بیجنگ (ما نیٹر نگ ڈیسک)
چینی صدر شی جن پھنگ نے ویڈیو لنک کے ذریعے بیجنگ میں اپیک کے رہنماؤں کے 28ویں غیر رسمی اجلاس میں شرکت کی۔
شی جن پھنگ نے نشاندہی کی کہ اس سال اپیک میں چین کی شمولیت کی 30ویں سالگرہ ہے۔ ان 30 سالوں میں چین نے اصلاحات کو مزید گہرا کیا ہے اور کھلے پن کو وسعت دی ہے، اور 30 سال سے ایشیا پیسیفک اقتصادی تعاون میں بھی توسیع ہوتی رہی ہے۔ ایشیا بحرالکاہل دنیا میں ترقی کی سب سے زیادہ طاقت اورصلاحیت کا حامل خطہ بن گیا ہے۔ یہ ہمیشہ عالمی اقتصادی ترقی میں سب سے آگے رہا ہے اور اس نے عالمی اقتصادی ترقی اور خطے کے لوگوں کی خوشحالی میں مثبت کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں ” پتراجایا وژن 2040 کے” نفاذ کو آگے بڑھانا چاہیے اور ایک ہم نصیب ایشیا پیسیفک کمیونٹی کی تعمیر کرنی چاہیے جو کھلے پن ،اشراک، اختراعی ترقی، باہمی ربط، اور مشترکہ مفادات و تعاون کی حامل ہو۔
شی جن پھنگ نے کہا کہ کھلا پن ایشیا بحرالکاہل خطے میں تعاون کی شہ رگ ہے۔خطے میں کھلے پن پر مبنی تعاون قائم رکھنا اور “پتراجایا وژن 2040” کی روشنی میں خطے میں اقتصادی یکجہتی کو آگے بڑھانا ہوگا تاکہ اس خطے میں جلد از جلد آزاد تجارتی زون قائم کی جائے ۔
شی جن پھنگ نے نشاندہی کی کہ حقیقی کثیرالجہت پسندی پر عمل درآمد کیا جانا چاہیے۔ مقابلے کی بجائے مذاکرات پر عمل پیرا رہنا چاہیے ،دوسروں کو علیحدہ یا تنہا کرنے کی بجائے کھلے رویے اور انضمام پر قائم رہنا چاہیے نیز عالمی تجارتی تنظیم کے مرکز پر قائم کثیرالجہت تجارتی نظام کا تحفظ کیا جانا چاہیے۔
شی جن پھنگ نے نشاندہی کی کہ اختراع ،عالمی ترقی کی اہم قوت محرکہ ہے۔اختراع کی سمت آگےبڑھتے ہوئے ڈیجیٹل معیشت کو فروغ دینا چاہیے ، بنیادی ڈیجیٹل تنصیبات کی تعمیر کو مضبوط بنانا چاہیے ،ڈیجیٹل خلا کو پر کرنے کی بھر پور کوشش کرنی چاہیے اور ڈیجیٹل معیشت کی جامع ترقی کو فروغ دینا چاہیے ۔ چین ڈیجیٹل دور میں باہمی روابط کو فروغ دینے میں پہل کرتا ہے اور ڈیجیٹل اقتصادی تعاون کو مضبوط بنانے کی حمایت کرتا ہے۔چین نے “ڈیجیٹل معیشت کے شراکت داری تعلقات کے معاہدے” میں شرکت کی درخواست بھی پیش کی ہے۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ رواں سال کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کے قیام کی سوویں سالگرہ ہے۔چینی عوام کی خوشحالی اور عالمی امن و ترقی ،سی پی سی کا ہدف رہا ہے۔ موجودہ دور میں چین نے جدید جامع سوشلسٹ ملک کی تعمیر کا آغاز کیا ہے۔چین کھلے پن کو برقرار رکھتے ہوئے دنیا اور ایشیا و بحرالکاہل خطے کے اراکین سے چین کے ترقیاتی مواقع بانٹے گا۔
شی جن پھنگ نے کہا کہ معیشت اور ٹیکنالوجی کا تعاون اپیک تعاون کا اہم حصہ ہے جس میں مزید سرمایہ کاری کی جانی چاہیئے تاکہ ترقی پذیر اراکین اس سے استفادہ کر سکیں اور خطے کی ترقی و خوشحالی کے لیے نئی قوت محرکہ فراہم کی جاتی رہے ۔
