کراچی (آئی پی ایس )سندھ حکومت کے پچیس سے زیادہ اہلکاروں نے “پاکستان میں انسانی حقوق کی رپورٹنگ کی عالمی ذمہ داریوں” کے بارے میں دو روزہ تربیت مکمل کرلی ۔ سندھ بوائے سکاٹس ہیڈ کوارٹر کراچی میں منعقدہ تربیت کا اہتمام پاکستان میں انسانی حقوق کے فروغ کیلئے سرگرم یورپی یونین کے اعانت شدہ منصوبے حقوق پاکستان پراجیکٹ نے کیا ۔تربیت کا افتتاح سندھ کے صوبائی سیکرٹری برائے انسانی حقوق پرویز احمد سیہڑ نے کیا ۔ اس تربیت کا بنیادی مقصد بین الاقوامی انسانی حقوق کی رپورٹنگ اور ان پر عمل درآمد کے سلسلے میں سندھ کے محکمہ انسانی حقوق کے عہدیداروں اور سندھ میں انسانی حقوق سے متعلق پاکستان کی بین الاقوامی ذمہ داریوں کی رپورٹنگ اور ان پر عملدرآمد کے ذمہ دار ادارے سندھ ٹریٹی امپلیمنٹ سیل کے عہدیداروں کی فنی و آپریشنل صلاحیتوں کو فروغ دینا تھا ۔ اس تربیت کیلئے تربیتی اسباق اور اور مینوئلز حقوق پاکستان پراجیکٹ کے ماہرین حقوق پاکستان پراجیکٹ کے سینئر ایکسپرٹ علی دیان حسن کی سربراہی میں مرتب کئے ۔ واضح رہے کہ پاکستان بھر میں انسانی حقوق کے فروغ کا یہ پراجیکٹ یورپی یونین اوروزارت انسانی حقوق کامشترکہ اقدام ہے جس کا مقصد انسانی حقوق کے فروغ کے لئے حکومت پاکستان کی جاری کوششوں کی حمایت کرنا ہے۔ تاہم ، 18 ویں ترمیم کے بعد آئین کے تحت انسانی حقوق ایک صوبائی موضوع ہے۔اس موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سندھ کے سیکرٹری برائے انسانی حقوق پرویز احمد سیہڑ نے حقوق پاکستان پراجیکٹ کی جانب سے پاکستان کے لئے انسانی حقوق کی علمبردار تربیت اور استعداد کار میں اضافہ کے پروگرام کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ تربیت محکمہ کو ان تقاضوں سے متعلق ضروری معلومات سے آراستہ کرنے میں مدد فراہم کرے گی جو بین الاقوامی انسانی حقوق کی رپورٹنگ کے حوالے سے اپنے مینڈیٹ کی تکمیل کے لئے درکار ہیں۔ مسٹر سیہڑ نے اعلان کیا کہ سندھ کا انسانی حقوق کا محکمہ حقوق پاکستان پراجیکٹ کے اشتراک سے سندھ کی پہلی صوبائی انسانی حقوق پالیسی تیار کرے گا۔انہوں نے کہا کہ محکمے کی استعداد کار کو فروغ دینے کیساتھ ساتھ صوبے کی پہلی انسانی حقوق پالیسی کی تشکیل کیلئے حقوق پاکستان پراجیکٹ کی پیشکش ہمارے لئے انتہائی قابل قدر ہے ۔ انہوں کہا کہ صوبائی محکمہانسانی حقوق اور حکومت سندھ حقوق پاکستان پراجیکٹ کی کاوشوں خیر مقدم کرتی ہے اور امید ہے کہ مستقبل میں اس سرگرمی اور تعاون میں مزید وسعت اور گہرائی پیدا ہوگی ۔حقوق پاکستان پروگرام کے سینیئر ایکسپرٹ علی دیان حسن نے اس موقع پر حقوق پاکستان پروگرام اور تربیت کے مقاصد کا جائزہ پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ تربیتی پروگرام انسانی حقوق کے دیگر متعلقین کے ساتھ مشاورت سے تیار کیا گیا ۔ اس کا مقصد تربیت اور بالخصوص سندھ کے حقائق اور تناظر کی عکاسی کرنے کو یقینی بنانا تھا۔ انہوں نے کہا کہ پراجیکٹ 18 ویں آئینی ترمیم کے بعد صوبوں کو دی گئی ذمہ داریوں اور اخیتارکا انتہائی احترام کرتا ہے۔ حقوق پاکستان اپنے آئینی اختیار کے دائرہ کار میں انسانی حقوق کے تمام اداروں اور تنظیموں کے ساتھ مل کر کام کرنے پر یقین رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انسانی حقوق کے صوبائی معاملات سے متعلق فیصلے اسلام آباد میں نہیں بلکہ سندھ میں ہوں گے اور یہ منصوبہ بغیر کسی خوف اورمفاد کے اس کو یقینی بنانے میں اپنا کردار ادا کرے گا۔ علی دیان حسن نے اس پراجیکٹ کو یورپی یونین کی طرف سے پاکستان میں انسانی حقوق کی مثبت اور تعمیری ڈپلومیسی کی نمائندگی قرار دیا ۔ تربیت کے دوسرے و آخری روز اپنے اختتامی کلمات میں صوبائی سیکرٹری انسانی حقوق نے حقوق پاکستان پراجیکٹ ، یورپی یونین اور شریک اداروں کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے پاکستان میں یورپی یونین کے اقدامات کے بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ انسانی حقوق کا احترام اور قانون کی حکمرانی بشمول تجارتی و دیگر معاہدہ جات یورپی یونین کی تمام سرگرمیوں کا بنیادی مرکز ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ تربیت تمام متعلقہ کرداروں کو رپورٹنگ کے عمل کو سمجھنے اور اقوام متحدہ کے نظام کے تحت ریاست کے معاہدے سے متعلق ذمہ داریوں کو پورا کرنے میں مدد فراہم کرنے کے مثر ذرائع مہیا کرتی ہے۔تربیت کے اختتام پر ، سندھ کے سیکرٹری برائے انسانی حقوق پرویز احمد سیہڑ اور حقوق پاکستان پراجیکٹ کے سینئر ایکسپرٹ علی دیان حسن نے تربیت مکمل کرنے والوں کو اسناد عطا کیں ۔
سندھ حکومت کے 20 سے زائد اہلکاروں کی عالمی انسانی حقوق رپورٹنگ پر تربیت مکمل
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
