ہومپاکستانوزیراعظم اور ترین گروپ کی ملاقات طے ،شوگر مافیا جے آئی ٹی کاسربراہ تبدیل

وزیراعظم اور ترین گروپ کی ملاقات طے ،شوگر مافیا جے آئی ٹی کاسربراہ تبدیل

اسلام آباد(آئی پی ایس ) وزیراعظم عمران خان اور جہانگیر ترین کے ہم خیال گروپ کی ملاقات طے پاگئی۔

ذرائع کے مطابق جہانگیر ترین کے ہم خیال ارکان صوبائی اور قومی اسمبلی کل وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کریں گے۔ وہ وزیراعظم کو جہانگیر ترین کے خلاف کیسز پر اپنے تحفظات سے آگاہ کریں گے۔جہانگیر ترین نے کہا ہے کہ میں خود ملاقات میں شریک نہیں ہوں گا، میرا ہم خیال گروپ کل وزیراعظم سے ملاقات کرے گا۔واضح رہے چینی اسکینڈل میں نامزد جہانگیر ترین کے خلاف کیسز کے بعد ان کے ہم خیال گروپ سامنے آیا جس میں 33 رکن قومی اسمبلی وپنجاب اسمبلی شامل ہیں جو جہانگیرترین کی رہائش گاہ پر ملاقات بھی کرچکے ہیں اور کورٹ میں پیشی کے موقع پر بھی ان کے ہمراہ تھے۔وزیراعظم عمران خان سے ملاقات میں جہانگیر ترین ہم خیال گروپ کے 33 ارکان اسمبلی جن میں 11 ایم این ایز اور 22 ایم پی ایز شامل ہوں گے۔ ایم این ایراجہ ریاض، وفاقی وزیر صاحبزادہ محبوب سلطان، ایم این اے غلام بی بی بھروانہ، ایم این اے سمیع گیلانی، ریاض مزاری، خواجہ شیراز، مبین انور، جاوید وڑائچ، غلام لالی، ایم این اے فیض الحسن شاہ، صاحبزادہ امیر سلطان بھی وزیراعظم سے ملاقات کرنے والوں میں شامل ہونگے۔پنجاب کے صوبائی وزرا نعمان لنگڑیال، اجمل چیمہ، صوبائی مشیران عبدالحئی دستی، امیر محمد خان، رفاقت گیلانی، فیصل جبوانہ وزیراعظم سے ملاقات کریں گے۔ ایم پی اے خرم لغاری، اسلم بھروانہ، نذیر چوہان، آصف مجید، بلاول وڑائچ، عمر آفتاب، طاہر رندھاوا، زوار وڑائچ، نذیر بلوچ، عمر تنویر بٹ، امین چوہدری، چوہدری افتخار گوندل، غلام رسول سانگھا، قاسم لنگھا، سعید اکبر نوانی اور سلمان نعیم بھی جہانگیر ترین ہم خیال گروپ کی نمائندگی کریں گے۔دوسری طرف شوگر مافیا کی تحقیقات کرنے والی جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم کے سربراہ کو تبدیل کر دیا گیا۔ڈائریکٹر ڈاکٹر رضوان کی جگہ ایڈیشنل ڈائریکٹر ابو بکر خدا بخش کو انکوائری آفیسر مقرر کر دیا گیا ۔ ذرائع کے مطابق چینی مافیا کے خلاف سخت کارروائی کرنے والے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ ڈاکٹر رضوان کو تبدیل کر دیا گیا ۔ ڈاکٹر رضوان نے شوگر مافیا کے خلاف آپریشن کرنے کے ساتھ ساتھ جہانگیر ترین سمیت اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کے خلاف خود انکوائری کی تھی۔اس کے علاوہ بھی چینی کی ذخیرہ اندوزی اور سٹہ بازی میں ملوث دیگر بااثر سٹہ بازوں اور شوگر ملز مالکان کے خلاف تمام مقدمات درج کرنے سے لیکر تفتیش کرنے اور اسٹیٹ بینک سمیت ایف بی آر اور دیگر اداروں سے ملنے والے شواہد کی جانچ پڑتال اپنی نگرانی میں کرتے رہے۔ذرائع کے مطابق اس دوران جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم اور ڈاکٹر رضوان کو دھمکیاں بھی ملیں اور تعاون کرنے پر انعامات کا لالچ بھی دیا گیا مگر انہوں نے شوگر مافیا کے خلاف کارروائی نہ روکی بلکہ مزید شواہد جمع کیے۔ اب انکوائری کا ستر فیصد حصہ مکمل ہو چکا ہے، مگر عین وقت پر ڈاکٹر رضوان کو تبدیل کر دیا گیا ، اگرچہ وہ اس ٹیم کا حصہ رہیں گے مگر ہیڈ آف جوائنٹ انوسٹی گیشن کے طور پر نہیں۔دوسری جانب یہ تاثر بھی دیا جارہا ہے کہ جہانگیر ترین اور شہباز شریف کو بچانے کے لیے ان کو تبدیل کیا گیا ہے کیونکہ ڈاکٹر رضوان نے کسی دبا میں آئے بغیر تحقیقات مکمل کرنے پر زور دیا تھا اور ٹیم کے باقی افسران اور اہلکاروں کو بھی ہمت حوصلے بلند رکھنے اور انکوائری مکمل کرنے پر زور دیتے رہے۔جب اس سلسلے میں ڈاکٹر رضوان سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے اس پر مکمل خاموشی اختیار کی ہوئی ہے جبکہ ترجمان ایف آئی اے نے بھی اس حوالے سے بات نہیں کی۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔