لاہور(سب نیوز)لاہور ہائیکورٹ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بہنوں عظمی خان اور نورین نیازی کی نظر بندی کا نوٹیفکیشن فوری معطل کرنے کی استدعا مسترد کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کی جسٹس عبہر گل خان نے عظمی خان اور نورین نیازی کی نظر بندی کے خلاف درخواست کی سماعت کی۔
عدالت میں عظمی خان اور نورین نیازی کی جانب سے مدثر عمر ایڈووکیٹ اور بیرسٹر تیمور پیش ہوئے جبکہ حکومت پنجاب کی جانب سے فرخ لودھی ایڈووکیٹ نے دلائل دیے۔وکیل صفائی نے موقف اختیار کیا کہ دونوں گھریلو خواتین ہیں اور عظمی خان درج مقدمے میں بے قصور بھی قرار پا چکی ہیں، لہذا ڈی سی کی جانب سے جاری نظر بندی کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار دیا جائے۔عدالت نے عظمی خان اور نوری نیازی کی نظر بندی کا نوٹیفکیشن فوری معطل کرنے کی استدعا مسترد کرکے حکومت پنجاب سمیت فریقین کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا۔
واضح رہے نورین نیازی اور عظمی خان کو تین روز قبل لاہور میں رات گئے ان کی رہائشگاہ سے گرفتار کر لیا گیا تھا۔ذرائع کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کے 27 ستمبر کے احتجاج کے پیش نظر جاری کریک ڈان کے دوران پولیس نے بانی پی ٹی آئی کی بہنوں نورین نیازی اور عظمی خان گرفتار کیا۔اہلخانہ کے مطابق عظمی اور نورین نیازی کو رات گئے بچوں سمیت گرفتار کیا گیا، گرفتاری کے بعد بچوں اور دیگر اہلخانہ کو چھوڑ دیا گیا۔تھری ایم پی او آرڈر کے تحت گرفتاری کے بعد نورین نیازی اور عظمی خان کو کوٹ لکھپت جیل لاہور منتقل کر دیا گیا۔
ڈپٹی کمشنر لاہور نے عظمی اور نورین خان کا نظربندی آرڈر جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ عظمی اور نورین خان کو نقص امن کے خطرے کے پیش نظر 30 روز کیلئے جیل بھجوایا جائے۔اس سے قبل عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کو پولیس نے لاہور میں ان کی رہائشگاہ کے باہر سے حراست میں لے کر کوٹ لکھپت جیل منتقل کر دیا تھا۔ڈپٹی کمشنر لاہور نے تھری ایم پی او کے تحت علیمہ خان اور پی ٹی آئی رہنما محمد امیر کی 30 روزہ نظر بندی کے احکامات جاری کر دیئے تھے۔علیمہ خان کی گرفتاری کے بعد پی ٹی آئی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں الزام عائد کیا کہ غیر قانونی حکومت اور غیر قانونی اقتدار پر قابض اس کے سہولت کاروں نے علیمہ خان کو ان کے گھر کے باہر سے اغوا کیا ہے۔علیمہ خان کے وکیل رانا مدثر عمر کا کہنا تھا کہ پولیس نے غیر قانونی طور پر حراست میں لیا، علیمہ خان کی لاہور کے تمام مقدمات میں ضمانتیں ہیں، علیمہ خان کو کس مقام یا تھانے میں رکھا ہے، ہمیں کوئی علم نہیں۔
لاہور ہائیکورٹ، عظمی خان اور نورین نیازی کی نظر بندی کا نوٹیفکیشن فوری معطل کرنے کی استدعا مسترد
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
