Sunday, May 17, 2026
ہومتازہ ترینطالبان کا نمروز میں صوبائی دارالحکومت پر قبضہ،باب دوستی آمد و رفت کیلئے بند

طالبان کا نمروز میں صوبائی دارالحکومت پر قبضہ،باب دوستی آمد و رفت کیلئے بند

کابل،افغان طالبان نے پیش قدمی کرتے ہوئے صوبہ نمروز کے دارالحکومت پر قبضہ کرلیا جو کسی بھی صوبائی دارالحکومت پر ان کا پہلا قبضہ ہے۔
خبر ایجنسی رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق نمروز کی صوبائی پولیس نے کہا کہ طالبان نے صوبائی دارالحکومت زرنج پر قبضہ کرلیا ہے جو کسی بھی صوبائی حکومت پر ان کا پہلا قبضہ ہے۔ترجمان پولیس نے سیکیورٹی خدشات کے باعث شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ طالبان کے پاس شہر پر قبضے کا موقع تھا کیونکہ حکومت کی جانب سے انتظامات نہیں کیے گئے تھے۔طالبان اس سے قبل حالیہ مہینوں میں کئی اضلاع اور سرحدی علاقوں پر قبضہ کرچکے ہیں اور مغرب ہیرات اور جنوب میں قندھار تک صوبائی دارالحکومتوں پر دبائو بڑھا دیا ہے۔ اس سے قبل رائٹرز کی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ طالبان نے افغانستان میں اپنے تسلط کو سرحدی علاقوں میں بڑھاتے ہوئے دو صوبائی دارالحکومتوں کی جانب پیش قدمی تیز کردی ہے اور اس دوران انہوں نے افغان فورسز جبکہ حکومت کی حمایت یافتہ ملیشیا کو بھی نشانہ بنایا۔شمالی صوبے جوزجان میں طالبان کی تازہ کارروائیوں میں 10 افغان فوجی اور عبدالرشید دوستم ملیشیا گروپ سے تعلق رکھنے والا ایک کمانڈر مارا گیا۔دوسری جانب افغانستان میں حکومت کے ڈائریکٹر انفارمیشن میڈیا سینٹر دوا خان طالبان کے حملے میں مارے گئے ،مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ٹوئٹر پر ترجمان طالبان ذبیح اللہ مجاہد نے اپنی ٹوئٹ کے ذریعے اطلاع دی ہے کہ کابل کے دارالامان روڈ پر کابل انتظامیہ کے میڈیا سنٹر کے سربراہ دوا خان مینہ پال مجاہدین کے ایک خاص حملے میں مارے گئے۔ترجمان طالبان ذبیح اللہ مجاہد نے دوا خان مینہ پال کی تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ میڈیا ڈائریکٹر کو انھیں ان کے اعمال کی سزا دی گئی ہے تاہم ترجمان طالبان نے ان کا جرم نہیں بتایا۔دوسری جانب طالبان جنگجوں نے جوزجان میں رشدی دوستم کے عسکری گروہ سے گھمسان جنگ کے بعد 12 میں سے 9 اضلاع کا کنٹرول حاصل کرلیا اور اب صوبائی دارالحکومت کی جانب پیش قدمی کر رہے ہیں جہاں ترکی سے حال ہی میں رشید دوستم پہنچے ہیں۔اسی طرح صوبے ہلمند کے بھی اکثریتی اضلاع میں بھی طالبان نے کنٹرول حاصل کرلیا ہے اور اب صوبائی دارلحکومت کے قریب پہنچ چکے ہیں۔ جلد ہی ہلمند اور جوزجان کے بھی طالبان کے مکمل کنٹرول میں جانے کی امید ہے۔صوبے قندھار اور ہرات میں طالبان پہلے ہی مضبوط ہیں اور اکثریتی علاقے کا قبضہ حاصل کرچکے ہیں، اس کے علاوہ اسپین بولدک میں بھی عمل داری قائم کرچکے ہیں اور افغان حکومت کابل کے علاوہ چند ایک علاقوں تک سمٹ چکی ہے۔علاوہ ازیں طالبان نے پاکستان، افغانستان کی سرحد کو سپین بولدک کے مقام پر ہر قسم کی نقل و حرکت کے لیے بند کر دیا ہے۔برطانوی میڈیا نے دعوی کیا کہ طالبان نے کہا ہے کہ جب تک پاکستان ایسے افغان پناہ گزینوں کو آنے جانے کی اجازت نہیں دیتا جن کے پاس مطلوبہ دستاویزات موجود ہیں، تب تک یہ سرحد بند رہے گی، افغان طالبان کے قندھار کے کمشنر کی جانب سے سرحد کی بندش کا اعلان کیا گیا ہے۔بیان میں مزید کہا گیا ہے سپین بولدک میں ویش کے مقام پر سرحد آمد و رفت کے علاوہ تمام چھوٹی بڑی گاڑیوں اور تجاری سامان کے لیے بھی بند رہے گی۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔