Thursday, May 21, 2026
ہومپاکستانسینیٹ داخلہ کمیٹی کا سیف اللہ نیازی کے گھر ایف آئی اے چھاپے کا نوٹس

سینیٹ داخلہ کمیٹی کا سیف اللہ نیازی کے گھر ایف آئی اے چھاپے کا نوٹس

اسلام آباد(نیوزڈیسک)سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے داخلہ سینیٹر محسن عزیز کی زیر صدارت ہوا۔ اجلاس میں قائد حزب اختلاف سینیٹ سینیٹر ڈاکٹر شہزاد وسیم، فیصل سلیم رحمان، کامل علی آغا، دلاور خان ،سیف اللہ ابڑو، شہادت اعوان، سیف اللہ سرور خان نیازی نے شرکت کی ،
اجلاس میں فوزیہ ارشد اور اعظم خان سواتی کے علاوہ ڈائریکٹر انتظامیہ آئی سی ٹی نے شرکت کی،
چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے داخلہ سینیٹر محسن عزیز کی جانب سے سینیٹر سیف اللہ نیازی کے گھر ایف آئی اے کا چھاپہ پرسوموٹو ایکشن،چیئرمین و اراکین کمیٹی کا متعلقہ اداروں کے نمائندوں کا کمیٹی اجلاس میں عدم شرکت پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔
سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا متعلقہ افسران کو کمیٹی اجلاس میں عدم شرکت پر سمن جاری کرنے کا فیصلہ کیا ۔
چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ قائمہ کمیٹی کیسوموار کو اجلاس میں استحقاق کی تحریک سمیت دیگر اختیارات پر عمل کیا جائیگا،سینیٹر سیف اللہ نیازی گزشتہ 26 سالوں سے سیاست میں متحرک ہیں،سیف اللہ نیازی کے ساتھ ایسا برتا کرناناقابل فہم ہے،گزشتہ چار ماہ میں پارلیمنٹرینز سے جو سلوک روا رکھا گیا وہ قابل مذمت ہے،سیکرٹری داخلہ کو آج کے کمیٹی اجلاس کے حوالے سے خط لکھا تھا،آئی جی اسلام آباد پولیس، ایف آئی اے، چیف کمشنر و دیگر کو بھی نوٹسز بجھوائے گئے،سب کو آگاہ بھی کیاگیا مگرکسی نے آنے کی زحمت نہیں کی،پارلیمنٹرین اورعوام کے ساتھ اداروں کے ایسے رویے کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔
سینیٹر محسن عزیز نے کہا کہ لوگوں کے گھروں میں بغیر وارنٹ گھسنا خلاف قانون ہے،ہر ایک کی چادر اورچار دیوار ی کے تقدس کو ملحوظ خاظر رکھنا چاہیے،اس موقع پر قائد حزب اختلاف سینیٹ سینیٹر ڈاکٹر شہزاد وسیم نے کہا،یہ انتہائی اہم کمیٹی ہے، آج قانون اور پارلیمنٹ کے تقدس کی دھجیاں اڑائی گئی ہیں،سینیٹرسیف اللہ نیازی جماعت کے اہم رکن ہیں،ان کے ساتھ ایسا ظالمانہ سلوک کرنا سمجھ سے بالاتر ہے،متعلقہ ادارے کے اہلکار خواتین کے بغیر بیڈ روم تک گھس گئے خواتین اور بچوں کو ہراساں کیا،
سینیٹر ڈاکٹر شہزاد وسیم نے کہا کہ پاکستان میں ایسے برے حالات کبھی نہیں دیکھے گئے جو آج کل دیکھے جا رہے ہیں،پارلیمنٹ، آزادی اظہار رائے اور شخصی آزادی کی باتیں کرنے والے آج کہاں گم ہو گئے ہیں،رنگیلا شاہی کے حالات بن چکے ہیں۔حکومت نام کی کوئی چیز کہیں نظر نہیں آتی،
اس حوالے سے سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے کہا کہجن اداروں کے نمائندوں کو طلب کیا گیا انہوں نے پارلیمنٹ کو اہمیت دینے کی زحمت ہی نہیں کی،ان کو سمن جاری کیے جائیں اور کمیٹی کے سامنے پیش کیاجائے،آئی جی اسلام آباد پولیس اور آئی جی پنجاب نے 25 مئی کوعوام سے جو سلوک کیا انتہائی قابل افسوس ہے،اس موقع پر سینیٹر اعظم خان سواتی نے کہا کہ ایوان بالا میں 18 سال ہوگئے،آج کل جو حالات دیکھے ہیں پہلے کبھی نہیں دیکھے،متعلقہ اداروں کے نمائندوں نے نہ صرف اس قائمہ کمیٹی بلکہ پورے ایوان کے تقدس کو مجروع کیا ہے،ان تمام متعلقہ افراد کے خلا ف سخت ایکشن ہونا چاہیے،ہماری روایات آئین و قانون پاکستان کے تحفظ سمیت عام عوام کے عزت و حرفت کو برقرار رکھنا ہوتا ہے،بغیر سرچ وارنٹ کے کسی کی چادر اور چار دیوار ی کے تقدس کو پامال کرنے کی قانون اجازت نہیں دیتا،اگر موجودہ سینیٹر کے ساتھ ایسا ظالمانہ رویہ اختیار کیاگیا ہے تو عام عوام کا کیا حال ہوگا۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔