اسلام آباد (نیوزڈیسک) نگران وزیرداخلہ سرفرازبگٹی نے کہا ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی کاٹرائل بھی ملٹری کورٹ میں ہی ہوگا تاہم دیکھناہوگاسپریم کورٹ نظرثانی درخواست پرکیا فیصلہ دیتی ہے۔
نگران وزیرداخلہ سرفرازبگٹی نے نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سویلینزکےٹرائل سےمتعلق فیصلہ پارلیمنٹ اور حکومت کیخلاف ہے، وفاقی حکومت کی نظرثانی اپیل پرفیصلہ سپریم کورٹ کرے گی ۔ ہماری پراسیکیوشن اتنی مضبوط نہیں کہ ملزمان کوسزادلواسکے۔
نگران وزیرداخلہ کا کہنا تھا کہ ملٹری کورٹ میں اسپیڈی ٹرائل ہوتاہے، فوجی تنصیبات پر حملے ہوں گے تو فیصلے بھی ملٹری کورٹس میں ہی ہونےچاہئیں۔
سرفرازبگٹی نے کہا کہ سانحہ 9 مئی منصوبہ بندی کےتحت ریاست کیخلاف سازش تھی، سانحہ9مئی کی سازش میں ملوث ملزمان کاٹرائل ملٹری کورٹس میں ہوگا، چیئرمین پی ٹی آئی کا ٹرائل بھی ملٹری کورٹ میں ہی ہوگا، دیکھنا ہوگا سپریم کورٹ نظرثانی درخواست پر کیا فیصلہ دیتی ہے۔
انھوں نے بتایا کہ مولانافضل الرحمان کودھمکیاں ملی ہیں، نوازشریف کوبھی سیکیورٹی خدشات ہیں لیکن دھمکیاں نہیں ملیں تاہم انتخابات پرامن ماحول میں ہی ہوں گے۔
چیئرمین پی ٹی آئی کے حوالے سے نگران وزیرداخلہ نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کی سیکیورٹی ہمارےلیےاہم ہے، چیئرمین پی ٹی آئی جس سیل میں ہیں ان کاٹرائل وہاں نہیں ہورہا۔
عمران خان کا ٹرائل بھی ملٹری کورٹ میں ہی ہوگا، نگران وزیرداخلہ
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
