ہومکامرسحکومت موجودہ کرونا صورتحال میں ہوٹل انڈسٹری کو ٹیکس سے مستثنی اور یوٹیلٹی بلز میں چھوٹ فراہم کرے،ایم اکرم فرید

حکومت موجودہ کرونا صورتحال میں ہوٹل انڈسٹری کو ٹیکس سے مستثنی اور یوٹیلٹی بلز میں چھوٹ فراہم کرے،ایم اکرم فرید

اسلام آباد(آئی پی ایس )کوروناوبا کے پیش نظر طویل لاک ڈاون کی وچہ سے ہوٹل اندسٹری سے وابسطہ افراد کا دیوالیہ ہو گیا ہے،ہوٹل انڈسٹری اب مزید کسی لاک ڈاون کی اور پابندیوں کی متحمل نہیں ہو سکتی-حکومت ہوٹلز اور ریسٹورینٹس میں ان ڈور اوٹ ڈور سروسز موری طور پر بہال کرے حکومت نے کرونا وبا کے کی صورتحال میں ہوٹل وسروس انڈسٹری کو کوئی ریلیف نہیں دیا ہوٹل انڈسٹری تقاضا کرتی ہے کہ حکومت ایک جامع معاشی پیکج کا اعلان کرے تاکہ بیروزگار اور عارضی طور پر ملازمت سے فارغ ہونے والے افرادمالی مشکلات کم ہوسکیں۔عید الفطر سے ایک ہفتہ پہلے طویل لاک ڈوان کی وجہ سے کاروباری سرگرمیوں کو بھاری نقصان پہنچا ہے- کورونا ایس او پیز کے نام پر ریسٹورنٹ اور ہوٹل انڈسٹری کا ہی لاک ڈاون اور معاشی قتل کیوں؟ ریسٹورنٹ اور ہوٹل انڈسٹری حکومت کو سب سے زیادہ ریونیو دینے والی انڈسٹری ہے جو چولہا دوسروں کے لیے کھانا پکاتا تھا، اس سے ہمارا گھر بھی چلتا تھا، اب دونوں بجھ گئے ہیں، ہم نہ تنخواہیں دے سکتے ہیں اور نہ ہی کرائے ،ریسٹورنٹ اور ہوٹل انڈسٹری سے وابستہ ملازمین کے حکومت نے خون و دیگر ٹیسٹ کے بعدہیلتھ سرٹیفکیٹ اور تربیتی کورس کے بعد ٹریننگ سرٹیفکیٹ جاری کیے اس کے باوجود ایس او پیز کے نام پر ہمارے لاکھوں ملازمین کو فاقہ کشی پر مجبور کیا جا رہا ہے ،فیصلہ ساز بتائیں کہ روزانہ کی بنیاد پر رزق کمانے والے صحت مند اور تربیت یافتہ ملازمین کہاں سے کھائیں گے، انہوں نے کہا کہ تمام تجارتی سرگرمیاں، کچہری، دفاتر، کابینہ، سینیٹ، قومی و صوبائی اسمبلیوں کے اجلاس ان ڈور چل سکتے ہیں تو ان ڈور ڈائننگ پر ہی پابندی کیوں؟ٹیک اوے سے کاروبار ٹھپ ہوکر رہ گیا، اخراجات پورے کرنا بھی مشکل ہے، انہوں نے کہا کے ہم وزیر اعظم سے اپیل کرتے ہیں کہ روبہ زوال ہوٹل انڈسٹری کو بحران سے نکالا جائے اورتباہ ہونے سے روکا جائے۔ہوٹل انڈسٹری نے باہر سے آنے والے 15000 مسافروں کو بوجھ اٹھایا ہے اور باہر سے آنے والے مسافروں کو اپنے ہوٹلز میں عارضی سکونت دی ہے-گزشتہ برس سے کوروناوائرس کے پھیلا کی وجہ سے ہوٹل انڈسٹری کاکام بھی بری طرح متاثرہواہے جسکی وجہ سے ہوٹلوں اور ریستوران میں کام کرنے والے لاکھوں ملازمین وعملہ بے روزگارہوچکاہے اور ان کے چولہے ٹھنڈے پڑگئے ہیں لیکن حکومتی ناعاقبت اندیش پالیسیوں کی وجہ سے سیاحت سے منسلک یہ انتہائی اہم شعبہ اپنی موت آپ مررہا ہے اور کوئی محکمہ پرسانِ حال نہیں ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت اور متعلقہ ادارے ہوش کے ناخن لیں اور اس حوالے سے فوری عملی اقدامات اٹھائیں۔ان خیالات کا اظہارصدر ہوٹل اینڈ موٹلز ایسوسی ایشن اسلام آباد راولپنڈی اینڈ ناردرن ایریاز ایم اکرم فرید نے ایک ہنگامی میٹنگ کے دوران کیا-انہوں نے کہا کہ بلڈنگ کے کرائے اور بلز کی مد میں آنے والے اخراجات نے معاشی توازن کو بری طرح متاثر کیا ہے اور حکومت یوٹیلٹی بلوںاور ٹیکسز میں چھوٹ کا اعلان کرے تا کہ سروس انڈسٹری اپنے پا ں پر کھڑی ہوسکے۔ایم اکرم فرید نے مزید کہاکہ سے بڑھ کر غربت اور بے روزگاری کا عفریت زیادہ قابل توجہ ہے لحاظہ ضرورت اس امر کی ہے کہ سرکاری توانائیاں دونوں محاظ پر صرف کی جائیں۔انہوں نے کہاکہ پوری دنیا میں عوام اور کاروباری طبقہ کو مراعات دی جارہی ہیں لحاظہ ہوٹل مالکان کی مالی معاونت کی جائے جو مجبورا تالہ بندی پر آمادہ ہوئے ہیں۔انہوں نے تشویش کا اظہار کیا کہ موجودہ دورمیں حکومتی پالیسیوں کے ہوتے ہوئے کاروبارکرنا جہاد کرنے کے مترادف ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت دیگرکاروباراورشعبوں کی طرح ہوٹل اورسروس انڈسٹری کے لیے ریلیف پیکج دے اور آسانیاں پیدا کرے۔ایم اکرم فرید نے مزید کہا کہ جب تک کرونا وبا پر قابو نہیں پایا جا سکتا حکومت تین ستارہ اور فور سٹار ہوٹلوں کی آمدن پر تمام ٹیکسوں کی چھوٹ دی جائے-اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ باقی کاروباری شعبوں کی طرح ہوٹل انڈسٹری بھی بہت متاثر ہوئی ہے لیکن افسوس کی بات ہے کہ حکومت نے اس انڈسٹری کو کوئی ریلیف نہیں 30فیصد ر ہ گئی ہیں۔سینیئرنائب صدر حاجی گل آفریدی نے کہا کہ پاکستان میں 50سے60لاکھ افراد ہوٹل انڈسٹریز سے وابستہ ہیں لیکن حکومت اسی شعبہ کو مختلف اقدامات سے زیرِ عتاب لارہی ہے جو ہر لحاظ سے قابل قبول نہیں ہے۔نائب صدر طارق جاوید ملک نے کہا کہ سیاحتی شعبہ اور ہوٹلز لازم وملزوم ہیں کرونا نے جہاں ملکی معیشت کو ہلایا ہے وہاں لوگ بے روزگار بھی ہوئے ہیں لیکن حکومت نے میں زیادہ حصہ ڈالنے والے شعبہ کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا ہے جو حوصلہ افزا نہیں ہے۔فنانس سیکرٹری حاجی نعیم افضل نے اپنے اظہارِ خیا ل میں کہا کہ ہوٹل صارف 21 پرسنٹ ٹیکس ہونے کی وجہ سے فلیٹ اور گیسٹ ہاسز میں چلے جاتے ہیں اس لئے ہوٹل انڈسٹری حکومت سے پر زور مطالبہ کرتی ہے کہ موجودہ حالات میں سیلز ٹیکس اور بیڈ ٹیکس کے ریٹ کو کم کیا جائے تاکہ انڈسٹری اپناوجود قائم رکھ سکے علاوہ ازیں جو ہوٹل ابھی تک ٹیکس جمع نہیں کروا سکے ان کو حالات بہتر ہونے تک مہلت دی جائے۔ چوہدری تصدق حسین نے کہا کہ ریسٹورنٹ کی طرح ہوٹلزپر بھی سیلزٹیکس ساڑھے سات فیصد کیا جائے اور بیڈ ٹیکس جو پہلے ایک روپیہ فی بیڈ ہوتا تھا اس کو جولائی 2019 میں روم رینٹ کا پانچ پرسنٹ کر دیا گیا ہے جو کہ اسلام آباد کے ہوٹلوں کے لیے نا انصافی ہے۔علاوہ ازیں 2019اور2020کا پراپرٹی ٹیکس اور پانی کے بل معاف کئے جائیں۔سینیئرممبر چوہدری ریاض نے کہا کہ بجلی اورسوئی گیس کے بلوں میں ریلیف دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ مشکل گھڑی میں ہوٹلوں نے حکومت کا ساتھ دیا ہے اس ضمن میں انتہائی اہم سیکٹر کونظر انداز ہونے سے بچایا جائے۔دریں اثنا سینیئر جوائنٹ سیکرٹری یوسف اعوان نے کہا کہ پاکستان میں مئی سے اگست تک کے سیاحتی سیزن کے لیے غیر ملکی سیاحوں کی بکنگ و ریزرویشن کا عمل مارچ تک مکمل ہوجاتا ہے مگر اس بار لاک ڈان کی وجہ سے اب تک غیر ملکی سیاحوں کی بکنگ نہ ہونے کے برابر ہے اور جو پہلے ہی ہوچکی تھی، اب وہ بھی منسوخ ہورہی ہیں۔لحاظہ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہوٹل کی اہم صنعت کو مزید تباہی سے بچایا جائے۔میٹنگ میں ہوٹلزاینڈ موٹلز ایسوسی ایشن کے ارکان،ممبران اور ہوٹل صنعت سے وابستگان افراد نے بھی اپنی قیمتی آرا پیش کیں اور امیدکا اظہار کیا کہ ان کے مسائل کا سدباب کیا جائے گا۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔