افغانستان فریڈم فرنٹ نے نورستان اور کنڑ میں طالبان رجیم کی متعدد چوکیوں پر قبضے اور 17 طالبان کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
افغان انٹرنیشنل کے مطابق تازہ لڑائی اس وقت شروع ہوئی جب طالبان نے افغانستان فریڈم فرنٹ کی پوزیشنوں پر قبضے کی کوشش کی۔
افغان فوج کے سابق جنرل سمیع سادات کی قیادت میں افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ کی کارروائیوں کے دوران بھی ستمبر سے اب تک 69 سے زائد طالبان اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں۔
افغانستان فریڈم فرنٹ افغانستان میں طالبان مخالف ایک مسلح گروپ ہے، جو 2022 میں طالبان کی حکومت قائم ہونے کے بعد سامنے آیا۔ اس گروپ کا مقصد طالبان کی حکمرانی کے خلاف مزاحمت اور افغانستان میں جمہوری نظام کے قیام کی حمایت کرنا ہے۔ افغانستان فریڈم فرنٹ کو نیشنل ریزسٹنس فرنٹ سے الگ گروپ سمجھا جاتا ہے۔ دونوں طالبان مخالف مسلح تنظیمیں ہیں، لیکن ان کی تنظیمی ساخت اور قیادت الگ ہے۔
مزاحمتی گروپوں نے کابل، سرائے پل، قندہار، بدخشاں اور پکتیا میں طالبان پر حملے کئے
تازہ جھڑپوں میں پہلے ایک ہفتے کے دوران کابل، سرِاۓ پل، قندھار، بدخشاں، کنڑ، نورستان، پروان اور پکتیا میں مسلح مزاحمتی گروپوں نے طالبان رجیم کی چوکیوں، گاڑیوں اور اہلکاروں کو نشانہ بنایا۔
24 ستمبر کو سرِاۓ پل میں افغانستان فریڈم فرنٹ نے طالبان اجتماع کو نشانہ بنایا جس میں 3 طالبان ہلاک اور 2 زخمی ہوئے۔ 23 ستمبر کو کابل بگرام شاہراہ پر گشت کے دوران طالبان کی فوجی گاڑی کو نشانہ بنانے کے نتیجے میں ایک طالبان اہلکار ہلاک اور 2 زخمی ہوئے۔
فریڈم فرنٹ نے دعویٰ کیا کہ طالبان فورسز نے ہفتے کی صبح ڈرونز کے ذریعے اس کے ٹھکانوں پر حملہ کیا۔ جس پر ہمارے کمانڈوز نے جوابی کارروائی کرکے افغان طالبان کو ارندو کے علاقے اور کنڑ کے ضلع ناری کی جانب پسپائی اختیار کرنے پر مجبور کر دیا۔
فریڈم فرنٹ کے 6 ارکان کو گرفتار کرنے کا دعویٰ
دوسری جانب طالبان سے منسلک میڈیا ادارے حجاز پرشین نے رپورٹ کیا کہ نورستان کے ضلع کامدیش میں ایک مبینہ منصوبہ ناکام بنا کر فریڈم فرنٹ کے 6 ارکان کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو بھی گردش کر رہی ہے جس میں طالبان کا ایک جنگجو نورستان میں ایک غیر مسلح نوجوان سے پوچھ گچھ کرتا دکھائی دیتا ہے۔ نوجوان فارسی زبان میں بتاتا ہے کہ وہ کابل سے تعلق رکھتا ہے اور پشتو نہیں سمجھتا، جس کے بعد جنگجو اسے تھپڑ مارتا ہے۔
طالبان کی انٹیلی جنس سے منسلک میڈیا نے مذکورہ شخص کی تصویر جاری کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ وہ فریڈم فرنٹ کا رکن ہے۔ تاہم فریڈم فرنٹ کے ایک عہدیدار نے کہا کہ نوجوان کا تنظیم سے کوئی تعلق نہیں اور ممکنہ طور پر وہ مقامی سیاح ہے۔
افغانستان خانہ جنگی میں داخل ہو چکا، سابق نائب صدر امراللہ صالح
دوسری جانب جھڑپوں کے حوالے سے افغانستان کے سابق نائب صدر امراللہ صالح کا کہنا ہے کہ افغانستان خانہ جنگی میں داخل ہو چکا ہے، فی الحال یہ تنازع محدود ہے، لیکن مستقبل میں مزید پرتشدد اور تباہ کن تصادم کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔
ایک انٹرویو میں امراللہ صالح نے طالبان کی حکمرانی کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ طالبان کی مخالفت مختلف شکلوں میں سامنے آ رہی ہے، جن میں مسلح حملے اس مخالفت کا سب سے نمایاں اظہار ہیں۔
امراللہ صالح کے مطابق طالبان کی حکمرانی میں افغانستان قومی خودمختاری اور جائز ریاستی نظام سے محروم ہے، جس کے ملک بھر میں سنگین اثرات مرتب ہوئے ہیں۔
