اسلام آباد،وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے ابلاغ شہباز گل اور ایڈمنسٹریٹر ایم سی آئی سیدہ شفق ہاشمی نے جی 11 مرکز میں قائم احساس ماڈل کارٹ (ریڑھی) پروگرام کا افتتاح کیا ۔
ڈی جی نے بریفنگ میں بتایا کہ ماڈل پروجیکٹ احساس ، سی ڈی اے ،پائیڈ ،ضلعی انتظامیہ اور ایم سی آئی کے اشتراک سے شروع کیا گیا ہے،ماڈل ہتھ ریڑھیاںجی الیون مرکز میں کام کرنے والے 25 دکانداروں کے حوالے کی گئیں ہیں۔ منصوبے کا مقصد اسٹریٹ اکانومی کو منظم کرنا اوردکانداروں کوباعزت روزگار کمانے میںمدد فراہم کرنا ہے، پائلٹ پروجیکٹ اسلام آباد کے دیگر علاقوں میں بھی شروع کیا جائے گا، یہ منصوبہ ملک بھر کے اسٹریٹ ونڈرز کیلئے رول ماڈل کا کام کرے گا۔یہ منصوبہ غربت کے خاتمے اور سماجی تحفظ سے متعلق حکومتی ویژ ن کا عکاس اور معاون خصوصی برائے تخفیف غربت ثانیہ نشتر ، چیف کمشنر عامر علی احمد اور ضلعی انتظامیہ اور ایڈمنسٹریٹر ایم سی آئی سیدہ شفق ہاشمی کی خصوصی کوششوں کا نتیجہ ہے ۔ اس موقع پر خوانچہ فروشوں نے تربیت ، بہتر گاڑیوں کی فراہمی اور وینڈنگ لائسنس کی فراہمی کے ذریعہ ان کی معاش کمانے کی صلاحیت کو بڑھانے میں ان کے مدد کرنے کے حکومت کے اقدام کی تعریف کی، یہ پاکستان میں اپنی نوعیت کا پہلا عوامی منصوبہ ہے جہاں خوانچہ فروشوں کو قابل احترام معاش اور قومی ترقی میں حصہ ڈالنے میں مدد فراہم کی جارہی ہے۔وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے ابلاغ ڈاکٹر شہباز گل نے احساس ریڑھی پروگرام کی افتتاحی تقریب کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد میں پائلٹ پراجیکٹ پر کام شروع ہو گیا ، صوبہ پنجاب اور خیبرپختونخوا سمیت دیگر علاقوں تک اس کا دائرہ کار بڑھایا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کا وژن غریب عوام کو ریلیف فراہم کرنا ہے، وزیراعظم نے جو وعدے کئے تھے آج ایک ایک کرکے پورے ہو رہے ہیں، 50 لاکھ گھروں پر کام شروع ہو چکا ہے، ایک ایک کرکے حکومت کے پراجیکٹ مکمل ہو رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی ترجیح ملک کا پسا ہوا طبقہ ہے، اشرافیہ نے ملک کو تباہ کیا اور طاقت کو استعمال کیا، اشرافیہ اور کرپٹ حکمرانوں نے سب سے زیادہ ملک کو نقصان پہنچایا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے دورہ سندھ کے دوران وہاں کے عوام کے ریلیف کیلئے اقدامات کا اعلان کیا، سندھ میں خوراک میں کمی کے باعث خواتین کمزوری اور بچے خوراک کی کمی کا شکار ہیں۔انہوں نے کہا کہ شکارپور، بدین، ٹھٹھہ سمیت مختلف علاقوں میں کتے کے کاٹے کی ویکسین دستیاب نہیں ہے، سندھ کے عوام صحت، تعلیم اور پانی جیسی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں، وزیراعظم عمران خان وہاں کے عوام کے مسائل کے حل کیلئے سندھ کا دورہ کر رہے ہیں، وہ سندھ کے عوام کا درد رکھتے ہیں، وفاق کا پیکیج سندھ حکومت کے ہاتھ میں نہیں دیں گے۔انہوں نے کہا کہ اب کمیشن سے لندن میں فلیٹ نہیں بنیں گے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ میں 14 سال سے ڈاکو قابض ہیں، ایک ٹبر لوٹ رہا ہے، گندم چوہے کھا جاتے ہیں، بیرونی اداروں سے ملنے والی امداد بھی یہ کھا جاتے ہیں، عوام اب ان سے حساب چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم جہاں سمجھتے ہیں کہ کوئی بہتر کارکردگی دکھا سکتا ہے اسے وہاں مقرر کر دیتے ہیں، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ہر وقت سب کی کارکردگی کا جائزہ لے رہے ہیں، ایک دم نظام کو ٹھیک نہیں کیا جا سکتا۔
