ہومپاکستانپی اے آر سی میں جدیدترکی مگس بانی کے فروغ کیلئے لیبارٹری کا قیام

پی اے آر سی میں جدیدترکی مگس بانی کے فروغ کیلئے لیبارٹری کا قیام

اسلام آباد، روایتی مگس با نی کے مقابلے میںترکی کا جدیدمگس با نی کا نظا م باآسانی شہد کی مکھیوں کی افز ا ئش نسل میں بڑھو تری کا زر یعہ ہے ۔پاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل کے ذیلی ادارے قومی زرعی تحقیقاتی مرکز میں ترک ادارہ برائے تعاون و ہم آہنگی کے اشتراک سے پاکستان میں مگس بانی کے فروغ کے لئے جدید آلات پر استوار لیبارٹری کا قیام کیا گیاتھا۔ پاک ترک شہد کی مکھیوں کی تحقیقاتی لیب کے زیر اہتمام ایک تقریب کا اہتمام کیا گیا ، جس میں ترکش مکھیوںکے چھتے کی تکنیک پاکستانی مگس بانوں کو متعارف کرانے اور اسے مقامی سطح پر اختیارکرنے کے لئے تربیتی پروگرام کا انعقاد کیا گیا۔

تقریب میں پاکستان میں ترکی کے سفیر احسن مصطفی یردکل نے خصوصی طور پر شرکت کی۔ ڈائریکٹر جنرل این اے آرسی سید شمیم السبطین بھی تقریب میں موجود تھے۔ ممبر قدرتی وسائل پاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل ڈاکٹرسرفراز احمد نے پروجیکٹ کی کامیابیوں کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان دنیا میں اعلی معیار کا شہد پیدا کرنے والے ممالک میں شامل ہے۔ مگس بانی نہ صرف ایک مشغلہ ہے بلکہ ایک منافع بخش کاروبار بھی ہے اس مشغلے کو وسیع پیمانے پر اختیار کر کے اپنی ذاتی ضرورتیں پورا کرنے کے علاوہ قومی آمدنی میں اضافہ بھی کرسکتے ہیں انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ شہد کی مکھیاں انسانیت کے لئے بڑی خدمات سرانجام دے دہی ہیں، ضرورت اس بات کی ہے کہ ان کی حفاظت کے تمام ضروری اقدامات کئے جائیں اس پروجیکٹ کے تحت جو سرگرمیاں مکمل کی گئی ہیں ان میں مگس بانوں کی صلاحیتیں بڑھانے کی تربیت، جدید شہد کی مکھیوں کے انتظامات کی تربیت ، شہد کی مکھی کی افزائش اور تربیت میں حصہ لینے والے والے شرکاء کو ترک مکھی کے 200جدید چھتے ، مگس بانی کٹس ، شہد کی مکھیوں کی افزائشی مصنوعات اور مالیکیولر ریسرچ سہولیات شامل ہیں ۔ترک سفیر احسن مصطفی یردکل نے کہا کہ ضرورت اس بات کہ ہے کہ شہد کے کاروبار سے وابستہ افراد کو سائنسی بنیادوں پر تربیت دے جائے ، ترکی پاکستان کے ساتھ زرعی شعبہ میں تعلقات کو مضبوط بنانے میں اتفاق رکھتا ہے ۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔