ہومکالم وبلاگزبلاگزسید علی گیلانی کی زندگی (تیسرا حصہ )

سید علی گیلانی کی زندگی (تیسرا حصہ )

تحریر: حکم خان
‎@khanhukam1
1983ء میں بخشی سٹیڈیم سری نگر میں بھارت اور ویسٹ انڈیز کے درمیان کرکٹ میچ منعقد ہونا تھا سید علی گیلانی نے اس موقع پر بھارتی حکمرانوں کو یا د دلایا کہ ریاست جموں و کشمیر بھارت کا حصہ نہیں ہے لہٰذابھارت سری نگر میں اس میچ کے انعقاد سے باز رہے
لیکن وادی نیل کے فرعونوں کی طرح گنگا جمنا کی وادی کے فراعنہ بھی حق و صداقت کی بات کو سیدھے طریقے سے کب ماننے والے تھے ؟اپنے گھمنڈ میں بھارتی حکمرانوں نے جب میچ کا آغاز کیا تو کشمیری نوجوانوں نے سٹیڈیم پرہلہ بول دیا۔لاکھوں تماشائیوں نے نعرے لگائے اور بھارتی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں اور ان کے محافظ پولیس و فوج کے جوانوں کو سٹیڈیم سے مار بھگایا۔ اس واقعے پر سید علی گیلانی کے خلاف بغاوت کا مقدمہ درج ہوا جو جدوجہد آزادی کی تاریخ میں “مقدمہ الحاق “کے نام سے مشہور ہے ۔ تحریک آزادی کے اس عظیم قائد کو تھانہ کوٹھی باغ میں قید رکھا گیا اور عوام کے غیض و غضب سے ڈر کر بھارتی سرکا ر نے انہیں عدالت میں پیش کرنے کی بجائے تھانہ کوٹھی باغ میں ہی نام نہاد “فوجی عدالت “میں اس مقدمے کی سماعت ہوتی رہی ۔ مقدمے کی سماعت کے دوران جب عدالت نے جناب سید علی گیلانی سے استفسار کیاکہ
کیا آپ کشمیر کی سرزمین پر بھارت کو غاصب اور جارح سمجھتے ہیں ؟” تو سید علی گیلانی نے دوٹوک جواب دیا
“بالکل !جب کوئی قابض اپنی شرائط قبضہ کو پورا نہیں کرتا تو اسے غاصب اور جارح ہی قرار دیا جا سکتا ہے۔بھارت نے 1947ء میں مہاراجہ ہری سنگھ کی دستاویزاس شرط پر قبول کی تھی کہ حالات معمول پر آتے ہی کشمیری عوام کو رائے شماری کے ذریعے اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق دیا جائے گا ۔اس وعدے کا اعادہ بھارتی قیادت نے اقوام متحدہ میں بھی کیا جہاں بھارت کی درخواست پر جنگ بندی اور کشمیر ی عوام کے حق خود ارادیت کی قرارداد منظور ہوئی۔ بھارت نے اس عہد کی تکمیل نہیں کی بلکہ ظلم و جبر سے اپنے قبضے کو طول دے رہا ہے تو اسے جارح نہ کہا جائے تو کیا کہا جائے؟
اس مرتبہ عرصہ اسیری طوالت اختیار کرگیا تھا ۔ رہائی کے بعد آپ کو جماعت اسلامی جموں و کشمیر کا امیر منتخب کر لیا گیا۔ آپ کے امیر منتخب ہونے سے دہلی کے ایوانوں میں صف ماتم بچھ گئی ۔اسی روز آپ کو پھر گرفتا ر کر لیا گیا۔13 جون 1985ء کو حکومت نے آپ کو ایڈوائزری بورڈ کے سامنے پیش کیا ،جہاں چیف جسٹس آدرش سین کے سامنے آپ نے اپنے “جرائم کا اعتراف کرتے ہوئے حق گوئی اور بیباکی کا فریضہ انجام دیا۔آپ نے آدرش سین کے سامنے اپنا بیان دیتے ہوئے اپنے موقف کا اعادہ ان الفاظ میں کیا۔
ہم ریاست جموں و کشمیر کے بھارت کے ساتھ الحاق کو مشروط اور عارضی سمجھتے ہیں ۔ اس کے لیے ہمارے پاس یہ بنیاد ہے کہ 27 اکتوبر 1947ء کو مہاراجہ ہری سنگھ نے ریاست کا بھارت کے ساتھ الحاق کیا تو خود ہندوستان کے حکمرانوں نے دستاویز الحاق پر یہ شرط رکھی کہ “حالات ٹھیک ہو جانے پر “ہم ریاست کے عوام سے رائے شماری کرائیں گے کہ وہ بھارت کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں کہ پاکستان کے ساتھ اپنی قسمت وابستہ کرنا چاہتے ہیں۔پھر بھارت نے اقوام متحدہ کی کی قراردادوں کو ساری دنیا کے سامنے تسلیم کیا ہے جن میں کشمیر کے مستقبل کے فیصلے کو کشمیر ی عوام کے آزادانہ استصواب رائے سے مشروط کیا گیا ہے۔”
چیف جسٹس کے اس سوال پر کہ کیا آپ ریاست کو “پولیس سٹیٹ”قرار دیتے ہیں؟
جناب سید علی گیلانی نے فرمایا
“ہاں !میں ریاست جموں و کشمیر کو پولیس سٹیٹ قرار دیتا ہوںاور یہاں کے عوام پر ڈھائے جانے والے مظالم دیکھ کر ہر عقل مند یہی کہے گا۔”(بحوالہ ـ”اذان”سری نگر 4 جولائی 1985)
ریاستی اسمبلی بھی ایک اہم محاذ تھا 1972ء میں کشمیر اسمبلی کے انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا گیا تاکہ آزادی کی آواز ایوان کے اند ر بھی سنائی دے۔ ظاہر ہے سری نگر میں واقع اسمبلی کے ایوان میں بلند کی جانے والی آواز ہی دنیا میں سنی جا سکتی تھی ۔ جماعت اسلامی نے آزادی کشمیر کے مطالبے کی بنیاد پر انتخابات میں حصہ لیا۔اس انتخابی مہم میں سید علی گیلانی نے اپنی شعلہ نوائی سے کشمیر میں بھارت کی مسلط کردہ شیخ عبداللہ کی شکل میں غدار لیڈر شپ کو بے نقاب کیا اور بھارت کے غاصبانہ قبضہ کی دھجیا ں اڑاتے رہے ۔اس الیکشن میں حکومت کی طرف سے بے پنا ہ دھاندلی کے باوجود جماعت اسلامی کے سید علی گیلانی سمیت چار نمائندے کامیا ب ہوئے ۔ اسمبلی میں بھارت کے خلاف آزادی کی جنگ لڑنے کا محاذجماعت اسلامی نے سید علی گیلانی کو سونپا۔ (جاری)

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔