اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک )وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ مجھے بلاول کی بہت سی باتوں پر ہنسی آتی ہے خدا کیلئے بڑے ہوجائیں۔او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل کے اڑتالیسویں اجلاس اور ملکی سیاسی صورتحال پر اپنے بیان میں وزیر خارجہ نے کہا کہ او آئی سی اجلاس کی تیاریاں مکمل ہوچکی ہیں، چین کے وزیر خارجہ بطور مہمان خصوصی آج تشریف لارہے ہیں، مصرکے وزیر خارجہ تشریف لاچکے ہیں جب کہ بیشتر وزرائے خارجہ آج تشریف لے آئیں گے۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ 22 مارچ کو او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل کا 48واںاجلاس ہو گا، وزیر اعظم عمران خان اس اجلاس سے کلیدی خطاب کریں گے،شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اجلاس میں امت مسلمہ کو درپیش معاملات زیر بحث آئیں گے، 100 سے زائد قراردادیں پیش کی جائیں گی۔وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ او آئی سی کے اجلاس میں تشریف لانے والے وزرائے خارجہ 23 مارچ کو نیشنل ڈے پریڈ میں بطور مہمان خصوصی شرکت کریں گے،اس سے پاکستان کے وقار میں اضافہ ہو گا۔22 مارچ کو او آئی سی کی سربراہی ایک سال کے لئے پاکستان کو منتقل ہوجائیگی، اس اجلاس کی سائیڈ لائنز پر ہمیں دو طرفہ ملاقاتوں کا موقع بھی میسر آئے گا۔
ملکی سیاسی صورت حال پر شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہماری سیاسی کمیٹی کے اجلاس مسلسل ہو رہے ہیں، ہم تصادم نہیں چاہتے۔ ہم عدم اعتماد کا مقابلہ آئینی طریقے سے کریں گے، کسی رکن قومی اسمبلی کو ووٹ کاحق استعمال کرنے سے نہیں روکیں گے۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ نمبرز پورے کرنے کی ذمہ داری اپوزیشن کی ہے، اس کے لئے اپوزیشن ضمیر فروشی پر اترچکی ہے۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ سپریم کورٹ سے ہارس ٹریڈنگ ختم کرنے کے لئے رہنمائی چاہتے ہیں،یہ بھی رہنمائی لیں گے کہ کیا یہ ممبران تاحیات نااہل ہوں گے؟
شاہ محمود قریشی نے کہا کہ مجھے بلاول کی بہت سی باتوں پر ہنسی آتی ہے، وہ وقت کیساتھ ساتھ سیکھ جائیں گے۔پاکستان او آئی سی کا بانی رکن ہے، او آئی سی کیلئے ہر حکومت نے اپنے اپنے دور میں کردار ادا کیا ہے 19 دسمبر کو او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل کے غیر معمولی اجلاس کی کامیابی کا شرف ہمیں حاصل ہوا ، یہ کاوشیں کسی ایک جماعت کی نہیں، بلاول! خدا کیلئے بڑے ہوجائیں۔
