اسلام آباد : تحریک انصاف کے بانی راہنما اکبر ایس بابرنے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر پی ٹی آئی کے عدم اعتماد پر اپنے ردعمل کااظہار کرتے ہوئے کہاکہ فسطائیت اور من پسندی اب پی ٹی آئی کا شیوہ بن چکی ہے جس کی ایک لمبی تاریخ ہے،جنرل مشرف کے اپریل 2002 ریفرنڈم کی کھل کر حماہیت کی مگر جب وزیراعظم نہیں بنایا تو جنرل مشرف کی مخالفت شروع کر دی،جسٹس وجیہہ کو خود نامزد کیا مگر جب انہوں نے انٹرا پارٹی الیکشن میں دھاندلی کی نشاندہی کی تو پارٹی سے نکال دیا۔
جیف الیکشن کمیشنر کو خود نامزد کیا مگر جب اس نے آزادانہ فیصلے کئے تو کردار کشی پر اتر آئے۔ اکبر ایس بابر کو brutally honest man کہتے تھے لیکن جب اس نے پارٹی میں کرپشن کی نشاندہی کی تو اس کے دشمن ہو گئے۔
جنرل عاصم منیر نے جب DG ISI کے طور پر پی ٹی آئی حکومت میں کرپشن کی نشاندہی کی تو اس کے مخالف ہو گئے۔جعلی انٹرا پارٹی الیکشن کی توثیق نہ کرنے پر اب موجودہ چیف جسٹس آف پاکستان کی کردار کشی جاری ہے۔یہ روش اور سیاسیت جمہوری نہیں بلکہ فسطائیت کی عکاسی کرتی ہے جسے جڑ سے اکھاڑنا ہو گا اگر پاکستان نے آگے بڑھنا ہے۔
