کوٹلی، پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ عوام نے (ن)لیگ کی ترقی اورعمران خان کی تبدیلی کو دیکھ لیا ہے، پیپلز پارٹی عوام کیساتھ کھڑی رہے گی، جیالوں کو حکم دوں تو حکمران کہیں کے نہیں رہیں گے،پیپلز پارٹی کشمیر کے صدر پر دو مرتبہ حملہ ہوا، ہم مسلم کانفرنس کی عزت کرتے ہیں مگر یہ کیسی جماعت ہے؟ کیاووٹ کی عزت بندوق سے ہوتی ہے؟ آپ ووٹ کی طاقت سے ہمارا مقابلہ کریں ، ہم ایسی سیاست نہیں کرنے دیں گے،جہاں جیالوں کا پسینہ گرے وہاں ہمارا خون گرے گا، مودی نے کشمیرکی حیثیت تبدیل کی تو بزدل نے ہائی وے کا نام سری نگر ہائی وے رکھ دیا، مودی نے حملہ کیا تو بزدل نے اسمبلی فلور پر کہا کہ میں کیا کروں، کشمیر پر سودیبازی ہرگز قبول نہیں کریں گے، جب تک ایک بھی جیالا ہے ان کا ہر منصوبہ ناکام بنائیں گے۔
پیر کوکوٹلی میں انتخابی جلسے سے خطاب کے دوران بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ حکمران پیپلز پارٹی کے جیالوں سے خوفزدہ ہیں، پیپلز پارٹی کشمیر کے صدر پر دو مرتبہ حملہ ہوا، ہم مسلم کانفرنس کی عزت کرتے ہیں مگر یہ کیسی جماعت ہے جو پیپلز پارٹی کے صدر پر حملہ کرتی ہے، کیاووٹ کی عزت بندوق سے ہوتی ہے؟ ، جیالوں کو حکم دوں تو حکمران کہیں کے نہیں رہیں گے، آپ ووٹ کی طاقت سے ہمارا مقابلہ کریں ، ہم ایسی سیاست نہیں کرنے دیں گے،جہاں جیالوں کا پسینہ گرے وہاں ہمارا خون گرے گا۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ مودی نے کشمیرکی حیثیت تبدیل کی تو بزدل نے ہائی وے کا نام سری نگر ہائی وے رکھ دیا، مودی نے حملہ کیا تو بزدل نے اسمبلی فلور پر کہا کہ میں کیا کروں، کشمیر پر سودیبازی ہرگز قبول نہیں کریں گے، جب تک ایک بھی جیالا ہے ان کا ہر منصوبہ ناکام بنائیں گے، عوام نے (ن)لیگ کی ترقی اورعمران خان کی تبدیلی کو دیکھ لیا ہے، پیپلز پارٹی عوام کیساتھ کھڑی رہے گی، عمران خان کی طرح تنہا نہیں چھوڑیں گے، آزاد کشمیرکیعوام کومعاشی طورپرمضبوط بنائیں گے۔اس سے قبل 5 جولائی 1977 کو پیپلز پارٹی کی پہلی حکومت کے خاتمے اور ملک میں مارشل لا کے نفاذ کی مناسبت سے اپنے پیغام میں بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ 5 جولائی کو پاکستان کی تاریخ میں ہمیشہ ایک سیاہ ترین دن کے طور پر یاد کیا جائے گا، آمر جنرل ضیا الحق کی سربراہی میں وہ فوجی بغاوت پاکستانی عوام کی جمہوری امنگوں پر سفاک حملہ تھا، اس بغاوت کے ذریعے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی زیرِ قیادت جمہوری طور منتخب عوامی حکومت پر شبِ خون مارا گی، ذوالفقار علی بھٹو نے سقوط ڈھاکا کے بعد ٹکڑوں میں بٹی ہوئی قوم کو متحد کیا، انہوں نے ان ٹکروں کو متحرک جمہوری نظام اور مضبوط معاشی ارادوں کے سائے تلے آپس میں جوڑ دیا تھا۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ جمہوری طور منتخب وزیر اعظم کی حیثیت سے ذوالفقار علی بھٹو نے اتفاقِ رائے سے آئین کی منظوری کی سرپرستی کی، انہوں نے پاکستان کی میکرو اکانومی کی بنیادیں رکھیں، ہر پاکستانی کو شہریت اور پاسپورٹ کا حق دیا، قائد عوام نے ملک کو ایٹمی طاقت بننے کی راہ پر گامزن کیا، ریاست کو جمہوری بنایا، چند سلیکٹڈ افراد تک محدود اقتدار کو چھین کر عوام کو اختیارات منتقل کیئے اور انہیں بااختیار بنایا، 1977 کا مارشل لا پاکستان کی عوام پر بدترین حملہ تھا، جس کا خمیازہ آمر کی موت کو کئی دہائیاں گذرنے کے باوجود قوم تاحال بھگت رہی ہے، 5 جولائی 1977 کی بغاوت نے عدم رواداری، انتہا پسندی اور دہشت گردی کے بیج بوئے اور ان کی آبیاری کی، ان کی جڑوں کو ہمارے معاشرے میں سرایت کرنے دیا، جو آج ہمارے لیے باعثِ مصیبت بنی ہوئی ہیں۔چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ وزیراعظم شہید ذوالفقار علی بھٹو نے امت مسلمہ کو متحد کیا اور اپنے دوراندیش سیاسی تدبر سے عالم اسلام کی قیادت کی، انہوں نے دو آمروں کا مقابلہ کیا، اور بڑی بہادری کے ساتھ عوام کے حقوق کے لئے جنگ لڑی، قائدِ عوام نے تختہ دار تو قبول کر لیا، لیکن پیچھے ہٹنا گوارا نہ کیا، ان کے حامیوں اور پیروکاروں کو بھی کوڑے، قیدِ تنہائی اور پھانسی سمیت ہر قسم کے غیر انسانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ جمہوری اور آمریت پسند قوتوں کے درمیان جنگ آج بھی جاری ہے، ذوالفقار علی بھٹو نے کہا تھا کہ اقتدار عوام کو دے دیا جائے، ورنہ سب کچھ ختم ہو جائے گا، یہ الفاظ آج کے لیے بھی درست ہیں کیونکہ ہم آج بھی پاکستان کی جمہوری بقا کے لئے لڑ رہے ہیں، ذوالفقار علی بھٹو آج بھی زندہ ہے جبکہ انہیں اذیتیں دینے والے تاریخ کی ملامت جھیلنے کے لیئے کوڑے دان میں پڑے ہیں، شہید ذوالفقار علی بھٹو نے ملک و قوم کے حقوق پر سمجھوتہ کرنے کے بجائے اپنی جان نچھاور کرنے کو ترجیح دی۔علاوہ ازیں نکیال میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آزادکشمیرکے عوام نہ مظفر آباد میں کٹھ پتلی چاہتے ہیں نہ اسلام آباد میں، ہم سے یہ برداشت نہیں ہوتا کہ مودی بدترین حملہ کرے اور کٹھ پتلی وزیراعظم کہے میں کیا کروں۔بلاول نے ایک ہی تیر سے پی ٹی آئی اور ن لیگ پر وار کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا مقابلہ کرنا چاہتے ہو تو ووٹ سے کرو، جیالوں کو حکم دیا تو ووٹ کی عزت والے کا بھی بندوبست کریں گے اور کٹھ پتلی کا بھی۔ بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ ہم آپ کی طرح تشدد پر یقین نہیں رکھتے، جیالوں نے ضیاالحق اور مشرف کا مقابلہ کیا، مودی کی آنکھ میں آنکھیں ڈال کر بات کرتے ہیں، مودی کو شادی میں دعوت نہیں دیتے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم سے یہ برداشت نہیں ہوتا کہ مودی بدترین حملہ کرے اور کٹھ پتلی وزیراعظم کہے میں کیا کروں۔
