کراچی،پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس میں پی ڈی ایم کا بھیجا گیا شوکاز نوٹس پھاڑ کر پھینک دیا اور کہا کہ عزت کیلئے سیاست کرتے ہیں ، ہمارے لئے عزت سے بڑھ کر کچھ نہیں ہے،یوسف رضا گیلانی کی اپوزیشن لیڈر سینیٹ کے عہدے سے مستعفی ہونے کی پیشکش سی ای سی نے مسترد کر دی۔
تفصیلات کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور شریک چیئرمین آصف زرداری کی زیر صدارت پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی (سی ای سی)کا اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس کے دوران سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے شرکا نے پی ڈی ایم کی جانب سے پیپلز پارٹی کو جاری کردہ شاہد خاقان عباسی کا شوکاز نوٹس پڑھ کر سنایا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ بلاول بھٹو نے سی ای سی اجلاس میں شاہد خاقان عباسی کے شوکاز نوٹس کو پھاڑ کر پھینک دیا جس پر شرکا کی جانب سے تالیاں بجائی گئیں۔اس موقع پر بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہم سیاست عزت کے لیے کرتے ہیں،عزت سے بڑھ کر ہمارے لیے کچھ نہیں ہے۔علاوہ ازیں اجلاس میں اہم ملکی سیاسی معاملات سمیت میں پی ڈی ایم کی جانب سے استعفوں کی تجویز کے معاملے پر بھی غور کیا گیا، جب کہ مستقبل میں پی ٹی آئی کی اپوزیشن کی حکمت عملی پر بھی بات چیت کی گئی۔ اجلاس میں کشمیر پر پی ٹی آئی کی کنفیوژڈ پالیسی پر تبادلہ خیال، میں پی ٹی آئی اور آئی ایم ایف ڈیل کے ملکی معیشت پر اثرات اور اسٹیٹ بینک آرڈیننس پر بھی بات چیت کی گئی۔ذرائع کے مطابق یوسف رضا گیلانی نے پارٹی کو اپوزیشن لیڈر سینیٹ کے عہدے سے مستعفی ہونے کی پیشکش کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر پارٹی سمجھتی ہے تو میں ابھی مستعفی ہونے کیلئے تیار ہوں کیوں کہ میرے لئے عہدہ کوئی معنی نہیں رکھتا، ہم نے جمہوریت کے لیے جانیں اور قربانیاں دیں ہیں۔یوسف رضا گیلانی کو اجلاس کے شرکا نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ آپ کو مستعفی ہونے کی کوئی ضرورت نہیں، پوری پارٹی آپ کے ساتھ کھڑی ہے۔ترجمان پی پی پی کے مطابق وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ نے سی ای سی کے شرکا کو کل ہونے والی مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس کے حوالے سے بریفنگ دی، اور وزیراعلی سندھ سی ای سی کے شرکا کی دی گئی پالیسی کے تحت کل مشترکہ مفادات کونسل میں عوام کا مقدمہ لڑیں گے۔ترجمان کے مطابق اجلاس میں میں پی پی پی شعبہ خواتین کی مرکزی صدر فریال تالپور کے علاوہ یوسف رضا گیلانی، راجہ پرویز اشرف، شیری رحمان، فرحت اللہ بابر، رحمان ملک، نیر بخاری، سلیم مانڈوی والا، اعتزاز احسن، قائم علی شاہ، نواب یوسف تالپور، اخوندزادہ چٹان مخدوم احمد محمود، قمرزمان کائرہ، ہمایون خان، علی مدد جتک، شازیہ مری، فیصل کریم کنڈی، ہری رام کشوری لعل، منظور وسان، مولابخش چانڈیو، رضا ربانی، اعجاز جاکھرانی، میرباز کھیتران اسلام الدین شیخ، رحیم داد خان، رخسانہ زبیری، سعید غنی، لطیف کھوسہ، نوید قمر، تاج حیدر، جام مہتاب ڈہر، چوہدری لطیف اکبر، امجد ایڈووکیٹ، چوہدری منظور، ناصر شاہ، صادق عمرانی، محمد موسی، نفیسہ شاہ، انور سیف اللہ خان، چوہدری محمد یاسین، اعظم خان افریدی، عبدالطیف انصاری، عامر فدا پراچہ اور وقار مہدی شریک ہوئے۔ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس میں اس بات پر فیصلہ نہیں ہو سکا کہ پی ڈی ایم میں رہناچاہیے یا نہیں؟ سی ای سی کا اجلاس (آج)پیر کو بھی جاری رہے گا۔اجلاس کے دوران پیپلز پارٹی رہنمائوں نے پی ڈی ایم اتحاد کے حوالے سے مختلف تجاویز دیں۔ بعض ارکان کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم سے بات چیت کے دروازے بند نہیں ہونے چاہیں۔ جبکہ کچھ کا کہنا تھا کہ اے این پی جیسے سخت فیصلے کی ضرورت ہے۔ دوسری طرف وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے پی ڈی ایم کی جانب سے شوکاز کو پیپلز پارٹی کی بے عزتی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ جس طرح(ن)لیگ نے کیا، اس طرح تو جاگیردار بھی اپنے مزارعے کے ساتھ نہیں کرتا۔نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ ہمیں مسلم لیگ(ن)جیسی اپوزیشن ملی، مسلم لیگ والے اداروں کے خلاف غیر پارلیمانی گفتگو کرتے ہیں، مسلم لیگ (ن)میں نہ مانوں والی پارٹی بن چکی ہے۔ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر داخلہ شیخ رشید کا کہنا تھا کہ یہ اپوزیشن عمران خان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔ ہمیں صرف ایک ہی چیلنج مہنگائی ہے، جسے کم کریں گے۔
