اسلام آباد،وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ عوام ایس او پیز پرعمل کریں کہ لاک ڈاون نہ کرنا پڑے۔وزیر اعظم عمران خان نے عوام سے براہ راست پوچھے گئے سوالات کے جواب میں کہا کہ کورونا کی پہلی اور دوسری لہر میں قوم نے ایس او پیز پر عمل کیا، اللہ تعالی نے کرم کیا اور ہم پہلی اور دوسری لہر سے کامیابی کے ساتھ نکلے، کورونا کی تیسری لہر خطرناک ہے، بھارت کے حالات سب کے سامنے ہیں، بنگلا دیش میں بھی کیسز تیزی سے اوپر جارہے ہیں۔وزیر اعظم نے کہا کہ بھارت میں کیسز مزید تیزی سے بڑھتے جارہے ہیں، وہاں لوگ سڑکوں پر مر رہے ہیں، آکسیجن کی کمی ہے، خوش آئند بات ہے کہ پاکستان میں کیسز تیزی سے اوپر نہیں جارہے، قوم سے اپیل ہے کہ ماسک پہنیں اور سماجی فاصلے پر عمل کریں، عید کی چھٹیوں میں ماسک لازمی پہنیں اور لوگوں کو کورونا سے بچائیں، عوام ایس او پیز پرعمل کریں کہ لاک ڈاون نہ کرنا پڑے، لاک ڈاون سے سب سے زیادہ غریب لوگ متاثر ہوتے ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ میں پاکستان کے ساتھ ساتھ بڑا ہوا ہوں۔ کرکٹ کی وجہ سے پوری دنیا دیکھی اور وہاں کا سسٹم دیکھا، دنیا کی تاریخ ہے کہ جو قوم اوپر گئی وہ قانون کی بالادستی کی وجہ سے اوپر گئی، بہترین معاشرے میں قانون غریب کو تحفظ دیتا ہے، ریاست مدینہ اس لیے عظیم ریاست بنی کیونکہ اس میں قانون سب کے لئے برابر تھا، سائیکل اور بھینس گائے چوری سے ملک تباہ نہیں ہوتا، جب ملک کاسربراہ اورطاقتورلوگ چوری کرتیہیں توملک تباہ ہوجاتا ہے، ہر سال غریب ملکوں سے ایک ہزار ارب ڈالر چوری ہوکر امیرملکوں میں جاتا ہے۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ماضی میں جسٹس منیر کے ایک فیصلے سے انصاف کا نظام متاثر ہوا، جسٹس منیر نے طاقتور کے حق میں فیصلہ دیا تھا، نواز شریف کے دورمیں سپریم کورٹ پرڈنڈوں سے حملہ کیاگیا اور ججزصاحبان بچنے کے لیے بھاگتے رہے، پاکستان میں انصاف کا نظام قائم کیے بغیرترقی نہیں کرسکتے۔وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان میں انصاف کا نظام قائم کیے بغیر ترقی نہیں کرسکتے، طاقتور کو قانون کے نیچے لانا ایک جہاد ہے، مافیا کرپٹ نظام سے فائدہ اٹھارہا ہے، شوگر سمیت دیگر مافیاز نہیں چاہتے کہ ملک میں قانون کی بالادستی قائم ہو۔ مافیاز کا مقابلے کرکے جیت کر دکھاوں گا۔
طاقتورکوقانون کے نیچے لاناایک جہادہے،وزیراعظم عمران خان
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
