کلکتہ(آئی پی ایس ) بھارتی کرکٹ اس ہفتے ایک ایسے بڑے اسکینڈل کی زد میں آ گئی ہے جس نے اس کے جونیئر کرکٹ کے نظام کی شفافیت کا پول کھول کر رکھ دیا ہے۔سال 2022 کے انڈر 19 ورلڈ کپ فائنل کے ہیرو اور بائیں ہاتھ کے تیز گیند باز روی کمار کے بارے میں انکشاف ہوا ہے کہ انہوں نے اپنی عمر 40 ماہ (تقریبا 3 سال سے زائد) کم بتائی تھی۔ اس دھوکہ دہی کے بعد ان کا ریکارڈ منسوخ کر دیا گیا ہے۔تاہم یہ معاملہ صرف ایک کھلاڑی تک محدود نہیں ہے بلکہ ایک ہی تحقیقات کے دوران مزید 64 کھلاڑی بھی عمر چھپانے کی اس کارروائی میں دھر لیے گئے ہیں۔
اس انکشاف نے کوچز، سلیکٹرز اور انتظامیہ کی خاموشی اور نظام کی ناکامی پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔روی کمار کوئی کم عمر حیران کن صلاحیتوں کے مالک کھلاڑی نہیں تھے بلکہ ایک 21 سالہ جوان تھے جو 17 سال کے لڑکوں کے خلاف کھیل رہے تھے۔ورلڈ کپ فائنل میں ان کی لی گئی ہر وکٹ اور ہر کامیابی ایک جھوٹ پر مبنی تھی۔ کرکٹ کے اس نظام میں جہاں کسی زیادہ عمر کے کھلاڑی کو موقع ملتا ہے وہیں کسی حقدار 17 سالہ نوجوان کا خواب اور موقع چھین لیا جاتا ہے۔
کرکٹ ایسوسی ایشن آف بنگال (سی اے بی) کی جانچ نے یہ واضح کر دیا ہے کہ یہ دھاندلی سالوں سے ایک باقاعدہ طریقے سے جاری تھی۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ 40 ماہ کا فرق رکھنے والا کھلاڑی تمام مراحل سے گزر کر بھارت کی نمائندگی کیسے کر گیا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ موجودہ نظام اس کی اجازت دیتا ہے۔ اگرچہ بی سی سی آئی پیدائشی سرٹیفکیٹ اور اسکول کے کاغذات مانگتی ہے لیکن یہ دستاویزات اکثر والدین اور کوچز کی ملی بھگت سے جعلی بنوائی جاتی ہیں۔ سی اے بی کی ایک روایتی ڈاکومنٹیشن چیکنگ میں 65 کھلاڑیوں کا پکڑا جانا اس بات کا ثبوت ہے کہ ملک بھر میں ایسے سینکڑوں کھلاڑی موجود ہو سکتے ہیں۔
روی کمار کا جونیئر ریکارڈ ختم کر دیا گیا ہے، روہت یادو پر 2 سال کی پابندی عائد کی گئی ہے اور دیگر 63 کھلاڑیوں کی رجسٹریشن منسوخ کر دی گئی ہے۔ لیکن ماہرین کا خیال ہے کہ یہ سزائیاں محض دکھاوا ہیں۔ روی کمار پہلے ہی سینیئر سطح پر کھیل رہے ہیں لہذا جونیئر کرکٹ سے ان پر پابندی بے معنی ہے جبکہ ان کا سینیئر کرکٹ کا ریکارڈ اب بھی برقرار ہے۔ یہ اقدامات اس بنیادی مسئلے کا حل نہیں ہیں جو خاندانوں کو یہ دھوکہ دہی کرنے پر مجبور کرتا ہے۔
اس تمام صورتحال میں اصل نقصان ان ایماندار اور باصلاحیت نوجوانوں کا ہوا ہے جو تمام قوانین پر عمل کرنے کے باوجود ان جعلی اور بڑی عمر کے کھلاڑیوں کی وجہ سے آگے نہ آ سکے۔ اگرچہ سی اے بی اس تفتیش پر مبارکباد کی مستحق ہے لیکن صرف ایک ریاست کی جانچ کافی نہیں ہے۔ بھارتی کرکٹ کو بائیو میٹرک ڈیٹا، ہڈیوں کی عمر کی جدید جانچ اور دھوکہ دہی میں ملوث والدین اور کوچز کے خلاف سخت سزاں جیسے بنیادی اقدامات کی ضرورت ہے۔ جب تک بی سی سی آئی اس مسئلے پر سخت ترین اقدامات نہیں کرتا یہ سلسلہ یونہی چلتا رہے گا اور سنہ 2022 کے انڈر 19 ورلڈ کپ کی ٹرافی پر یہ داغ ہمیشہ قائم رہے گا۔
