ہومپاکستانپی ٹی آئی اور ق لیگ کی قیادت کی ملاقات،اندونی کہانی سب نیوز پر

پی ٹی آئی اور ق لیگ کی قیادت کی ملاقات،اندونی کہانی سب نیوز پر

اتحادی منانے کے مشن پر کام کرنے والی حکومتی ٹیم کو ایک بار پھر مسلم لیگ ق کی قیادت سے ساتھ جاری رکھنے کی ٹھوس ہاں نہ مل سکی۔ حکومتی رہنماں کی تمام وضاحتیں بیکار رہیں، ق لیگ نے حتمی یقین دہانی نہیں کروائی جس کے بعد حکومت اور اتحادی جماعت کے درمیان ایک اور ملاقات کا فیصلہ کیا گیا۔تحریک انصاف کے وائس چیئرمین وفاقی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور تحریک انصاف خیبر پختونخوا کے صدر وزیر دفاع پرویزخٹک نے سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویزالہی، وفاقی وزرا طارق بشیر چیمہ اور مونس الہی سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی۔

ملاقات خوشگوار ماحول میں ہوئی۔ اس دوران ملکی سیاسی صورتحال سمیت باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ شاہ محمود قریشی اور پرویز خٹک نے وزیراعظم عمران خان کا پیغام مسلم لیگی قیادت کو پہنچایا۔ملاقات میں گلے شکوے بھی ہوئے، ق لیگ کے رہنماں کا کہنا تھا کہ حکومت کے اتحادی ہیں لیکن ہر اہم موقع پر نظر انداز کیا گیا، سالک حسین کا حلقہ ہو یا طارق بشیر چیمہ کا ہمارے ساتھ اتحادیوں جیسا سلوک نظر نہیں آیا، حکومت کے ساتھ ساڑھے تین سال رہے لیکن اتحادی مشاورت میں کہیں شامل نہ تھے، اتحادی ہونے کے باوجود اپوزیشن جیسا درجہ دیا گیا۔طارق بشیر چیمہ نے ساڑھے تین سال میں پارٹی کو درپیش مسائل سے آگاہ کیا اور ان کے حل کیلئے کافی کھل کر بحث کی۔تحریک انصاف کے رہنماں کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان کو اس ساری صورتحال سے آگاہ کریں گے۔

حکومت اور مسلم لیگ ق کے درمیان ہونے والی ملاقات کا اعلامیہ جاری کر دیا گیا ہے۔اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ آئندہ ملاقات اسلام آباد میں ہوگی، حکومتی ٹیم مسلم لیگ ق کے تحفظات سے وزیر اعظم کو آگاہ کرے گی۔ملاقات کے دو دور ہوئے ق لیگ کی قیادت کا کہنا تھا کہ فی الحال عدم اعتماد کے معاملے پر تعاون کرنے یا نہ کرنے کے حوالے سے حتمی فیصلہ نہیں دے سکتے۔ شجاعت حسین اسلام آباد میں ہیں ان سے مشورہ کے بعد حتمی فیصلہ کریں گے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔