آئی جی اسلام آباد ناصر اکبر خان نے عمران خان کے وارنٹ گرفتاری کا معاملہ عدالت پر چھوڑ دیا۔
اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ میں توشہ خانہ کیس کی سماعت کے دوران آئی جی اسلام آباد اکبر ناصر خان عدالت میں پیش ہوئے۔
آئی جی نے عدالت میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد پولیس کے کسی نمائندے کو عمران خان سے ملنے نہیں دیاگیا، گزشتہ روزبھی عمران خان کی عدالت پیشی کی یقین دہانی کروائی گئی، اسلام آباد پولیس سے کسی نے زمان پارک میں بات نہیں کی۔
آئی جی اسلام آباد نے کہا کہ اسلام آباد پولیس پر پیٹرول بم اور پتھر پھینکے گئے، پولیس اہلکاروں پرتشدد ہوا جو وارنٹ کی تکمیل کے لیے گئے تھے، پولیس اہلکار نہتے تھے، کوئی اسلحہ ان کے پاس موجود نہیں تھا۔
اکبر ناصر خان کا کہنا تھا کہ میں پولیس اہلکاروں کی فیملی کوکیا جواب دوں جن کے بیٹوں پرلاہور میں ظلم ہوا، ماضی میں گھروں سے عدالت لے کر آنا پولیس کے لیے معمول کی بات ہے، اگر ایک شخص کو رعایت ملتی ہے تو دیگرکوبھی ملنا چاہیے، آئین کے سامنے تمام افراد یکساں ہیں۔
آئی جی اسلام آباد نے زخمی افسران اور اہلکاروں کی فہرست اور موقع کی تصاویر پیش کردیں۔ انہوں نے کہا کہ رائے ہے کہ اگر ایک شخص کو رعایت دینا چاہتے ہیں تو باقی 22 کروڑ کو بھی دیں ۔جو قانون میرے لیے ہے وہی سب کیلئے ہے ۔
آئی جی نے کہا کہ آئین پاکستان کا آرٹیکل 25 کہتا ہے قانون سب کیلئے برابر ہے ۔ آئی جی اسلام آباد کے بیان پر تحریک انصاف کے وکلا نے شور شرابا کیا۔وکلا نے کہا آئی جی سیاسی گفتگو کر رہے ہیں ۔ عدالت نے پوچھا املاک کو کتنا نقصان پہنچا؟ آئی جی نے کہا پولیس کی 10 گاڑیاں، واٹر کینن جلائی گئی ہیں۔
آئی جی نے مزید کہا کہ وارنٹ گرفتاری سے متعلق فیصلہ عدالت پر چھوڑتا ہوں۔
عدالت نے آئی جی سے پوچھا کہ املاک کو کتنا نقصان ہوا ہے؟اس پر آئی جی نے بتایا کہ پولیس کی واٹرکینن جلائی گئی اور 65 پولیس والے زخمی ہوئے۔
آئی جی اسلام آباد نے کہا کہ نقصان کا تخمینہ لاہور میں لگایا جا رہا ہے ۔ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ ملزم کی جانب سے یہ تیسری درخواست ہے۔ ہر دفعہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے اس عدالت کے حکم کو قانونی قرار دیا ۔اسلام آباد ہائیکورٹ نے اس عدالت کو کوئی ہدایات جاری نہیں کیں ۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے ملزم کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کی ۔
وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ فرق اتنا ہے کہ آج انڈرٹیکنگ پر ملزم کے دستخط ہیں ۔ سوال یہ ہے کہ پولیس وہاں کیا کرنے گئی؟ پولیس عدالت کے احکامات پر عملدرآمد کرانے کیلئے گئی۔ پہلی بار پولیس گئی تو کہا گیا عمران خان موجود نہیں، پولیس واپس آگئی ۔ دوسری بار ڈی آئی جی جاتے ہیں تو ان پر پتھرا وکیا جاتا ہے ۔
