ہومکالم وبلاگزبلاگزنیا افغانستان اورپاکستان کی خوشیاں

نیا افغانستان اورپاکستان کی خوشیاں

‏تحریر: سید لعل حسین بُخاری
@lalbukhari
پچھلے دنوں آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل فیض حمید اپنے وفد کے ساتھ وزیر اعظم پاکستان عمران خان کی خصوصی ہدایت پرافغانستان گئے تھے، جہاں انہوں نےہر قسم کے دوطرفہ دفاعی،اقتصادی اور دیگر ہر قسم کے باہمی دلچسپی کے معاملات پر افغانستان کی نئی قیادت سے بات چیت کی۔ جنرل فیض حمید کے علاوہ پاکستان کی سیاسی قیادت بھی افغانستان کے فاتحین سے مسلسل رابطے میں ہے۔
رابطے کیوں نہ ہوں؟
طویل عرصہ بعد ہماری اس سرحد سے ہماری طرف امن کی ہوائیں آرہی ہیں۔ آئی ایس آئی کے سربراہ کے دورہ افغانستان کی وجہ سے بھارت میں حسب توقع خوب صف ماتم بچھی۔ افغانستان میں طالبان کے برسر اقتدار آنے سے جہاں بھارت کی بہت بڑی سرمایہ کاری بے کارگئی ہے۔ وہیں ان کے دن اور راتوں کا سکون بھی غارت ہو چکا ہے۔ کیونکہ وہاں اب ایک ایسی حکومت آچکی ہے۔ جو ڈالروں کے لئےنہ تو ان کے ہاتھوں کا کھلونا بنے گی اور نہ ہی پاکستان کے ساتھ حق ہمسائیگی فراموش کرے گی اور یہی چیز بھارتیوں کے سینے پر مونگ دل رہی ہے۔
بہت سے افراد کے ذہنوں میں یہ سوال گردش کر رہا ہے کہ افغانستان میں اشرف غنی کی حکومت کے خاتمے اور طالبان کے کنٹرول سنبھالنے کے بعد پاکستانی عوام کیوں اتنی خوش ہے؟
کیوں پاکستان سے محبت کرنے والے لوگ افغانستان میں طالبان کی برتری پر خوشی سے پُھولے نہیں سما رہے؟ تو اسکا جواب بڑا سادہ ہے کہ دوست کا دوست تو دوست ہوتا ہے مگر دشمن کا دوست دشمن ۔
افغانستان میں جب تک اشرف غنی کی زور زبردستی کی حکومت رہی وہاں سے ہمارے خلاف ہر روز نئی نئی سازشیں جنم لیتی رہیں۔ اور ان سب سازشوں کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہوتا تھا اشرف غنی حکومت اور بھارت کے مابین پیار محبت کی پینگیں کوئی ڈھکی چُھپی بات نہیں تھی۔ پاکستان کے خلاف افغانستان سے اٹھنے والے ہر پروپیگنڈے کے پیچھے را کا ہاتھ ہوتا تھا۔ اکثرو بیشتر سوشل میڈیا پر چلاۓ جانے والے بے بنیاد اور منفی ٹرینڈز بھی بھارت کی شہ پر افغانستان سے ہی شروع کئے جاتے تھے۔
ان سازشوں کو آشکارا کیا جا چُکا ہے۔ کابل کی سابق حکومت کی پاکستان کے خلاف شرانگیزیوں کو دیکھ کر حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا وہ قول یاد آجاتا ہے، جس پر احسان کرو، اُس کے شر سے بچو۔
پاکستان نے ہمیشہ افغانستان کی بحیثت مُلک خیر خواہی چاہی۔ لاکھوں افغان مہاجرین کو پناہ دی،
جب بھی ضرورت پڑی، افغانستان سے مالی تعاون کیا، اپنے محدود وسائل کے باوجود افغانستان کی سر زمیں پر اربوں روپے کی سرمایہ کاری کی۔ مگر اشرف غنی نے ہر بار افغانستان کی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کر کے بھارت کی سہولت کاری کی۔ پاکستان نے ہمیشہ صبر کا دامن تھامے رکھا افغانستان کو ہمیشہ برادر اسلامی ملک اور افغانیوں کو اپنا بھائی گردانا۔ مگر اتنا کچھ کرنے کے باوجود بھی پاکستان نے اشرف غنی حکومت کے ناروا رویے کی وجہ سے کبھی بھی سُکھ کا سانس نہیں لیا۔
پاکستان کو اشرف غنی کی انہیں کارستانیوں اور بھارت کی گود میں بیٹھ کر کھیلنے کی وجہ سے پاکستان کو افغانستان کی سرحد کے ساتھ ہزاروں کلو میٹر لمبی باڑھ لگانا پڑی تاکہ سرحد پار سے پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کو روکا جا سکے۔ اس باڑھ کی تعمیر میں بھی بارہا رخنہ ڈالنے کی کوشش کی جاتی رہی۔ باڑھ کا کام کرنے والے ہمارے فوجی جوانوں کو ان حملوں میں شہید تک کیا گیا۔ مگر ہماری فوج نے حوصلے ،ہمت اور بہادری سے انتہائ کٹھن حالات میں بھی اپنے ہم وطنوں کی جانوں کی حفاظت کے لئے اپنی جانوں کا نزرانہ پیش کر کے یہ مشکل فریضہ جاری رکھا۔اس باڑھ کی تکلیف اشرف غنی حکومت سے زیادہ بھارت کو تھی۔ مگر ان سب کی گھٹیا سازشیں ناکام ہوئیں اور پاک فوج نے ایک بار پھر اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا خوب مظاہرہ کرتے ہوئے اس باڑھ کا نوے فیصد سے زیادہ کام مکمل کرلیا ۔پاک فوج کے اس مشن میں اسے حکومت پاکستان کا مکمل تعاون حاصل رہا۔ پی ٹی آئی حکومت نے قومی مفادات کے معاملات میں اپنی فوج کو ہمیشہ اپنے ساتھ ایک پیج پر رکھا ہے۔
وزیر اعظم عمران خان ہمیشہ سے اپنی فوج کے جذبہ حب الوطنی اور پروفیشنلزم کے قائل رہے ہیں۔ سابق حکمرانوں کے برعکس انہوں نے ہر دفعہ اپنی فوج کی لازوال قربانیوں کا اعتراف کیا ہے جبکہ ماضی میں نواز شریف جیسے حکمران اپنی ہی فوج کی مخالفت میں دشمنوں کا ہاتھ بٹاتے ہوئے ان کے مبینہ طور پر آلہ کار بنے رہے۔
اشرف غنی اپنے ساتھیوں کے ساتھ افغانستان سے راہ فرار اختیار کرچکے ہیں۔ طالبان کے برسر اقتدار آنے کے بعد افغانستان سے ملنے والی سرحد محفوظ ہوجائے گی جس کے بعد بھارت کا اس کی سرحد کے ساتھ بہتر بندوبست ممکن ہو سکے گا۔
کہاوت ہے کہ دوست تو بدلے جاسکتے ہیں مگر ہمسائے نہیں۔ مگر ہمسائے بھی وہی اچھے، جو حق ہمسائیگی سے پوری طرح آشناہوں۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔