اسلام آباد: اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (آئی سی سی آئی) کے صدر سردار طاہر محمود نے وزیر داخلہ محسن نقوی کے حالیہ اعلان کا خیرمقدم کیا ہے کہ جس کا مقصد سیاحت کو فروغ دینا اور مہمان نوازی کے شعبے کو مضبوط بنانا ہے ، انہوں نے اسے اسلام آباد کے عالمی امیج اور اقتصادی قوت کے طور پر فروغ کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا ہے۔
اتوار کے روز جاری کیے گئے ایک بیان میں انہوں نے کہا ہے کہ ہوٹل انڈسٹری کے لیے مراعات کے ساتھ ساتھ وفاقی دارالحکومت میں بیوٹیفیکیش سے ملکی اور بین الاقوامی سیاحوں کے لیے کشش میں نمایاں بہتری آئے گی۔ انہوں نے کہا ہے کہ یہ اقدامات روزگار پیدا کرنے، سرمایہ کاری کو راغب کرنے اور اقتصادی سرگرمیوں کو تیز کرنے میں یقیناً مددگار ثابت ہو نگے۔
سردار طاہر محمود نے خصوصی طور پر کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی جانب سے متعارف کرائے گئے امدادی اقدامات کو سراہا جن میں ہوٹل پراجیکٹس کے لیے فلور ایریا ریشو (FAR) چارجز میں معقولیت اور چھوٹ شامل ہے، انہوں نے کہا کہ اس طرح کے اقدامات عمودی ترقی کو آسان بنائیں گے اور مہمان نوازی کے شعبے میں نئی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کریں گے۔
مین ہٹن اور شنگھائی جیسے عالمی مرکزوں کے مطابق ایک نئے انتہائی جدید شہر کی ترقی کے وزیر داخلہ کے وژن کا حوالہ دیتے ہوئے آئی سی سی آئی کے صدر نے اس بات پر زور دیا کہ اگرچہ یہ اقدامات قابل ستائش ہیں لیکن تمام شعبوں بالخصوص رئیل اسٹیٹ اور تعمیرات سے متعلق پالیسی میں بھی شفافیت اور مستقل مزاجی اور معقولیت کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دوسرے شعبوں سے تعلق رکھنے والوں کو بھی اپنے کاروبار کو برقرار رکھنے، اپنے کام کو بڑھانے اور سہولتی اقدامات سے فائدہ اٹھانے کا مساوی حق حاصل ہے۔
انہوں نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ ایف اے آر اور ریگولیٹری فریم ورک میں اسی طرح کا ریلیف تعمیرات اور رئیل اسٹیٹ سیکٹر تک نہیں بڑھایا گیا ہے۔
سردار طاہر محمود نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ رئیل اسٹیٹ اور تعمیراتی شعبہ معاشی سرگرمیوں میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے جس کے متعدد متعلقہ صنعتوں سے مضبوط روابط ہیں۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ متوازن، جامع اور پائیدار ترقی کو یقینی بنانے کے لیے اس شعبے کے لیے بھی FAR اور متعلقہ چارجز کو معقول بنانے سمیت تقابلی مراعات میں توسیع کرے۔
آئی سی سی آئی کے صدر نے مشاورتی اور جامع پالیسی سازی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ تمام اسٹیک ہولڈرز کو آن بورڈ لیا جائے تاکہ اصلاحات مساوی، شفاف اور طویل مدتی سرمایہ کاری اور قومی ترقی کے لیے سازگار رہیں۔
