ہومپاکستاننیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں 6اور 7جولائی کو عالمی کانفرنس منعقد ہو گی

نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں 6اور 7جولائی کو عالمی کانفرنس منعقد ہو گی

اسلام آ باد،نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آ باد بھارت میں ہندوتوا کے فروغ اور اس کے علاقائی سلامتی پر اثرات کے حوالے سے ایک اعلی سطح کی دو روزہ عالمی کانفرنس کا انعقاد کر رہی ہے، اس دو روزہ کانفرنس کا افتتاح صدر مملکت ڈاکڑ عارف علوی کریں گے، کانفرنس میں دنیا کی معروف یونیورسٹیوں اور تھنک ٹینکس سے بین لاقوا می امور کے سکالرز اور ماہرین ہندتوا کے فروغ اور علاقائی سلامتی پر اس کے اثرات کے حوالے سے تحقیقاتی مقالہ جات پیش کریں گے جبکہ ریلشنز ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ ڈاکٹر خرم اقبال نے کہا ہے کہ کانفرنس کا اہم مقصد عالمی سطح پر دائیں بازو کی انتہاپسندی کے فروغ اور جنوبی ایشیا میں موجود اس کی مختلف شکلوں کا جائزہ لینا ہے اور یہ دیکھنا ہے کہ بنیاد پرستی کی اس نئی شکل جس کوہندوتوا کہا جاتا ہے کے علاقائی سلامتی پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں،بھارت میں ہندوتوا کے تحت بڑھتی ہوئی انتہا پسندی پر غور علاقائی سلامتی کے جائزے کے لئے ناگزیر ہے۔

تفصیلات کے مطابق نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آ باد کے ڈیپارٹمنٹ آ ف انٹرنیشنل ریلشنزکے زیر اہتمام بھارت میں سرکاری سرپرستی میں ہندوتوا کے فروغ اور علاقائی سلامتی پر اس کے اثرات کے عنوان سے 6جولائی سے 7جولائی تک دو روزہ اعلی سطح کی عالمی کانفرنس کا انعقاد کیا جا رہا ہے، کانفرنس کا افتتاح صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کریں گے، اس کانفرنس میں دنیا کی معروف یونیورسٹیوں اور تھنک ٹینکس سے بین لاقوا می امور کے سکالرز اور ماہرین شرکت کریں گے، نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کے انٹرنیشنل ریلشنز ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ اور کانفرنس کے چیف آ رگنائز ڈاکٹر خرم اقبال نے کہا ہے کہ کانفرنس کا اہم مقصد عالمی سطح پر دائیں بازو کی انتہاپسندی کے فروغ اور جنوبی ایشیا میں موجود اس کی مختلف شکلوں کا جائزہ لینا ہے اور یہ دیکھنا ہے کہ بنیاد پرستی کی اس نئی شکل جس کوہندوتوا کہا جاتا ہے کے علاقائی سلامتی پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔ ڈاکٹر خرم اقبال نے مزید کہا کہ مغربی ممالک نام نہاد اسلامی انتہاپسندی کو تو محدب عدسہ کے ذریعے دیکھتے ہیں لیکن ہندتواکے معاملہ پر اپنی آنکھیں اندھی کرلیتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ بھارت میں ہندوتوا کے تحت بڑھتی ہوئی انتہا پسندی پر غور علاقائی سلامتی کے جائزے کے لئے ناگزیر ہے۔کانفرنس میں بین لاقوامی تعقات اور امور کے ممتاز سکالرز اور ماہرین بشمول یونیورسٹی آ ف میری لینڈ امریکہ سے پروفیسر آرائی کروگلانسکی، چنگخوا یونیورسٹی چین سے پروفیسر شیئے چا، نائف عرب یونیورسٹی آ ف سیکورٹی اسٹڈیز سے پروفیسر میزان بن اسلم ، تہران یونیورسٹی سے اومد بیبیلیان، نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی سے ڈاکٹر لبنی عابد علی اور امریکہ کے ووڈرو ولسن سنٹر سے پروفیسر مائیکل کوگلمین اور چین کی سیچوان یونیورسٹی سے پروفیسر چھیو یانگ خوئی سمیت جنوبی ایشیا کے امور کے ماہرین اپنے تحقیقاتی مقالہ جات پیش کریں گے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔