گوادر،وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ وہ بلوچستان میں عسکریت پسندوں کے ساتھ بات کرنے کا سوچ رہے ہیں، جو پاکستان کا سوچے گا وہ بلوچستان کا ضرور سوچے گا، سوچ رہا ہوں علیحدگی کی تحریکیں چلانے والوں سے بھی بات کروں، ایسے لوگوں کو بھارت جیسے ممالک اپنے مفاد کے لیے استعمال کرتے ہیں، بلوچستان کی ترقی کے بجائے صرف انتخابات جیتنے کی سیاست کی گئی لیکن میری ترجیح الیکشن جیتنا نہیں بلکہ عوامی خدمت ہے جب کہ میں بھی نواز شریف کی طرح گرمیاں لندن میں گزار سکتا ہوں اور چاہتا تو لندن میں شاہانہ زندگی گزارتا لیکن قومی خدمت کو ترجیح دی، نواز شریف نے بیرون ممالک کے درجنوں دورے کیے، نواز شریف اور زرداری نے بلوچستان آنے کی بجائے بیرون ملک شاپنگ پر زیادہ توجہ دیتے تھے ۔ بلوچستان کی ترقی کے لئے امن ضروری ہے۔
وہ پیر کوان خیالات کا اظہار گوادرکے دورے کے موقع پر مقامی عمائدین، طلبہ اور کاروباری شخصیات سے خطاب میں کر رہے تھے ۔ انھوں نے کہا میں سوچ رہا ہوں علیحدگی کی تحریکیں چلانے والوں سے بھی بات کروں، ایسے لوگوں کو بھارت جیسے ممالک اپنے مفاد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔وزیر اعظم نے کہا اب تو بلوچستان پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے، ہم نے سب سے زیادہ پیکیج بلوچستان کو دیا ہے، وفاق نے بھی اور میرے خیال سے مقامی سیاست دانوں نے بھی توجہ نہ دی، جو پیسہ وفاق سے آتا تھا میرے خیال سے وہ بھی درست استعمال نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ جو پاکستان کا سوچے گا وہ بلوچستان کا ضرور سوچے گا۔وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ماضی میں حکمرانوں نے بلوچستان توجہ نہیں دی۔عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت میں آنے سے قبل سوچ رکھا تھا کہ بلوچستان پر توجہ دیں گے۔انہوں نے کہا کہ تاکہ وہاں کے لوگ بھی یہ سمجھیں کہ یہ ہمارا بھی پاکستان ہے۔ وزیراعظم نے بلوچستان میں مزاحمت کرنے والوں کے بارے میں کہا کہ ہو سکتا ہے کہ ماضی میں یہ بھارت یا کسی اور طرف سے استعمال ہوئے ہوں، یا ان کو کوئی رنج ہو۔انہوں نے کہاکہ انہیں یہ احساس ہونا چاہیے کہ اب حالات وہ نہیں ہیں۔وزیر اعظم نے کہا کہ بدقسمتی سے ماضی میں بلوچستان کی ترقی پر کسی نے توجہ نہیں دی اور بلوچستان کی ترقی کے بجائے صرف انتخابات جیتنے کی سیاست کی گئی لیکن میری ترجیح الیکشن جیتنا نہیں بلکہ عوامی خدمت ہے جب کہ میں بھی نواز شریف کی طرح گرمیاں لندن میں گزار سکتا ہوں اور چاہتا تو لندن میں شاہانہ زندگی گزارتا لیکن قومی خدمت کو ترجیح دی ۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف نے بیرون ممالک کے درجنوں دورے کیے ۔ نواز شریف اور زرداری نے بلوچستان آنے کی بجائے بیرون ملک شاپنگ پر زیادہ توجہ دیتے تھے ۔ بلوچستان کی ترقی کے لئے امن ضروری ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی عوام کے احساس محرومی کے خاتمے کے لئے ریکارڈ ترقیاتی پیکج دیا ہے ۔ گوادر میں سمندر کے کھارے پانی کو پینے کے قابل بنانے کے پلانٹ پر ابھی کام تیزی سے جاری ہے جب کہ بلوچستان کے مفادات اور حقوق کا مکمل تحفظ کریں گے ۔ علاوہ ازیں وزیر اعظم عمران نے ایک روزہ دورہ گوادر کے موقع پر بلوچستان ترقیاتی پیکج کے حوالے سے سربراہی اجلاس کی صدارت کی، وزیر اعظم عمران خان نے وفاقی اور صوبائی اداروں کو ملکر ترقیاتی پیکیج پر جاری کام کی نگرانی اور منصوبوں کی ترجیحی بنیادوں پر وقت پر تکمیل کو یقینی بنانے کی ہدایت کی ۔ وزیرِ اعظم عمران خان نے اس موقع پر کہا کہ بلوچستان کی ترقی حکومت کی اولین ترجیحات میں سے ایک ہے،تاریخ میں پہلی بار ہے کہ کوئی حکومت قدرتی وسائل اور باصلاحیت افرادی قوت سے بھرپور صوبے، بلوچستان پر توجہ دے رہی ہے،سڑکوں کے جال، صنعتی ترقی سے روزگار کی فراہمی، زراعت کی ترقی اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنا رہے ہیں۔قبل ازیں وزیراعظم عمران خان نے ترقیاتی منصوبوں کی افتتاحی تقریب سے خطاب میں کہا کہ یہاں ایک انٹرنیشنل ایئرپورٹ بننے جا رہا ہے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ افغانستان میں سب سے زیادہ نقصان اٹھانے والا ملک اور لوزر بھارت ہے، اس کی اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری اس وقت دا ئوپر لگی ہوئی ہے، ہم سب کو خدشہ ہے کہ کہیں افغانستان کے حالات خراب نہ ہو جائیں، ہماری حکومت کی پوری کوشش ہے کہ افغانستان میں سیاسی تصفیہ ہوجائے۔
