ہومدنیابھارت میں کورونا سے ہلاکتوں کی تعداد 2 لاکھ سے بھی تجاوز کرگئی

بھارت میں کورونا سے ہلاکتوں کی تعداد 2 لاکھ سے بھی تجاوز کرگئی

نئی دہلی ،بھارت میں کورونا وائرس کی وبا کے باعث ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر اب 2لاکھ سے زیادہ ہو گئی ہے۔ ملکی ہسپتالوں میں آکسیجن اور ادویات کی قلت ہے، جس کے نتیجے میں اموات میں اضافہ ہوا ہے جبکہ نئی یومیہ انفیکشنز کی تعداد بھی گزشتہ کئی دنوں سے مسلسل تین لاکھ سے زیادہ ہی رہتی ہے۔ گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران بھارت میں اس وائرس نے مزید تقریبا تین لاکھ اکسٹھ ہزار افراد کو متاثر کیا، جو کسی بھی ملک میں روزانہ بنیادوں پر اضافے کا نیا عالمی ریکارڈ ہے۔ یہ وائرس اب تک تقریبا اٹھارہ ملین بھارتی باشندوں کو متاثر کر چکا ہے۔ اسی دوران مزید تین ہزار دو سو ترانوے ہلاکتوں کے ساتھ ملک میں کووڈ انیس کی وجہ سے اموات کی مجموعی تعداد بھی دو لاکھ ایک ہزار ایک سو ستاسی ہو گئی۔لیکن مبصرین کا کہنا ہے کہ کرونا سے ہونے والی اموات کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔ماہرین کے مطابق محکم صحت کی جانب سے کوروناسے ہونے والی اموات کی جو تعداد بتائی جا رہی ہے وہ یقینی طور پر درست نہیں ہے۔ اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔ان کے مطابق ہمیں یہ نہیں معلوم کہ ان لوگوں کی تعداد کتنی ہے جو کرونا پازیٹیو ہونے کے باوجود بغیر ٹیسٹنگ کے انتقال کر گئے۔ یا جن کی ٹیسٹ رپورٹ اسپتالوں کی طرف سے عام نہیں کی گئی۔میڈیا رپورٹس کے مطابق مرکزی محکم صحت بھی اموات کی درست تعداد مخفی رکھ رہا ہے اور ریاستی صحت کے ادارے بھی اسی کوشش میں ہیں۔ البتہ شمشان گھاٹوں، قبرستانوں اور بلدیاتی اداروں کی رپورٹس کچھ اور کہانی بیان کرتی ہیں۔شمشان گھاٹوں میں 24 گھنٹے چتائیں جل رہی ہیں۔ اس کے باوجود لواحقین کو آخری رسومات کی ادائیگی کے لیے گھنٹوں تک انتظار کرنا پڑتا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اب تو کئی مقامات پر فٹ پاتھوں اور پارکنگ ایریاز میں بھی لاشیں نذر آتش کی جا رہی ہیں۔وزیرِ اعظم نریندر مودی کی ریاست گجرات کے صنعتی شہر سورت میں شمشانوں کا انتظام دیکھنے والے ٹرسٹ کے صدر نے میڈیا کو بتایا کہ گزشتہ 10 روز سے یومیہ 100 ڈیڈ باڈیز آخری رسوم کے لیے لائی جا رہی ہیں۔ جو کہ کووڈ پروٹوکول کے مطابق پلاسٹک میں لپٹی ہوتی ہیں۔ لیکن سورت کے میونسپل ادارے کی جانب سے 19 اپریل کو کرونا سے صرف 28 اموات رپورٹ کی گئیں۔اسی طرح قبرستانوں میں بھی جگہ کی کمی ہوتی جا رہی ہے۔ قبرستانوں کے ذمہ داروں کا کہنا ہے کہ ان کے اوپر بہت زیادہ بوجھ بڑھ گیا ہے۔ عام دنوں کے مقابلے میں روزانہ کئی گنا زیادہ میتیں تدفین کے لیے آ رہی ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارت میں وبا سے لڑنے کے لیے بنیادی ڈھانچے کی کمی ہے۔ اس کے علاوہ حکومت کی جانب سے کوئی تیاری نہیں کی گئی۔ عالمی اداروں نے پہلے ہی کہا تھا کہ اپریل اور مئی میں دوسری لہر آئے گی۔ لیکن حکومت نے اس پر توجہ نہیں دی۔گجرات، مدھیہ پردیش اور اتر پردیش سمیت کئی ریاستی حکومتوں پر یہ الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ وہ حقائق عوام سے چھپا رہی ہیں۔ گزشتہ دنوں ایسی خبریں بھی آئی تھیں کہ ریاستی حکومت نے لکھن میں شمشانوں کی حالت لوگوں سے چھپانے کے لیے دیواریں بنا دی ہیں۔حکومت کی جانب سے حقائق چھپانے کے الزام کی تردید کی جاتی ہے۔ مرکزی وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ حکومت پوری ذمہ داری کے ساتھ کرونا پر قابو پانے کی کوشش کر رہی ہے۔ جب کہ اموات کے اعداد و شمار چھپانے کا الزام غلط ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔