وائٹ ہاؤس کورسپونڈینٹ ڈنر میں فائرنگ کی عینی شاہد ہیلن میبس نے آنکھوں دیکھا واقعہ بیان کر دیا۔ان کا کہنا ہے کہ واشنگٹن ہل ہوٹل میں وائٹ ہاؤس کورسپونڈینٹ ڈنر کے دوران فائرنگ کے واقعے سے قبل مبینہ حملہ آور کول ٹوماس ایلن نے ہوٹل کے ایک کم نگرانی والے کمرے میں لمبے ہتھیار کو اسمبل کیا (جوڑا)۔
دی نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق ہیلن میبس ایونٹ کے دوران بطور رضاکار خدمات انجام دے رہی تھیں۔
انہوں نے بتایا کہ ہوٹل میں داخلی راستے کے قریب ایک عارضی کمرہ موجود تھا جو بار کارٹس (bar carts) رکھنے کے لیے استعمال ہوتا تھا اور واقعے کے وقت اس کمرے کی نگرانی نہیں کی جا رہی تھی۔
ہیلن میبس کے مطابق اسی موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کول ٹوماس ایلن نے بیگ سے ہتھیار نکالا، اسے جوڑا، فائرنگ شروع کی اور پھر بال روم کی طرف سیڑھیوں سے بڑھ گیا، جہاں بعد ازاں سیکریٹ سروس نے اسے گرفتار کر لیا۔
عینی شاہد کے مطابق ہتھیار عام بندوق کے مقابلے میں زیادہ لمبا اور غیر معمولی دکھائی دے رہا تھا، حملہ آور نے مختلف سمتوں میں متعدد گولیاں چلائیں، ایسا لگ رہا تھا کہ وہ ہر طرف فائرنگ کر رہا ہے، میں نے کم از کم 10 فائرز کی آوازیں سنیں۔
ہیلن میبس نے بتایا کہ فائرنگ کے باعث تقریب میں موجود افراد میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا اور لوگ اپنی جان بچانے کے لیے بھاگنے لگے، تاہم سیکریٹ سروس کی فوری کارروائی کے باعث کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
ابتدائی تفتیش کے مطابق کول ٹوماس ایلن امریکی مغربی ساحل سے واشنگٹن آیا تھا، وہ اسی ہوٹل میں ٹھہرا ہوا تھا جہاں تقریب جاری تھی، اس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ یہ کارروائی منصوبہ بندی کے ساتھ کی گئی تھی تاکہ سیاسی شخصیات کے قریب پہنچا جا سکے۔
وائٹ ہاؤس کی تقریب میں حملہ آور کیسے داخل ہوا؟ کس کمرے میں ٹھہرا؟ عینی شاہد نے بتا دیا
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
