Tuesday, May 12, 2026
ہومکالم وبلاگزغوری گرین ،گرین نہیں

غوری گرین ،گرین نہیں

تحریر عنبرین علی

آج میں اسلام آباد یا پنڈی کے اس علاقے کی بات کرنے جا رہی ہوں جو ہمیشہ سے بے یارو مددگار رہا ہے ،اسلام آباد یا پنڈی اس لیے کہا کیونکہ میں بات کر رہی ہوں اسلام آباد کے ایکسپریس وے کے قریب علاقے غوری ٹاون کی ،جسکی بدقسمتی یہ ہے کہ پنڈی والے کہتے ہیں یہ اسلام آباد میں آتا ہے اور اسلام آباد والے کہتے ہیں یہ پنڈی کا علاقہ ہے اور یوں یہ علاقہ ایک سوالیہ نشان بن کررہ جاتا ہے،خیر مجھے چونکہ ہمیشہ ہی سے ماحول کی فکر رہتی ہے اس لیے سوچا غوری ٹاون کے ماحول سے آپکو کیوں بے خبر رکھا جائے آپ جیسے ہی اس علاقے میں داخل ہوتے ہیں تو رکشہ اور چنکچی اسٹاپ پر لگے ہوئے کچھ درخت دیکھتے ہی سوچتے ہیں غوری ٹاون کتنا خوبصورت اور صاف ہو گا ،گھنے گھنے درختوں سے لدا ہوا ہو گا۔۔
اسی سوچ کے ساتھ جب آپ مزید آگے آتے ہیں تو بورڈ پر دیکھنے کو ملتا ہے غوری گرین ،جسکو پڑھتے ہی یوں لگتا ہے جیسے کہ نہ جانے کتنے ہی گرین بیلٹس گرینری سے لدے ہوئے ہوں گے اور وہ بورڈ پر لکھے الفاظ آپکو گرینری ڈھونڈنے پر مجبور کر دیتے ہیں مگر بدقسمتی سے گرین بیلٹ آپکو نہ صرف خالی بلکہ ارد گرد گندگی بھی دیکھنے کو ملتی ہے۔بات وہیں آجاتی ہے کہ ترقی یافتہ سوسائٹیز کی ترقی صرف اونچی بلڈنگز نہیں بلکہ گرینری ،ہرے بھرے پودے،درخت بھی ہوتے ہیں ،لیکن جیسے جیسے آپ غوری ٹاں کا کلمہ چوک کراس کرتے ہیں تو آپکی عقل دنگ رہ جاتی ہے کہ یہاں تو ماسوائے تین یا چار چھوٹے پودوں کے کوئی سایہ دار درخت تک نہیں۔۔
غوری ٹاون میں درختوں کا نہ ہونا ثابت کرتا ہے یہاں کی آب و ہوا کس قدر گرد آلود ہو گی اسوقت ،پورے شہر میں جہاں سی ڈی اے کی جانب سے خوب درخت لگائے جا رہے ہیں تو وہاں ہی غوری ٹاون میں اس مہم کا کوئی نام و نشان تک نہیں ۔غوری ٹاون کی حالت اس قبرستان کی مانند ہے جہاں لوگ دعا کے لیے تو آتے ہیں مگر سایہ دار درخت لگانا بھول جاتے ہیں ،جیسے گلاب جامن میں جامن نہیں ویسے ہی غوری گرین میں کچھ گرین نہیں۔ یہاں کے شہریوں سے جب بات کرنے کا انکشاف ہوا اور درخت لگانے کی آگہی کی کوشش کی گئی تو اکثر وبیشتر کا کہنا تھا،اگر گھر کے باہر پودہ لگائیں گے تو ہمارے گھروں کی جڑیں کمزور پڑ جائیں گی ،لیکن ان شہریوں کو کون سمجھائے کہ اگر اس علاقے کو درختوں سے مزید محروم رکھا تو کہیں زندگی کی جڑیں نہ کمزور پڑ جائیں ،غوری ٹان کے اسوقت آٹھ مالکان ہیں اور کوئی ایک بھی ماحول کو سنوارنے کا نام نہیں لے رہا یہ سوسائٹی قانونی بھی ہے یا نہیں یہ عدالت طے کرے گی ،لیکن درخت قانونی یا غیر قانونی نہیں ہوتے،غوری ٹاون کے مالک عثمان چوہدری کو سوچنا ہو گا کہ اس سوسائٹی کے شہریوں کو کیسے درخت لگانے کی مہم کی جانب راغب کیا جائے ،یا پھر سی ڈی اے کی طرح انھیں خود ہی پہل کرنا ہو گی کہ وہ سو سائٹی میں درخت لگوائیں تا کہ جب لوگ غوری گرین کا بورڈ پڑھیں تو انھیں واقعی گرینری کا احساس ہو۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔