اسلام آباد: عمران خان کے چیف سکیورٹی آفیسر افتخار رسول گھمن کی منی لانڈرنگ کیس میں گرفتاری کے معاملے پر ایف آئی اے کی تفتیش کیدوران اہم انکشافات سامنے آئے ہیں۔
ایف آئی اے رپورٹ کے مطابق عمران خان کا چیف سکیورٹی آفیسر افتخار رسول گھمن اپنے دو ساتھیوں عاصم حسین اور قیصر مشتاق کے ساتھ مل کر منی لانڈرنگ کرتا رہا۔
رپورٹ کے مطابق ملزم کے اکاونٹس میں 2020 سے 2022 تک بیرون ملک سے 34 کروڑ 21 لاکھ 73 ہزار 53 روپے جمع کرائے گئے، ملزم کے 7 اکاونٹس میں کیش جمع ہو نے والی رقم کی مالیت 22 کروڑ 45 لاکھ 50 ہزار روپے ہے، یہ رقوم ایک نجی بینک میں کھولے گئے اکاونٹس میں جمع کرائی گئیں۔
رپورٹ کے مطابق ملزم افتخار رسول گھمن 41 جعلی کمپنیاں بنا کر دو ساتھیوں سمیت منی لانڈرنگ کرتا رہا،ملزم نے 2020 سے 2022 تک 800 ملین روپے جمع کرائے، ملزم کے ساتھی عاصم حسین کے اکاونٹ میں 5 لاکھ ڈالر جمع ہوئے، ملزم افتخار رسول نے 2012 کے دوران سندھ بینک میں 10 لاکھ ڈالر جمع کرائے، ملزم نے دو خواتین رضیہ سلطانہ اور تسنیم فاطمہ کے اکانٹس میں بھی 5،5 لاکھ ڈالرجمع کرائے، یہ رقوم بظاہر ہنڈی حوالہ اکاونٹس کی سیٹلمنٹ کے لیے استعمال ہوئیں۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ ملزم افتخار رسول کی 7 جائیدادوں اور اثاثوں کی مالیت بھی 47 کروڑ 95 لاکھ 6 ہزار 113 روپے بنتی ہے، ان اثاثوں میں زرعی اراضی، ماڈل ٹاون، گارڈن ٹاون، ڈی ایچ اے اور جیل روڈ پر واقع گھر شامل ہیں، ملزم کے اثاثوں میں 5،5، مرلے کے 10 پلاٹ اور گلبرگ میں 10 مرلے کا ایک پلاٹ بھی شامل ہے۔
عدالت نے ملزم افتخار رسول کو جو ڈیشل ریمانڈ رپر جیل بھیج دیا ہے۔
منی لانڈرنگ کیس: عمران خان کے چیف سکیورٹی آفیسر سے متعلق اہم انکشافات
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
