اسلام آباد (سب نیوز)فیڈریشن آف پاکستان چیمبر ز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق نائب صدر زاہد اقبال چوہدری نے کہا ہے کہ بلند شرح سودملکی معاشی ترقی اور کاروباری سرگرمیوں کے فروغ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے،ایس ایم تنویر کی قیادت میں ملک بھر کی بزنس کمیونٹی مانیٹری پالیسی کمیٹی کے اجلاس میں شرحِ سود سنگل ڈیجٹ5اور 6 فیصدتک لانے کا مطالبہ کر رہی ہے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے میڈیا نمائندگان سے گفتگو کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ حکومتی اعداد وشمار کے مطابق مہنگائی کی شرح اس وقت تقریبا 4 اعشاریہ5 کی کم ترین سطح پرہے، اس مناسبت سے شرح سود کی بلندی ملکی معاشی استحکام ، کاروباری سرگرمیوں کے فروغ ، برآمدات میں اضافے اور پیدواری لاگت کا زیادہ ھونا کاروباری مسابقت کے لیے ایک چیلنج بن چکا ہے،30جولائی کو اسٹیٹ بنک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی کے اجلاس میں شرح سود کو سنگل ڈیجٹ میں لانا پاکستان بھر کی بزنس کمیونٹی کی ایس ایم تنویر پیٹرن انچیف یونائیٹڈ بزنس اور عاطف اکرام صدر ایف پی سی ای آئی کی قیادت کا متفقہ مطالبہ ہے
زاہد اقبال چوہدری کا مزید کہنا تھا کہ پیداواری لاگت میں اضافے ، نامناسب پالیسیوں ، بلاجواز ٹیکسز اور ایف بی آر کو دئیے جانے والے غیر محدود اختیارات اور ملکی سیاست کی غیر یقینی صورتحال جیسے مسائل کو حل کرنا وقت کا اولین تقاضا ہے۔انہوں نے کہا کہ بزنس کیمونٹی لیڈرز کی ایس ایم تنویر ، گوھر اعجاز اور عاطف اکرام کی قیادت میں مقتدر حلقوں سے ملاقاتیں خوش آئند ہیں، کاروباری حلقے ان ملاقاتوں کے مثبت اثرات ظاھر ھونے کی توقع کر رہے ہیں ۔
