تحریر: عالم زیب
@AlamZeb755587
خون دل دے کے نکھاریں گئے رخ برگ گلاب ۔
ہم نے گلشن کے تحفظ کی قسم کھائی ہے ۔
آج کے بچے قوم کا مستقبل ، آج کے بچے قوم کا عروج و اقبال آج کے بچے قوم کی قسمت کے ستارے ، آج کے بچے چمنستان زندگی کے مہکتے پھول ، چہکتے بلبل ، اور کھیلتے نونہال ہے ۔ جن کے ساتھ ہمارے امنگ، آرزو اور قسمت وابستہ ہیں ۔ ہمارے پاس کچھ ہیں تو یہی بچے ہیں ۔ بچے پر سب سے پہلا حق والدین کا ہوتا ہے پہلے دن سے ہی وہ علم کے پھول چننا شروع کردیتا ہیں لہذا پہلے دن سے ہی نگرانی کرنا پڑتا ہے تاکہ وہ غلط راہ پر نہ چل پڑیں ۔
اس کے بعد سب سے بڑی اور اہم ذمہ داری استاد محترم کا ہوتا ہے کیونکہ استاد ہی بچے کا روحانی باپ ہوتا ہے وہ بچے کو اچھی تربیت کے ساتھ ساتھ علم کے روشنی سے مالا مال کردیتا ہے کیونکہ علم ایک ایسی دولت ہے جس کو کبھی زوال نہیں۔
ہرعروج کو زوال ہے ، ہر بہار کے بعد خزاں ہے ، ہر دن کے بعد رات ہے ، ہر نور کے بعد تاریکی ہے ۔ غرض عالم مشاہدات میں ایسی کوئی چیزبھی ڈھونڈنے سے نہ ملے گی جو گھٹی بڑھتی نہ ہو لکین علم ایک وہ دولت ہے جیسے ہمیشہ بڑھنے ہی سے کام ہے جتنا خرچ کروگئے اتنا ہی بڑھتی جائی گی، ایسے چور کا ڈر نہیں، چوکیدار کی ضرورت نہیں، یہ دولت ہر وقت محفوظ ہے اور ہمیشہ محفوظ رہے گی ۔
لب آتی ہے دعا بن کے تمنا میری
زندگی شمع کی صورت و خدایا میری ۔
میرے اورمیرے رقیب مفتی محمود الحسن ، اور محمد ہارون صاحب نے ایک عزم و جذبہ لیکر ایک چیلنجز کے طور پر گورنمینٹ مڈل سکول دارگاہ ہربن کوہستان کو قبول کیا اور عہد کر دیا کہ اسی سکول کو صوبے کے بہترین و اعلی سکولز میں صفت میں لاکر کھڑے کر دیں دیں گئے زندگی کے اس مشکل ترین لمحات و گھٹن سے گزرنے کے باوجود بھی ہمارا سفر ، عزم کم نہ ہوا اور دن دگنی رات چوگنی محنت کر کے آج الحمداللہ ان کو اس مقام تک پہنچا دیا کیونکہ ہم نے گلشن کے تحفظ کی قسم کے ساتھ ساتھ ہم نے اس باغ کو اپنے لہو کے ساتھ سینچنے کا عزم کر رکھا ہے ۔
انشاءاللہ وہ وقت دور نہیں یہی قوم کے مستقبل، اور روشنی کے کرنوں و خوشبو سے پورا کوہستان چمک جائیں گا۔
تعلیمی انقلاب
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
