اسلام آباد(نیوزڈیسک)سابق فاسٹ باؤلر شعیب اختر نے پہلی بار شادی اور اہلیہ پر بات کرتے ہوئے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ ان کی اہلیہ ان سے کافی چھوٹی ہیں۔
سابق قومی فاسٹ باؤلرشعیب اختر نے ایک پوڈکاسٹ میں اپنے کیریئر سمیت شادی پرکھل کربات کرتے ہوئے کہا کہ ان کی شادی ان کے والدین نے اچانک طے کی تھی اور انہیں حکم دیا گیا، جس پر انہوں نے عمل کیا۔انہوں نے بتایا کہ ان کی ساس اور ان کی والدہ پہلی بار حج کے موقع پر سعودی عرب میں ایک دوسرے سے ملی تھیں، جہاں ان کی ساس نے ان کی والدہ کو پیرنی سمجھ کر ان کی بہت خدمت کی۔
سابق کرکٹر کے مطابق ان کی والدہ نے ان کی ساس کو بتایا کہ وہ پیرنی نہیں بلکہ شعیب اختر کی والدہ ہیں، جس کی وجہ سے لوگ ان سے ملنے آتے ہیں اور ان کا احترام کرتے ہیں۔شعیب اختر کے مطابق حج سے واپسی پر والدہ نے کھانے کی دعوت پر انہیں ان کی ہونے والی اہلیہ سے ملوایا اور کہا کہ یہ ان کی دلہن ہیں۔
شعیب اختر کے مطابق مذکورہ ملاقات کے بعد ان کی شادی طے کی گئی، جس میں دونوں خاندانوں کے چند افراد نے شرکت کی اور ان کی شادی انتہائی سادگی سے ہوئی اور وہ دلہن کو بیاہ کر گھر لے آئے۔انہوں نے کہا کہ وہ شادی سمیت دیگر معاملات پر فضول اخراجات کرنے کے حق میں نہیں لیکن وہ دوسروں کو شادی وغیرہ پر خرچ کرنے سے نہیں روکتے۔انہوںنے بتایا کہ ان کی اہلیہ ان سے کافی چھوٹی ہیں اور اب ان کے دو بیٹے بھی ہو چکے ہیں۔
سابق کرکٹر نے ایک سوال کے جواب میں انکشاف کیا کہ وہ جب ایف اے میں پڑھ رہے تھے تب ہی وہ کرکٹ میں آگئے، جس وجہ سے وہ ایف اے کا ایک پرچہ بھی نہیں دے سکے تھے اور تاحال وہ مذکورہ پرچہ نہیں دے سکے۔
انہوں نے بتایا کہ وہ اپنی والدہ کی بہت خدمت کرتے رہے ہیں، جس کی وجہ سے انہوں نے جس چیز کی خواہش کی، وہ انہیں ملتی گئی، آج تک اپنی والدہ کی کسی بات پر انکار نہیں کیا، ان کی والدہ انہیں جو حکم دیتی ہیں، وہ سر جھکا کر اس پر عمل کرتے ہیں اور اسی وجہ سے ہی انہیں ہر چیز ملتی گئی، نو عمری میں والدہ کے پاؤں دباتے وقت خدا سے جو دعا مانگا پورا ہو جاتا تھا۔
