ہومکھیلٹوکیو اولمپکس اختتام پذیر: امریکہ میڈلز کی دوڑ میں سب سے آگے

ٹوکیو اولمپکس اختتام پذیر: امریکہ میڈلز کی دوڑ میں سب سے آگے

ٹوکیوم،جاپان کے دارالحکومت ٹوکیو میں جاری کھیلوں کے عالمی مقابلوں اولمپکس کا رنگا رنگ میلہ اختتام کو پہنچ گیا ۔ کوروناوائرس کے سائے تلے ہونے والے ان مقابلوں میں شان دار کارکردگی دکھانے پر امریکی صدر جو بائیڈن نے امریکی ایتھلیٹس کو خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔امریکی صدر نے امریکی اولمپینز کے ساتھ ایک ورچوئل میٹنگ میں ان کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ “مجھے آپ پر فخر ہے۔”بائیڈن نے کہا کہ وہ ایتھلیٹس کو وائٹ ہاس مدعو کر کے انہیں اس شان دار کارکردگی پر داد دیں گے۔عالمی مقابلوں کے آخری دن امریکی خواتین نے باسکٹ بال، والی بال اور ان ڈور سائیکلنگ کے فائنلز میں کامیابیاں سمیٹیں جس کے بعد امریکہ کے گولڈ میڈلز کی تعداد 39 تک جا پہنچی۔ اس کے علاوہ امریکہ نے چاندی کے 41 اور کانسی کے 33 تمغے بھی حاصل کیے۔چین 38 سونے کے تمغوں کے ساتھ دوسری پوزیشن پر رہا لیکن اس کے تمغوں کی مجموعی تعداد امریکہ کے مقابلے میں کم رہی۔ چین کے کل 88 تمغوں میں چاندی کے 32 اور کانسی کے 18 تمغے بھی شامل ہیں۔روسی اولمپک کمیٹی، برطانیہ اور جابان نے بالترتیب 71، 65 اور 58 تمغے حاصل کیے۔کرونا وبا کے خطرات کے باعث اولمپکس ایک سال کی تاخیر سے جاپان کے شہر ٹوکیو میں منعقد کیے گئے جہاں منتظمین نے حفاظتی اقدامات کے ساتھ کھیلوں کا انعقاد یقینی بنایا۔ احتیاطی تدابیر کے باعث عالمی مقابلے کے دوران اکثر اسٹیڈیمز شائقین سے خالی نظر آئے۔کھلاڑیوں کے ساتھ ورچوئل میٹنگ میں صدر بائیڈن نے امریکی کھلاڑیوں کو بتایا کہ وہ ان کی کارکردگی پر کتنے نازاں ہیں۔صدر نے ایتھلیٹس کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے ایک بار پھر ہمیں یہ یاد دلایا ہے کہ ہمارا ملک کتنا عظیم ہے۔بائیڈن نے جمناسٹ سمون بائلز کی بھی تعریف کی کہ جو ذہنی مسئلے کی وجہ سے شروع کے مقابلے سے باہر رہنے کے بعد گیمز میں واپس آئیں۔عالمی شہرت یافتہ امریکی جمناسٹ بائلز نے 2016 کے اولمپکس میں چار گولڈ میڈلز جیتے تھے۔ ان مقابلوں میں انہوں نے کانسی کا ایک تمغہ بھی جیتا تھا۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔