ریاض(سب نیوز) کنگ سلیمان ریلیف سنٹر کے زیر اہتمام کنگ عبدالعزیز میڈیکل سٹی میں شامی جڑواں بچوں سیلائن اور ایلین عبدالمنیم الشبلی کو الگ کرنے کے پیچیدہ آپریشن کا آغاز۔سعودی پریس ایجنسی کو ایک بیان میں ڈاکٹر الربیعہ نے کہا کہ شامی جڑواں بچوں کا خاندان لبنان میں مقیم پناہ گزین ہیں، ان کی ماں تین بچوں سے حاملہ تھی ،جن میں دو جڑی ہوئی لڑکیاں اور ایک صحت مند بچہ شامل تھا ۔
بچوں کی پیدائش 28فروری 2024 کو بیروت میں سیزرین سیکشن کے ذریعے ہوئی تھی، جڑواں بچوں کی عمر اس وقت ایک سال اور پانچ ماہ ہے، ان کا مجموعی وزن 14 کلو گرام ہے۔جڑے ہوئے بچے 29 دسمبر 2024 کو وزارت خارجہ اور دفاع کے درمیان مربوط کوششوں کے ذریعے سعودی عرب پہنچے تھے ۔طبی ٹیم کے ساتھ متعدد مشاورتوں اور جامع معائنے کے بعد یہ طے پایا کہ جڑواں بچوں کو سینے اور پیٹ کے نچلے حصے جڑا ہوا تھا ۔ یہ آپریشن تقریبا نو گھنٹے تک جاری رہنے کی توقع ہے اور اسے چھ مراحل میں انجام دیا جائے گا۔
جراحی کی ٹیم میں نرسنگ اور تکنیکی عملے کے ساتھ ساتھ 24 کنسلٹنٹس اور ماہرین شامل ہیں، جن میں اینستھیزیا، پیڈیاٹرک سرجری، پلاسٹک سرجری، اور دیگر معاون شعبوں جیسی خصوصیات شامل ہیں۔ ڈاکٹر الربیعہ نے بتایا کہ شام سے جڑواں بچوں کو الگ کرنے کا چوتھا آپریشن ہے، گزشتہ 35سالوں میں، طبی ٹیم نے 150کیسز کا جائزہ لینے کے بعد 27ممالک سے 65 جڑواں بچوں کو کامیابی سے الگ کیا ہے۔
