اسلام آباد،سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے غذائی تحفظ و تحقیق نے ملک کے مجموعی ترقیاتی بجٹ کا 10فیصد زراعت کیلئے مختص کرنے کی سفارش کر دی ، کمیٹی نے ملک میں گندم کی امدادی قیمت کے اعلان میں تاخیر پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے جولائی سے اگست تک امدادی قیمت کا اعلان کرنے اور ملک بھر میں فصلوں کے زونز بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا وفاق اور صوبے مشترکہ طور پر گندم کی امدادی قیمت کے اعلان اور خریداری کی یونیفارم پالیسی وضع کریں ، زونز میں ہدایت کے برخلاف فصل کاشت کرنے پر ڈپٹی کمشنر کی طرف سے جرمانے کرنے کئے جائیں ۔
کمیٹی کا اجلاس چیئرمین سید مظفر حسین شاہ کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہائوس میں ہوا ۔اجلاس میں سیکرٹری فوڈ سکیورٹی غفران میمن نے بتایا کہ پاکستان سینٹرل کاٹن کمیٹی میں اپٹما اپنی نمائندگی چاہتا ہے،ٹیکسٹائل انڈسٹری چار سے پانچ نمائندے اپنے پاکستان سینٹرل کاٹن کمیٹی میں چاہتا ہے،فنڈز نہیں ہیں جسکی وجہ سے ریسرچ نہیں ہو رہی۔کاٹن کمشنر ڈاکٹر خالد عبداللہ نے کہاکہ 2015 سے ٹیکسٹائل انڈسٹری سیس نہیں دے رہی،سیکرٹری فوڈ نے کہاکہ جب لسٹ دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ سینٹرل کاٹن ریسرچ انسٹی ٹیوٹ میں ڈرائیور، نائب قاصد وغیرہ کے علاوہ کوئی بندہ ہی نہیں۔وزیر فوڈ سکیورٹی سید فخر امام نے کہاکہ اپٹما کی پاکستان میں بہت اچھی نمائندگی ہو رہی ہے،ڈھائی سے تین ملین ڈالر کا کھانے کا تیل امپورٹ ہو رہا ہے، کاٹن سیڈ سے 70 فیصد کھانے کا تیل ملتا تھا،سوائے گزشتہ سال کے جو کاشتکار کو پھٹی کا ریٹ ملتا رہا وہ 43 ارب روپے سالانہ کم ملا،چیئرمین کمیٹی نے کہاکہ پارلیمنٹ میں اکثریت تو کاشتکاروں کی ہے مگر وہ اپٹما سے ہار جاتے ہیں، فخر امام نے کہاکہ جب جی ایم او کپاس ورائٹی آئی تو پاکستان کے علاوہ ہر ملک نے اس ورائٹی کیلئے ان سے معاہدہ کیا،پاکستان کا مستقبل کپاس ہے، مگر آدھی کپاس پاکستان میں نان سرٹیفائڈ ہے،ہماری کوشش ہے چین کیساتھ ملکر کپاس پر کام کریں،ہم نے ڈیپارٹمنٹ آف پلانٹ پروٹیکشن میں چند افراد بدلے تو سٹرس کی ایکسپورٹ بڑھ گئی۔کمیٹی کی جانب سے سفارش کی گئی کہ کپاس کی امدادی قیمت نہ ہونیکی وجہ سے کاشتکار دیگر فصلوں کی طرف منتقل ہوئے،اعلی معیار کے سرٹیفائڈ کپاس کے بیج فنڈز کی عدم دستیابی کیوجہ سے نہیں بنائے جا سکے،وزارت کپاس کی ڈویلپمنٹ اور ریسرچ کیلئے اپٹما کیساتھ سیس کے معاملے کو حل کرے،وزارت فوڈ مختلف فصلوں کیلئے زونز قائم کرے، قائمہ کمیٹی برائے فوڈ سکیورٹی کی جانب سے. ملک بھر میں گندم کی ایک جیسی امدادی قیمت کے عملدرآمد کی سفارش کی گئی،کمیٹی کی جانب سے جولائی سے اگست تک امدادی قیمت کے اعلان کی سفارش کی گئی،کمیٹی نے کہاکہ گندم کے پروکیورمنٹ سینٹرز بڑھائے جائیں،وفاقی ترقیاتی بجٹ کا کم سے کم دس فیصد زراعت کیلئے مختص کیا جائے۔اجلاس کے دوران سیکرٹری فوڈ نے بتایا کہ گندم کی پروکیورمنٹ کا سندھ کا 1.4 ملین ٹن ٹارگٹ تھا لیکن 1.053 ملین پروکیور کی،پنجاب کا 3.5 ملین ٹن ہدف کے مقابلے 3.7 ملین ٹن خریدی ہے،پاسکو کا 1.2 ملین ٹن ہدف تھا اور 0.81 ملین ٹن خریدی گئی، سیکرٹری فوڈ نے بتایا کہ ورلڈ بنک نے 200 ملین ڈالر لوکسٹ کنٹرول پروگرام کیلئے منظور کیا ہے،گندم کے مناسب سٹاک ہمارے پاس موجود ہیں،حکومت نے ڈی اے پی اور دیگر فاسفیٹ کھادوں پر1500 روپے فی ایکڑ سبسڈی کا اعلان کیا ہے۔چیئرمین ارسا راو ارشاد نیصوبوں کو پانی کی دستیابی پر بریفنگ دیتے بتایا کہ اس وقت صوبوں کو اوسطا پانی کے 20 فیصد شارٹ فال کا سامنا ہے۔چئیرمین کمیٹی نے ارسا سے سوال کیاکہ معاہدے کے تحت پانی کی قلت کی صورت میں پنجاب اور سندھ کمی کو برابر شئیر کریں گے،پنجاب اور سندھ کے درمیان پانی کے تنازعہ کے حل کے لئے کیا کیا گیا۔سندھ سے تعلق رکھنے والے ممبران کمیٹی چئیرمین ارسا پر پھٹ پڑے جام مہتاب نے کہاکہ ارسا پانی کے معاملے پر جانبدار ہے،چئیرمین ارسا نے کہاکہ تربیلا اور کالا باغ کی فزیبلٹی بنائی گئی۔ واپڈا نے تربیلا پہلے بنانے کا فیصلہ کیا۔کالا باغ کا ذکر کرنے پر چئیرمین کمیٹی نے چئیرمین ارسا کو روک دیا ،چیئرمین ارسا نے کہاکہ اپریل میں سندھ کو زیادہ پانی ملا۔ مئی میں پنجاب کو زیادہ پانی ملا۔نیوٹرل انسپیکٹر کا نوٹیفیکیشن جاری کرنے کی وزیراعظم نے ہدایت کی،واپڈا اور پنجاب نے نیوٹرل انسپیکٹر کی ٹیم دے دی سندھ نے نہیں دی،سندھ نے اعتراض کیا کہ واپڈا کی ٹیم نہیں ہونی چاہیے۔کمیٹی کی جانب سے کوٹری سے پانی چھوڑنے پر چئیرمین ارسا تسلی بخش جواب نہ دے سکے،کمیٹی کا تیس سال گزرنے کے باوجود کوٹری سے پانی چھوڑنے کے متعلق فیصلہ نہ ہونے پر برہمی کا اظہار کیا، کمیٹی نے پانی کی تقسیم کے معاہدے پر مجاز فورم پر فیصلے کے لئے معاملہ اٹھانے کی ہدایت کی، کمیٹی نے ارسا سے فلڈ کینال پر بھی رپورٹ مانگ لی،چیئرمین ارسا نے کہاکہ ارسا نے وزیر اعظم کو نئے ذخائر بنانے کے لئے خط لکھا۔
