تل ابیب/انقرہ: شام کے ایک ایئربیس پر اسرائیلی حملے کے بعد اسرائیل اور ترکیہ کے درمیان کشیدگی بڑھ گئی ہے۔
اسرائیل نے ترکیہ پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ شام میں ایک فوجی اڈے پر اپنے فوجی تعینات کرنے کی تیاری کر رہا تھا جسے اسرائیل اپنے لیے خطرہ قرار دے رہا ہے۔
اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے دفتر کے مطابق اسرائیل اور شام نے سکیورٹی معاملات میں موجودہ صورتحال برقرار رکھنے پر اتفاق کیا تھا، تاہم شام کی جانب سے حلب کے قریب ایک ایئربیس پر ترک فوجیوں کی ممکنہ تعیناتی اس سمجھوتے کی خلاف ورزی کے قریب پہنچ گئی تھی۔
اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس نے شام کو متعدد مرتبہ خبردار کیا تھا کہ ترک فوجیوں کی تعیناتی اسرائیلی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتی ہے، لیکن شام نے ان انتباہات کو نظر انداز کیا۔
دوسری جانب ترکیہ نے اسرائیل کے الزامات کو مسترد کردیا ہے۔ ترک حکام نے کہا ہے کہ ترکیہ شام کے کسی ایئربیس پر فوجی تعیناتی کے ذریعے اسرائیل کے لیے خطرہ پیدا کرنے کی تیاری نہیں کر رہا تھا۔
اس حملے کی خاص اہمیت اس لیے بھی ہے کہ امریکا نے اسرائیل کے اس اقدام پر تنقید کرتے ہوئے حملے کی ذمہ داری اپنے اتحادی اسرائیل پر عائد کی ہے۔ یہ صورتحال خطے میں اسرائیل، ترکیہ اور شام کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کی نشاندہی کرتی ہے۔
شام کے ایئربیس پر حملے کے بعد اسرائیل اور ترکیہ آمنے سامنے
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
