواتین کاروباریوں کے اہم کردار پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے وفد کو ان کے تحفظات کو دور کرنے اور خواتین کی زیر قیادت کاروباری اداروں کے لیے کاروبار کرنے میں آسانی فراہم کرنے میں آئی سی سی آئی کے مکمل تعاون کا یقین دلایا۔
آئی سی سی آئی کے کونسل ممبر مسعود چوہدری، ایگزیکٹیو ممبرز محترمہ فاطمہ عظیم، ذوالقرنین عباسی، ملک عقیل، وسیم چوہدری ، اسحاق سیال، آئی سی سی آئی ممبر اسرار مشوانی، محترمہ صدف عاصم عباسی، محترمہ صبا راجہ، محترمہ نگینہ خلیق اور دیگر نے بھی اس موضوع پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
