ہومکالم وبلاگزشکر — جو ہمارے پاس ہے، کیا ہم اسے دیکھتے ہیں؟

شکر — جو ہمارے پاس ہے، کیا ہم اسے دیکھتے ہیں؟

تحریر: شاہد زمان

ہم میں سے اکثر لوگ موبائل کی بیٹری کم ہونے پر فوراً چارجر تلاش کرنے لگتے ہیں۔ گاڑی میں پٹرول ختم ہونے لگے تو پریشانی شروع ہو جاتی ہے۔ گھر کی بجلی چلی جائے تو احساس ہوتا ہے کہ اس سہولت کی ہمارے لیے کتنی اہمیت تھی۔

لیکن ایک لمحے کے لیے سوچیے: کیا ہم نے کبھی اپنی صحت، آنکھوں کی روشنی، سانسوں کی روانی، گھر کی چھت، خاندان کی محبت اور روزمرہ کی چھوٹی چھوٹی سہولتوں کی قدر بھی اسی طرح محسوس کی ہے؟

حقیقت یہ ہے کہ ہم اکثر اس چیز کی اہمیت اس وقت سمجھتے ہیں جب وہ ہماری دسترس سے نکلنے لگتی ہے۔ جو نعمت روز ہمارے ساتھ رہتی ہے، وہ ہمیں معمولی محسوس ہونے لگتی ہے۔

ہماری نگاہ اکثر اس چیز پر رہتی ہے جو ہمارے پاس نہیں، اور ہم اس پر کم توجہ دیتے ہیں جو پہلے ہی ہماری زندگی میں موجود ہے۔

یہیں سے شکر کا سوال پیدا ہوتا ہے: جو ہمارے پاس ہے، کیا ہم اسے دیکھتے بھی ہیں؟

شکر کسے کہتے ہیں؟

شکر کا مطلب صرف زبان سے اللہ کا شکر ادا کرنا نہیں، بلکہ دل سے نعمت کو پہچاننا، اس کی قدر کرنا، اسے عطا کرنے والے کا اعتراف کرنا اور اس نعمت کو درست طریقے سے استعمال کرنا بھی ہے۔

سادہ الفاظ میں شکر کے تین پہلو ہیں:

پہلا: دل سے احساس۔
انسان یہ سمجھے کہ اس کی زندگی میں جو کچھ اچھا موجود ہے، وہ سب محض اس کا اپنا کمال نہیں۔ اس میں اللہ کی عطا بھی شامل ہے اور بہت سے لوگوں کی محنت، محبت اور تعاون بھی۔

دوسرا: زبان سے اعتراف۔
اللہ کے حضور الحمدللہ کہنا، والدین، شریکِ حیات، استاد، دوست، ساتھی یا کسی مدد کرنے والے شخص کا شکریہ ادا کرنا۔

تیسرا: عمل سے قدر۔
صحت ملی ہے تو اسے ضائع نہ کریں، علم ملا ہے تو اسے دوسروں کے فائدے کے لیے استعمال کریں، مال ملا ہے تو اسے ذمہ داری سے خرچ کریں، کسی کا تعاون حاصل ہوا ہے تو موقع آنے پر دوسروں کے کام آئیں۔

صرف زبان سے شکر ادا کرنا اچھی ابتدا ہے، لیکن شکر کا حقیقی حسن اس وقت سامنے آتا ہے جب ہمارے رویّے اور عمل میں بھی اس کا اثر دکھائی دے۔

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

لَئِنْ شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ

مفہوم: اگر تم شکر ادا کرو گے تو میں تمہیں اور زیادہ عطا کروں گا۔ (سورۃ ابراہیم، آیت 7)

اس اضافے کو صرف مال و دولت تک محدود نہ سمجھیے۔ کبھی انسان کے پاس وسائل کم ہوتے ہیں، لیکن دل میں اطمینان، رشتوں میں محبت اور زندگی میں برکت زیادہ ہوتی ہے۔ شکر انسان کو نعمت کی قدر سکھاتا ہے اور اس کی نگاہ کو محرومی کے احساس سے نکال کر موجود نعمتوں کی طرف متوجہ کرتا ہے۔

انسان کب شکر کرنا سیکھتا ہے؟

اکثر انسان کو کسی نعمت کی قدر اس وقت ہوتی ہے جب وہ نعمت خطرے میں پڑ جائے یا اس سے محروم ہونا پڑے۔

صحت مند شخص بیماری دیکھ کر صحت کی اہمیت سمجھتا ہے۔ مصروف زندگی میں گھر والوں کو وقت نہ دینے والا شخص کبھی کسی جدائی کے بعد ان کی موجودگی کی قدر محسوس کرتا ہے۔ روزگار رکھنے والا شخص بے روزگار ہونے کے بعد اپنی ملازمت کی اہمیت سمجھتا ہے۔

لیکن کیا شکر سیکھنے کے لیے کسی نعمت کے چھن جانے کا انتظار ضروری ہے؟

نہیں!

سمجھ دار انسان وہ ہے جو محرومی کا تجربہ ہونے سے پہلے ہی موجود نعمتوں کی قدر کرنا سیکھ لے۔

ہمیں کبھی اپنی زندگی کا موازنہ کسی ایسے شخص سے بھی کرنا چاہیے جس کے پاس وہ سہولتیں نہیں جو ہمیں حاصل ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے دنیاوی معاملات میں اپنے سے کم حیثیت رکھنے والوں کو دیکھنے کی تعلیم دی، تاکہ انسان اللہ کی عطا کردہ نعمتوں کو حقیر نہ سمجھے۔ (صحیح مسلم، حدیث 2963)

اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم اپنی ترقی کی خواہش چھوڑ دیں یا مشکلات کے حل کی کوشش نہ کریں۔ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ بہتر مستقبل کی کوشش کرتے ہوئے موجود نعمتوں کو فراموش نہ کریں۔

یاد رکھیے، شکر اور کوشش ایک دوسرے کے مخالف نہیں۔ انسان شکر گزار بھی ہو سکتا ہے اور اپنی زندگی بہتر بنانے کے لیے جدوجہد بھی کر سکتا ہے۔

شکر اور شکریہ میں کیا فرق ہے؟

ہمارے روزمرہ کے بول چال میں شکر اور شکریہ ایک دوسرے سے جڑے ہوئے الفاظ ہیں، لیکن ان کے استعمال اور مفہوم میں ایک اہم فرق ہے۔

شکریہ عموماً کسی شخص کے تعاون، مدد، محبت یا مہربانی کے جواب میں ادا کیا جانے والا اظہار ہے۔

کسی نے راستہ بتایا، کسی نے مشکل وقت میں ساتھ دیا، کسی نے ہماری بات سنی، کسی نے ہمارے لیے وقت نکالا؛ ہم کہتے ہیں: شکریہ!

جبکہ شکر اس سے وسیع تر کیفیت ہے۔ یہ دل کا احساس، زبان کا اعتراف اور عمل کا رویّہ ہے۔ انسان اللہ کی نعمتوں پر شکر ادا کرتا ہے اور لوگوں کے احسان کا اعتراف بھی کرتا ہے۔

یوں سمجھ لیجیے:

شکریہ شکر کے اظہار کا ایک طریقہ ہے، مگر شکر صرف شکریہ کہہ دینے کا نام نہیں۔

مثلاً کوئی شخص ہمارے لیے وقت نکالے، ہم اس کا شکریہ ادا کریں، لیکن بعد میں اس کی ضرورت کے وقت اسے نظر انداز کر دیں تو ہمارے الفاظ اور عمل میں فرق رہ جائے گا۔

اسی طرح ہم روزانہ الحمدللہ کہتے رہیں، لیکن اپنی صحت، وقت، علم اور صلاحیتوں کو مسلسل ضائع کرتے رہیں تو ہمیں اپنے شکر کے عملی پہلو پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔

کیا احسان کرنے والے کے ہم تاحیات مقروض ہو جاتے ہیں؟

یہ ایک نہایت اہم سوال ہے۔

زندگی میں بہت سے لوگ ہمارے لیے آسانیاں پیدا کرتے ہیں۔ کسی نے مشکل وقت میں مالی مدد کی، کسی نے ملازمت کے لیے سفارش کی، کسی نے تعلیم حاصل کرنے میں رہنمائی کی، کسی نے ہماری غلطی کی نشاندہی کی، اور کسی نے ضرورت کے وقت ہمارا ہاتھ تھاما۔

کچھ احسان ایسے ہوتے ہیں جنہیں انسان عمر بھر یاد رکھتا ہے۔

رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے:

مَنْ لَا يَشْكُرُ النَّاسَ لَا يَشْكُرُ اللَّهَ

مفہوم: جو لوگوں کا شکر ادا نہیں کرتا، وہ اللہ کا شکر ادا نہیں کرتا۔ (جامع ترمذی، حدیث 1954؛ امام ترمذی نے اسے حسن صحیح کہا ہے۔)

اس تعلیم سے معلوم ہوتا ہے کہ لوگوں کے احسان کا اعتراف بھی ہماری اخلاقی ذمہ داری ہے۔

لیکن کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ جس شخص نے کبھی ہماری مدد کی ہو، ہم ساری زندگی اس کے ہر حکم کے پابند ہو جائیں؟ کیا وہ جب چاہے اپنے احسان کا حوالہ دے کر ہم سے کوئی بھی مطالبہ کر سکتا ہے؟

یقیناً نہیں!

احسان مندی کا مطلب احسان کو یاد رکھنا ہے، اپنی خودداری اور اصولوں کو ہمیشہ کے لیے کسی کے حوالے کر دینا نہیں۔

جس شخص نے ہماری مدد کی، ہم اس کے لیے دل میں احترام رکھیں، اس کا شکریہ ادا کریں، موقع ملنے پر اس کا احسان لوٹائیں، اس کے لیے دعا کریں اور کسی دوسرے ضرورت مند کے کام آ کر نیکی کے اس سلسلے کو آگے بڑھائیں۔

لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم کسی کی ناجائز بات ماننے، غلط کام کرنے یا اپنی جائز حدود اور حقوق سے دستبردار ہونے کے پابند ہو جائیں۔

قرآن مجید نے والدین کے ساتھ احسان اور شکرگزاری کی تاکید کی ہے، لیکن ساتھ یہ اصول بھی واضح کیا ہے کہ اگر والدین کسی غلط عقیدے یا نافرمانی کی طرف مجبور کریں تو ایسی بات نہ مانی جائے، تاہم دنیا میں ان کے ساتھ اچھا برتاؤ جاری رکھا جائے۔ (سورۃ لقمان، آیات 14-15)

یہ ہمیں ایک متوازن سبق دیتا ہے: احترام بھی، احسان شناسی بھی، مگر اصولوں اور درست راستے پر قائم رہنا بھی۔

کسی کا احسان ماننا ہماری اچھائی ہے، لیکن احسان کو کسی کی زندگی پر مستقل اختیار کا ذریعہ بنا دینا درست نہیں۔

اور جو شخص کسی پر احسان کرے، اسے بھی چاہیے کہ اس احسان کو طعنہ، دباؤ یا اپنی برتری جتانے کا ذریعہ نہ بنائے۔

شکر کو اپنی عادت کیسے بنائیں؟

اس کے لیے کسی بڑے فلسفے یا مشکل مشق کی ضرورت نہیں۔ روزمرہ زندگی میں چند چھوٹی تبدیلیاں کافی ہیں۔

1۔ دن کا آغاز نعمتوں کو پہچان کر کریں۔
صبح اٹھتے ہی صرف یہ نہ سوچیں کہ آج کون سے کام کرنے ہیں۔ ایک لمحہ رک کر اپنی زندگی کی تین ایسی نعمتیں یاد کریں جن پر آپ شکر ادا کر سکتے ہیں۔

2۔ شکریہ کہنے میں دیر نہ کریں۔
گھر کے فرد، ملازم، ساتھی، دوست یا کسی اجنبی نے آپ کے لیے معمولی سی آسانی بھی پیدا کی ہو تو اسے نظر انداز نہ کریں۔ خلوص سے شکریہ کہیں۔

3۔ ماضی کے احسان یاد رکھیں۔
زندگی میں جن لوگوں نے آپ کی رہنمائی، مدد یا حوصلہ افزائی کی، کبھی انہیں یاد کر کے پیغام بھیج دیں۔ بعض اوقات ایک سچا جملہ کسی کے لیے بڑی خوشی کا باعث بن جاتا ہے۔

4۔ اپنی نعمت دوسروں کے کام لائیں۔
آپ کے پاس علم ہے تو کسی کو سکھائیں، وقت ہے تو کسی کی بات سنیں، مالی استطاعت ہے تو ضرورت مند کی مدد کریں۔ نعمت کی قدر اس کے اچھے استعمال سے بھی ظاہر ہوتی ہے۔

5۔ محرومی کے بجائے موجود وسائل سے آغاز کریں۔
جو نہیں ہے اس کی کوشش ضرور کریں، لیکن جو موجود ہے اسے بے قدر نہ سمجھیں۔ ایک چھوٹا قدم بھی بڑی تبدیلی کی ابتدا بن سکتا ہے۔

آخر میں، ایک سوال اپنے آپ سے!

کیا ہم نے کبھی اپنی زندگی میں موجود لوگوں اور نعمتوں کی فہرست بنائی ہے؟ کیا ہم نے ان لوگوں کو کبھی دل سے شکریہ کہا ہے جنہوں نے کسی مشکل وقت میں ہمارا ساتھ دیا؟ کیا ہم نے کبھی یہ سوچا ہے کہ ہماری اپنی زندگی میں کتنے لوگ ہماری وجہ سے آسانی محسوس کرتے ہیں؟

شاید شکر کا ایک خوبصورت پہلو یہی ہے کہ انسان صرف یہ نہ دیکھے کہ اسے دوسروں سے کیا ملا، بلکہ یہ بھی سوچے کہ وہ دوسروں کو کیا دے رہا ہے۔

میں آج اپنے لیے یہ عہد کرتا ہوں کہ اپنی توجہ صرف ان چیزوں پر نہیں رکھوں گا جو ابھی حاصل نہیں ہوئیں، بلکہ ان نعمتوں کی قدر بھی کروں گا جو پہلے سے میری زندگی کا حصہ ہیں۔ اللہ کا شکر ادا کروں گا، لوگوں کے احسان کو یاد رکھوں گا، شکریہ کہنے میں بخل نہیں کروں گا اور اپنی استطاعت کے مطابق کسی دوسرے کی زندگی میں آسانی پیدا کرنے کی کوشش کروں گا۔

کیونکہ زندگی کی خوشی صرف مزید حاصل کرنے میں نہیں، بلکہ جو کچھ ہمارے پاس ہے اسے پہچاننے، اس کی قدر کرنے اور دوسروں کے ساتھ بانٹنے میں بھی ہے۔

یاد رکھیے: جس دن انسان نے اپنی محرومیوں کے ساتھ ساتھ اپنی نعمتوں کو بھی دیکھنا شروع کر دیا، اسی دن اس کے اندر شکر، اطمینان اور خوشی کا ایک نیا سفر شروع ہو سکتا ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔